سرفراز احمد ’صحافتی کلچر‘ کی بھینٹ تو نہیں چڑھیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سنہ 2017 کے ناکام دورۂ آسٹریلیا کے بعد جیو نیوز پہ 'کرکٹ کا مقدمہ' کس نے پیش کیا اور وکلائے صفائی نے کن دلائل سے اظہر علی کی جگہ سرفراز احمد کو جملہ امراض کا شافی علاج قرار دیا تھا۔

پاکستان میں اب کرکٹ اور سپورٹس جرنلزم کا رشتہ خاصا پیچیدہ ہو چکا ہے۔ ویسے تو صحافی کا کام خبر دینا ہوتا ہے اور وہ بھی مروّجہ سوالات، ’کیا، کب، کہاں، کیوں اور کیسے‘ کی روشنی میں۔ مگر بیچارہ صحافی تب کیا کرے جب کوئی خبر موجود ہی نہ ہو۔

اس پہ طُرہ یہ کہ ٹی ٹونٹی اور لیگ کرکٹ کی بھرمار کے ساتھ ہی سپورٹس جرنلزم کی مارکیٹ بھی خاصی وسیع ہو چکی ہے۔ ایسے میں خبر دینے والے بھی یہی چاہتے ہیں کہ وہ ہر بحث میں کہیں نہ کہیں اپنے ہونے کا پتہ دیتے رہیں۔

روایتی طور پہ تو پاکستان کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم سے مرچ مصالحہ ہمیشہ بہتات میں ہی ملتا رہا ہے مگر جب کبھی قحط پڑا بھی تو پاکستانی صحافت مصالحے کی پیداوار میں خود کفیل رہی ہے۔ کیا ہوا جو کوئی ڈریسنگ روم میں بلے نہیں چلا رہا، افواہوں اور سازشی تھیوریز کے تال میل سے کوئی نہ کوئی خبر نکل ہی آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دورہ جنوبی افریقہ: تین روزہ میچ میں پاکستان فاتح

اسد شفیق میچ وننگ بیٹسمین کیوں نہیں ہیں؟

’ٹیسٹ کی کپتانی سرفراز کے بس کی بات نہیں‘

سرفراز احمد کی بدقسمتی

ایک بحران سرفراز کو واپس لے آیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سب سے زیادہ نگاہیں سرفراز احمد پہ ہوں گی کہ وہ کس طرح ان کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہوتے ہیں

سرفراز احمد کو کپتانی کے لیے تیار کرنے سے لے کر اس عہدے پہ فائز کروانے تک یہ صحافتی کلچر پیش پیش رہا ہے۔

اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سنہ 2017 کے ناکام دورۂ آسٹریلیا کے بعد جیو نیوز پہ ’کرکٹ کا مقدمہ‘ کس نے پیش کیا اور وکلائے صفائی نے کن دلائل سے اظہر علی کی جگہ سرفراز احمد کو جملہ امراض کا شافی علاج قرار دیا تھا۔

کپتان بننے کے بعد سرفراز احمد خاصے خوش قسمت بھی رہے کہ بڑی بڑی فتوحات ان کا مقدر ٹھہریں لیکن اب جبکہ پاکستان ایک سال کے عرصے میں ہی ہوم گراؤنڈز پہ دو ٹیسٹ سیریز ہار چکا ہے تو اب وہ سبھی وکلائے صفائی اپنے آئندہ مقدمے کے لیے بھی سرفراز ہی پہ نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ گو ذمہ داری سرفراز سے کہیں زیادہ مکی آرتھر پہ ٹھہرتی ہے۔

ایسے میں جنوبی افریقہ کے مشکل دورے کا آغاز اپنے ساتھ بہت سا سیاق و سباق لیے ہوئے ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی تاریخ بھی کچھ خوش کُن نہیں ہے اور افریقن بولنگ اٹیک بھی بلاشبہ دنیا کا بہترین بولنگ اٹیک ہے۔ اب اسے پاکستان کی خوش قسمتی کہیے کہ ورنون فیلنڈر اور لنگی نگیدی انجریز کا شکار ہیں۔

مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ ڈیل سٹین اور بالخصوص کگیسو ربادا کے تابڑ توڑ حملے پاکستانی بلے بازوں پہ کیا تاثر چھوڑتے ہیں اور ان کے جواب میں یہ غیر مستحکم بیٹنگ لائن کیا حکمتِ عملی سامنے لاتی ہے۔

کچھ روز پہلے مکی آرتھر یہ کہہ رہے تھے کہ فی الوقت پاکستانی بلے باز عرب امارات کی نسبت باہر کی وکٹوں پہ زیادہ اچھا کھیلتے ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سال کا ریکارڈ دیکھا جائے تو اس بیان میں کسی حد تک صداقت بھی ہے کیونکہ اگر ٹاپ آرڈر میں فخر زمان کھیلتے ہیں تو مڈل آرڈر کے کافی دلدّر دور ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر زمان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ تکنیک اور ٹیمپرامنٹ، ہر دو لحاظ سے روایتی ایشین بلے باز نہیں ہیں

تکنیکی اعتبار سے جنوبی افریقہ کی وکٹیں ہمیشہ ایشین بلے بازوں کے لیے مشکل رہی ہیں مگر فخر زمان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ تکنیک اور ٹیمپرامنٹ، ہر دو لحاظ سے روایتی ایشین بلے باز نہیں ہیں۔ ان کے بلے کی ’ہائی بیک لفٹ‘ اور بے خطر رویّہ ایسے خواص ہیں کہ کسی بھی بولر کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں مگر ٹیسٹ کرکٹ میں رنز کے لیے صبر کے ساتھ کریز پر رکنا بہت ضروری ہے۔ کیا فخر زمان ایسا کر پائیں گے؟

پاکستان کے لیے بہت غیر متوقع دھچکا محمد عباس کی فٹنس کی صورتِ حال ہے۔ ان کی عدم موجودگی میں محمد عامر کس طرح بولنگ اٹیک کی قیادت کریں گے؟ شاہین آفریدی اور حسن علی کس طرح سینچورین کی باؤنسی کنڈیشنز کو استعمال کریں گے؟ یہ بھی بہت بڑا سوال ہے۔

مگر سب سے زیادہ نگاہیں سرفراز احمد پہ ہوں گی کہ وہ کس طرح ان کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف شکست نے ان کے اعصاب کو مضمحل کر رکھا ہو گا مگر یہاں ان کے پاس جوابی وار کرنے کا موقع ہو گا کہ صرف وکٹوں کے پیچھے ہی نہیں، کریز پر بھی اپنی فارم بحال کریں۔

بہر طور یہ ایک نہایت مشکل سیریز ہے جس میں مثبت سوچ کے ساتھ یہی توقع کی جا سکتی ہے کہ پاکستان بہتر مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا اور عین ممکن ہے کہ ایک آدھ بہترین سیشن پاکستان کو فتح کے قریب بھی لے آئے۔

لیکن اگر ایسا کوئی موقع آ گیا تو پھر سارا دارومدار سرفراز پہ ہو گا کہ وہ اسے ہاتھ سے جانے نہ دیں کیونکہ اگر ایسا کوئی سرا ان کے ہاتھ سے پھسل گیا تو پھر اِس پار ایک بے رحم صحافتی کلچر ان کا منتظر ہو گا جو اپنی انا کی تسکین کے لیے بڑی سے بڑی بھینٹ چڑھانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ خواہ وہ قومی ٹیم کا کپتان ہی کیوں نہ ہو۔

اسی بارے میں