وسیم خان: کاؤنٹی کھیلنے والے پہلے پاکستانی نژاد کرکٹر اب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے مشن پر

وسیم خان تصویر کے کاپی رائٹ Waseem Khan
Image caption وسیم خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ترجیحات سوچ کر پاکستان آ رہے ہیں کہ انھیں کیا کرنا ہے

برطانیہ میں پیدا ہونے والے پہلے پاکستانی نژاد برطانوی کرکٹر وسیم خان نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو ترجیح دی ہے اور منیجنگ ڈائریکٹر بننے کے بعد ان کی اولین ترجیح پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی ہو گی۔

برمنگھم میں پیدا ہونے والے 47 سالہ وسیم خان برطانوی کاؤنٹی کرکٹ میں وارک شائر، سسیکس اور ڈربی شائر کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

بائیں ہاتھ کے بلے باز کی حیثیت سے انھوں نے 58 فرسٹ کلاس میچوں میں پانچ سنچریاں اور 17 نصف سنچریاں بنائیں۔ 2005 میں وہ کرکٹ فاؤنڈیشن میں شامل ہوئے اور پھر اس کے چیف ایگزیکٹیو بنے۔

2013 میں انھیں ایم بی ای کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 2014 میں لیسٹر شائر کاؤنٹی نے انھیں اپنا چیف ایگزیکٹیو آفیسر مقرر کیا اور یہ ذمہ داری وہ ابھی تک نبھا رہے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’جو فیصلہ کروں گا اس کا مقصد کرکٹ کو آگے لے جانا ہو گا‘

پاکستان کرکٹ ٹیم بمقابلہ پاکستان کرکٹ بورڈ

’کرکٹ کھیلنے کے لیے انڈیا کی منتیں نہیں کروں گا‘

’دورے کا مقصد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہے‘

وسیم خان کو گذشتہ دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ وہ پی سی بی کے آئین میں تبدیلی کے بعد وسیم خان کو پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کا درجہ دے دیں گے۔

وسیم خان سے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے بھی اپنے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے درخواست دینے کے لیے کہا تھا لیکن انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ترجیح دی۔

برمنگھم سے فون پر بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وسیم خان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان آنے کے بارے میں بہت ُپرجوش ہیں۔

’میں برمنگھم میں رہتا ہوں لیکن میرا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے۔ میری بیگم کے رشتے دار لاہور میں رہتے ہیں۔ میری دو بیٹیاں 11 اور 9 سال کی ہیں ان کے لیے بھی پاکستان آنے کا تجربہ بہت ہی زبردست ہو گا۔‘

Image caption بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کی حیثیت سے وسیم خان نے 58 فرسٹ کلاس میچوں میں پانچ سنچریاں اور سترہ نصف سنچریاں بنائی ہیں

وسیم خان اپنی نئی ذمہ داری کو ایک بڑا چیلنج تصور کرتے ہیں لیکن انھیں یقین ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان کی کرکٹ کو دنیا میں ایک اہم مقام پر پہنچانے میں کامیاب ہوں گے۔

وسیم خان کا کہنا تھا کہ ان کی اولین ترجیح پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی ترجیحات سوچ کر پاکستان آ رہے ہیں کہ انھیں کیا کرنا ہے۔

’میرے لیے اچھا موقع ہے کہ میں پاکستان کی کرکٹ کو پروفیشنل انداز میں استوار کروں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم اس وقت اپنی انٹرنیشنل کرکٹ متحدہ عرب امارات میں کھیل رہی ہے میں اسے دوبارہ پاکستان لانے میں اپنا کردار ادا کروں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے مسائل ہیں اس کے ڈھانچے کو ازسرنو مرتب کرنا ہے اور اس میں مسابقت پیدا کرنی ہے۔ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو دنیا کے قابل احترام کرکٹ بورڈز میں دیکھنا چاہتا ہوں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں