نیوزی لینڈ بمقابلہ پاکستان: پاکستانی بیٹگ ریت کی دیوار ثابت ہوئی، نیوزی لینڈ کی 123 رنز سے جیت

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیوزی لینڈ نے 2-1 سے سیریز جیت لی ہے

ابوظہبی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے فیصلہ کن میچ کے آخری روز پاکستانی بیٹنگ لائن 280 رنز کے ہدف کا تعاقب میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی اور 123 رنز سے میچ ہار گئی۔

اس شکست کے نتیجے میں کیویز نے 49 سال بعد پہلی بار اپنے میدان سے باہر پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں فتح حاصل کی ہے۔

کیویز کی جانب سے کپتان کین ولیمسن کو ان کی شاندار سنچری کے صلے میں مین آف دا میچ کا اعزاز ملا جبکہ پاکستان کے یاسر شاہ کو مین آف دا سیریز کا اعزاز ملا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

پاکستان کا آخری اننگز میں کھیلنے کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور خدشہ تھا کہ کہیں ایسا دوبارہ نہ ہو جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کو امید تھی کہ وہ کیوی بیٹنگ کو آج صبح قابو میں رکھیں گے لیکن ہینری نکولز نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

ولیمسن دن کی پہلی گیند پر آؤٹ ہو گئے لیکن اس کے بعد اگلے نو اوورز میں کیویز نے 81 رنز بٹورے اور پاکستان کو 79 اوورز میں 280 رنز کا ہدف دیا۔

جواب میں پاکستان کی بیٹنگ نے ایک بار پھر شائقین کی امیدوں کو دغا دیا اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد حفیظ اپنے ٹیسٹ کیریئر کی آخری اننگز میں صرف آٹھ رنز بنا سکے

اپنا آخری میچ کھیلنے والے محمد حفیظ نے حسب معمول ویسی ہی بیٹنگ کی جس سے ان کا کیریئر اٹا پڑا ہے اور 20 گیندوں پر آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

اظہر علی کی موجودگی پر پاکستان کو بھروسے تھا کہ وہ سیریز میں اپنی فارم کو برقرار رکھیں گے لیکن وہ بھی پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد پہلا میچ کھیلنے والے ولیم سومرویل نے لگاتار دو گیندوں پر حارث سہیل اور اسد شفیق کو آؤٹ کر دیا جس سے یہ بات تو طے ہو گئی تھی کہ پاکستان اب میچ جیت نہیں سکتا اور ڈرا کرنا ہی ان کے لیے بڑا کارنامہ ہوگا۔

لیکن جب کھانے کے وقفے سے ایک اوور پہلے اعجاز پٹیل نے 22 رنز بنانے والے امام الحق کو آؤٹ کیا تو 55 کے مجموعی سکور پر پاکستان کی نصف ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی اور جیت کے ساتھ ساتھ ڈرا کرنے کی بھی امیدیں تقریباً معدوم ہو گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کپتان سرفراز 28 رنز بنا سکے

اس موقع پر جب کپتان سرفراز اور بابر اعظم کے درمیان 43 رنز کی شراکت قائم ہوئی تو ایک بار پھر امید کی رمق جاگی کے شاید کوئی معجزہ ہو جائے لیکن کپتان سرفراز 98 کے مجموعی سکور پر 28 رنز بنا کر اعجاز پٹیل کی گیند پر کیچ ہو گئے۔

اس کے بعد 33 رنز کی شراکت قائم کرنے کے بعد بلال آصف پاکستان کی جانب سے آؤٹ ہونے والے ساتویں کھلاڑی بن گئے جب وہ 12 رنز بنا کر کیپر واٹلنگ کو کیچ دے بیٹھے۔

اس کے پانچ رنز بعد یاسر شاہ بھی ساؤتھی کی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

بابر اعظم نے اچھا کھیل پیش کیا اور اپنی نصف سنچری مکمل کر لی لیکن اس کے فوراً بعد انھوں نے بھی ایک غیر ذمےدارانہ شاٹ کھیل کر اپنی وکٹ گنوا دی۔

آخری آوٹ ہونے والے حسن علی تھے جن کا کیچ کپتان کین ولیمسن نے ہی لیا۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹم ساؤتھی، اعجاز پٹیل اور ولیم سومرویل تینوں نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگز 353 رنز سات کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر دی ہے۔ جب نیوزی لینڈ نے اننگز ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس وقت ہینری نکولز 126 اور ٹم ساؤتھی 15 کے انفرادی سکور کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔

دوسری اننگز میں پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے چار، شاہین شاہ آفریدی نے دو اور حسن علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

جمعے کو نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگز 272 رنز چار کھلاڑی آؤٹ پر دوبارہ شروع کی تو سکور میں بغیر کسی رن کے اضافے کے پاکستان کو پہلی کامیابی مل گئی جب حسن علی نے کین ولیمسن کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا، انھوں نے 139 کی عمدہ اننگز کھیلی۔

334 کے مجموعی سکور پر یاسر شاہ نے گرینڈہوم کو پویلین کی راہ دکھائی، انھوں نے 26 رنز بنائے۔ اس کی اگلی ہی گیند پر بی جے واٹلنگ کو بھی یاسر شاہ نے بولڈ کر دیا۔

اس سے قبل میچ کے چوتھے روز کے اختتام پر نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 272 رنز بنائے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن اور ہینری نکولز کے درمیان 212 رنز کی شراکت ہوئی

یاد رہے کہ پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 348 رنز پر آؤٹ ہوئی جس میں خاص بات اظہر علی اور اسد شفیق کی ڈبل سنچری کی شراکت تھی۔ ان دونوں نے اپنی اپنی انفرادی سنچری بھی مکمل کی لیکن دوسری جانب نیوزی لینڈ کے سپنرز نے زبردست کارکردگی دکھاتے ہوئے کم بیک کیا اور پاکستان کی آخری سات وکٹیں صرف 62 رنز کے عوض حاصل کر لیں۔

ابوظہبی میں ہی کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو چار رنز سے شکست دی تھی جبکہ دبئی میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ایک اننگز اور 16 رنز سے زیر کر کے سیریز برابر کر دی تھی۔

ٹیسٹ سیریز سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹی 20 اور تین ہی ایک روزہ میچوں کی سیریز بھی کھیلی گئی تھی جس میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ٹی 20 میچوں کی سیریز میں تین صفر سے شکست دی جبکہ ون ڈے سیریز ایک، ایک میچ سے برابر رہی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں