’ٹیسٹ کی کپتانی سرفراز کے بس کی بات نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرفراز احمد 28 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے

انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کا کوئی میچ چل رہا تھا۔ سنیل گواسکر کمنٹری مائیک پہ تھے۔ گفتگو ہو رہی تھی ٹی ٹؤنٹی لیگز کے اثرات پہ اور ساتھی کمنٹیٹر کا یہ کہنا تھا کہ آئی پی ایل نے انڈیا کے لیے سلیکشن کے آپشنز بڑھا دیے ہیں اور کئی ایک اچھے پلئیرز دیے ہیں۔

سنیل گواسکر پوری بات سننے کے بعد گویا ہوئے، 'بجا کہا کہ کئی ایک اچھے پلئیرز ان ٹی ٹؤنٹی لیگز نے پیدا کیے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ٹی ٹؤنٹی کا بہترین پلئیر بھی ون ڈے کا اچھا پلئیر نہیں بن سکتا، نہ ہی ون ڈے کا اچھا پلئیر ٹیسٹ کا کھلاڑی بن سکتا ہے۔ جب کہ ٹیسٹ کرکٹ جو پلئیر پیدا کرتی ہے، ان میں پوری صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ مختصر فارمیٹ کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔'

سنیل گواسکر کی یہ تھیوری ہرگز کسی مفروضے پہ مبنی نہیں ہے۔ ریاضیاتی پیمانے سے ہی جانچا جائے تو تین گھنٹے کے کھیل میں ماہر پلئیر کے لیے واقعی یہ مشکل ہوتا ہے کہ وہ آٹھ گھنٹے کے کھیل میں اپنے مزاج پہ قابو رکھ سکے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

پاکستانی بیٹنگ مکمل ناکام، کیویز کی 123 رنز سے جیت

اظہر علی اور اسد شفیق 'بڑے' ہو گئے

ایک دن کے کھیل کا ماہر جب پانچ روزہ کرکٹ میں اترے گا تو اس کے لیے بھی اپنے اعصاب مجتمع رکھنا بہت دشوار ہو گا۔

پاکستان کرکٹ نے بہرطور اس مروجہ دانش کے برخلاف ٹی ٹؤنٹی کو بنیاد بنا کر ون ڈے اور ٹیسٹ کی نہ صرف ٹیمیں تشکیل دے دیں بلکہ کپتانی کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کیا۔

سرفراز احمد ٹی ٹؤنٹی کے بہترین کپتان ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت جب انہوں نے سنبھالی تو بجا طور پہ ٹی ٹؤنٹی میں آفریدی کے بعد انہیں قومی ٹیم کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ بالکل درست تھا۔ رینکنگ بھی اس کی دلیل ہے۔

جب ون ڈے ٹیم اظہر علی سے سنبھل نہیں پا رہی تھی تو ون ڈے ٹیم کی باگ ڈور بھی سرفراز کو تھمانے کا فیصلہ ہوا۔ یہ فیصلہ بھی گزشتہ دو سال میں اپنی درستگی کا ثبوت دے چکا ہے کہ ون ڈے ٹیم کی کارکردگی گزشتہ پانچ سال سے خاصی بہتر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قیادت ملنے کے بعد اب تک سرفراز احمد نے پانچ ٹیسٹ سیریز میں سے دو میں جیت حاصل کی ہے

مگر ون ڈے کے ساتھ ہی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی بھی اظہر علی سے لے کر سرفراز کو دے دی گئی۔ مینیجمنٹ کا خیال تھا کہ ہر فارمیٹ میں یکساں کپتان کی موجودگی سے ڈریسنگ روم کا ڈسپلن برقرار رہے گا اور دھڑے بندی نہیں ہو گی۔

یہ موقف اصولی طور پہ بالکل درست تھا کہ تینوں فارمیٹ میں ایک ہی کپتان کی موجودگی سے ڈریسنگ روم میں غیر نصابی سرگرمیوں کی بیخ کنی ہو گی مگر یہ فیصلہ کرتے وقت نہ تو کسی نے یہ سوچا نہ ہی پوچھا کہ اگر بلاوجہ اظہر علی کو ٹیسٹ کی کپتانی سے ہٹانا ہی ہے تو پچھلے پانچ سال سے مصباح کا نائب کپتان ان کو کیوں رکھا گیا تھا؟

سو یہ سرفراز ہی نہیں، کرکٹ کی مروجہ دانش کے لیے بھی یہ بہت بڑا سوال تھا کہ آیا اچھا ٹی ٹؤنٹی کپتان ٹیسٹ ٹیم کے لیے بھی اچھا لیڈر ثابت ہو سکتا ہے؟

قیادت ملنے کے بعد اب تک سرفراز احمد نے پانچ ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں۔ ان میں سے وہ صرف دو جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان میں سے بھی ایک سیریز آئرلینڈ کے خلاف صرف ایک میچ پہ مشتمل تھی۔ دیگر تین سیریز دو دو میچز پہ محیط تھیں۔

بطور کپتان نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز سرفراز کے لیے پہلی تین میچز پہ مشتمل سیریز تھی اور اسی میں ہزیمت کا وہ باب رقم ہوا کہ کیویز 49 سالہ ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ٹھہرے اور پاکستان اپنے ہی قلعے یو اے ای میں ایک اور سیریز ہار گیا جہاں مصباح کی قیادت میں وہ سات سال تک ناقابلِ شکست رہا تھا۔

چوتھے دن کے کھیل میں نیوزی لینڈ چودہ رنز کے خسارے میں تھا جب راس ٹیلر بھی آوٹ ہو گئے۔ ایک اینڈ تو ولیمسن سنبھالے ہوئے تھے مگر جب دوسرے اینڈ پہ نیا بلے باز آیا تب سرفراز یہی سمجھ بیٹھے کہ بس گھنٹے ڈیڑھ کی مار ہے، کیوی اننگز اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار چکی ہوگی اور ایک معمولی سا ہدف ان کے بلے بازوں کے سامنے ہو گا جسے ہنستے کھیلتے عبور کر کے وہ سیریز اپنے نام کر لیں گے۔

لیکن تھکاوٹ کہیے کہ وفورِ جذبات، جو اہم ترین مواقع پہ سرفراز معمولی معمولی غلطیاں کرتے گئے اور دھیرے دھیرے ان غلطیوں کا ایسا پہاڑ بن گیا کہ جب دوسرا نیا گیند دستیاب ہوا تب صرف اسی خوف سے نہ لیا گیا کہ کہیں رنز کی برسات نہ شروع ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرفراز کی جارحیت کا کیا کہیے کہ سر پہ منڈلاتے شکست کے خوف سے آنکھیں موندے کریز سے نکل نکل کر چوکے مارنے کی کوششیں کرتے رہے

اس کے برعکس جمعے کی صبح جہاں ضروری تھا کہ پرانے گیند سے ہی سپنرز سے اٹیک کیا جائے، وہاں انہوں نے فوراً نیا گیند لے کر سیمرز کو تھما دیا۔

یہ تو طے تھا کہ بڑی برتری کے بغیر ولیمسن ڈکلئیر کرنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ یہ بھی واضح تھا کہ میچ کو فیصلہ کن بنانے کے لیے کیویز جمعے کی صبح تیز رن ریٹ سے کھیلنا پسند کریں گے۔ سرفراز اگر پرانے گیند سے ہی کھیل جاری رکھتے تو اکیاسی رنز بنتے بنتے دوپہر ہو جاتی مگر نیا گیند ملتے ہی کیویز کا تو وہ قصہ ہوا کہ اندھا کیا مانگے، دو آنکھیں۔

ان نو اوورز میں 81 رنز بن گئے اور ڈکلئیریشن کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کے پاس میچ بچانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ لنچ آتے تک یہ طے ہو چکا تھا کہ ڈرا بھی پاکستان کے لیے غنیمت سے کم نہیں۔

مگر اس کے باوجود سرفراز کی جارحیت کا کیا کہیے کہ سر پہ منڈلاتے شکست کے خوف سے آنکھیں موندے کریز سے نکل نکل کر چوکے مارنے کی کوششیں کرتے رہے۔

چوتھی اننگز میں ابوظہبی کی وکٹ پہ ڈیڑھ سو کا ہدف بھی پہاڑ سا ہوتا ہے۔ اور آج جب یہ پہاڑ ابل کر لاوا بننے کو تھا، تب سرفراز کے پاس پھر ایک موقع تھا کہ ایک یادگار دفاعی اننگز کھیل کر کیویز کو فتح سے محروم رکھتے۔

مگر ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ کوئی اچھا ٹی ٹؤنٹی کپتان کبھی بھی اچھا ٹیسٹ کپتان نہیں ہو سکتا۔

اسی بارے میں