پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: اظہر علی اور اسد شفیق 'بڑے' ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیا اظہر علی اور اسد شفیق پاکستانی بیٹنگ کے مرکزی ستون ثابت ہو سکیں گے؟

گذشتہ سال مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے وقت ایک بحث نے بہت زور پکڑا۔

بعض مبصرین کا خیال تھا کہ دونوں کو بیک وقت ریٹائر نہیں ہونا چاہیے کہ مبادا ٹیم کسی بحران میں گِھر جائے۔ ایک تجویز یہ بھی عام ہوئی کہ مصباح نہ بھی سہی، کم از کم یونس خان ایک سال مزید اس ڈریسنگ روم کا حصہ رہیں۔

مگر بات جب خبر بنانے والے صحافیوں کے ہتھے چڑھی تو ردِعمل ایسا آیا کہ ایک ویڈیو پیغام میں یونس خان نے نہایت جذباتی سی تقریر کر ڈالی۔

نیوزی لینڈ 48 رنز پیچھے، دو کھلاڑی پویلین واپس

اس ویڈیو پیغام کے بعد یہ ساری بحث یکسر ہوا ہو گئی اور دونوں لیجنڈز اعلان کردہ تاریخ پہ ہمیشہ کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ سے رخصت ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصباح الحق اور یونس خان نے مئی 2017 میں کرکٹ سے ریٹائیرمنٹ اختیار کر لی تھی

بجائے خود اس بحث میں کوئی قباحت نہیں تھی۔ ان دونوں کی ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ قبل ہی سری لنکن ٹیم کی مثال سامنے تھی جہاں سنگاکارا اور جیاوردھنے کی بیک وقت ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیم اچانک ناپختگی کا مظہر بن گئی تھی۔

لیکن انضمام الحق اور مِکی آرتھر بھی اپنی جگہ درست تھے کہ کب تک بیٹنگ لائن دو سینئرز کے گرد ہی گھومتی رہے گی۔ اظہر علی اور اسد شفیق بھی تو اب سینئرز ہی ہو چکے ہیں۔ یہ دونوں بھی تو اس بیٹنگ لائن کی لاج رکھنے کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔

مگر فوری طور پہ یہ امیدیں بار آور ثابت نہ ہو سکیں۔ دونوں سینئرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس ڈریسنگ روم کا اعتماد اور وقار پہلے سا نہ رہا۔ جہاں پاکستان سات سال تک ناقابلِ شکست رہا تھا، انہی کنڈیشنز میں مصباح اور یونس کے بغیر پہلی سیریز میں ہی ہزیمت پاکستان کا مقدر ٹھہری اور سری لنکا کی نو آموز ٹیم کلین سویپ کر گئی۔

جب مصباح الحق اور یونس خان ریٹائر ہوئے

الوداع مصباح، الوداع یونس

مصباح اور یونس ستارے نہیں، استعارے تھے

بڑے کپتان کے پاس بڑا کھلاڑی تھا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسد شفیق نے 103 رنز بنائے

سینئرز کی ریٹائرمنٹ سے چند ماہ پہلے اسد شفیق نے دسمبر 2016 ایڈیلیڈ کے میدان میں ایک یادگار اننگز کھیلی تھی لیکن اس کے بعد بدھ کی اننگز تک انہوں نے کوئی سینچری نہیں کی تھی۔ کچھ قابلِ ذکر اننگز ضرور کھیلیں مگر وہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی پہ کوئی خاص تاثر نہ جما پائیں۔

دوسری جانب اظہر علی نے مصباح کی کپتانی میں کئی ایک یادگار اننگز کھیلیں، آسٹریلیا میں ڈبل اور متحدہ عرب امارات میں ٹرپل سینچری بھی بنائی۔ مصباح کی آخری سیریز میں بھی اظہر علی نے ایک سینچری بنائی تھی اور اس کے بعد بھی کئی اچھی باریاں کھیلیں لیکن کوئی ایسی لمبی اننگز نہ کھیل سکے جو میچ کا پانسہ ہی پلٹ دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اظہر علی نے 134 رنز بنائے

آخری ٹیسٹ میچ کے پہلے دن جب نیوزی لینڈ یاسر شاہ کے نہایت حملوں کی تاب لانے کی کوشش کر رہا تھا، تب کافی حد تک یہ خدشات چھٹ چکے تھے کہ اس بار کم از کم پچھلے ابوظہبی ٹیسٹ کی سی کیفیت نہ ہو گی کہ چوتھی اننگز میں کوئی بڑا ہدف سامنے آ جائے۔

مگر پھر بھی کیویز ایک قابلِ ذکر ٹوٹل ترتیب دینے میں کامیاب رہے کیونکہ اس وکٹ پہ پہلی اننگز میں تین سو کے قریب پہنچ جانا بڑی بات تھی۔ تب ضروری یہ تھا کہ پاکستان جواب میں برابری نہیں، اچھی برتری حاصل کرے۔

اس صورت حال میں جب اظہر علی اور اسد شفیق پہ ذمہ داری آ پڑی تو یہ طے ہو گیا تھا کہ انہی دونوں کی اننگز اس میچ کا رخ متعین کریں گی۔ اور خدشات کے برعکس، اس ذمہ داری کے احساس میں یہ دونوں بلے باز ایسے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے کہ کیوی بولرز کو وکٹوں کی قحط سالی میں مبتلا کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان دونوں کے مابین 201 رنز کی شراکت قائم ہوئی

اظہر علی اور اسد شفیق کی پارٹنرشپ میچ کے ماحول پہ ایسے طاری ہوئی کہ تیس اوورز پہ محیط ایک فیز آیا جہاں وکٹ بالکل بنجر سی لگنے لگی۔ کیوی بولرز اچھی بولنگ کرتے رہے مگر سٹمپس کے دفاع میں دونوں ڈٹ کر کھڑے رہے اور دو لمبی اننگز پاکستان کے کھاتے میں ڈال دیں۔

یہ بات بہر حال قابلِ بحث ہے کہ ان دونوں کے کریز سے جاتے ہی ایسی ٹوٹ پھوٹ کیوں شروع ہوگئی کہ صرف 62 رنز کے عوض چھ وکٹیں گر گئیں۔ مگر فی الوقت پاکستانی ڈریسنگ روم کے لیے خوشی کا وقت ہے کہ ساؤتھ افریقہ کے کڑے امتحان سے پہلے ہی اظہر علی اور اسد شفیق 'بڑے' ہو گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں