سنچورین ٹیسٹ کا پہلا دن بولرز کے نام

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

محمد عامر نے ایک اہم موقع پر پاکستان کو وکٹ دلائی

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سنچورین میں کھیلے جانے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر جنوبی افریقہ نے اپنی پہلی اننگز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 127 رنز بنائے تھے۔

جنوبی افریقہ کو پاکستان کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 54 رنز درکار ہیں جبکہ اس کی پانچ وکٹیں ابھی باقی ہیں۔

بدھ کو جب پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تو جنوبی افریقہ کی جانب سے بووما 38 اور نائٹ واچ مین ڈیل سٹین 13 رنز پر کھیل رہے تھے۔

اس سے قبل پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 181 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور میزبان ٹیم کے بلے بازوں کو کریز پر جم کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔

سنچورین میں کھیلے جانے والے اس پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے ہی دن دونوں ٹیموں کی جانب سے عمدہ بولنگ دیکھنے کو ملی اور کل 83 اوورز میں 303 رنز پر 15 وکٹیں گریں۔

سرفراز احمد پہلے دن کے کھیل کے آخری لمحات میں محمد عامر کو پولنگ کروانے لائے تو وہ برائن اور بووما کی اہم شراکت توڑنے میں کامیاب رہے۔ انھوں نے برائن کو 29 کے انفرادی سکور پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty

،تصویر کا کیپشن

پاکستان کی جانب سے حسن علی نے اپنی ٹیم کو پہلی کامیابی اس وقت دلائی جب انھوں نے کائل مارکم کو 12 رنز کے انفرادی سکور پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا

مہمان ٹیم کی جانب سے کائل مارکم اور ڈین ایلگر نے اننگز کا آغاز کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں 19 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے حسن علی نے اپنی ٹیم کو پہلی کامیابی اس وقت دلائی جب انھوں نے کائل مارکرم کو 12 رنز کے انفرادی سکور پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔

جنوبی افریقہ کے آؤٹ ہونے والے بلے بازوں میں مارکرم نے 12، ہاشم آملہ نے آٹھ، ڈین ایلگر نے 22، برائن نے 38 جبکہ فاف ڈوپلیسی بغیر کوئی سکور کیے پویلین لوٹ گئے۔

مہمان ٹیم کی جانب سے شاہین آفریدی اور محمد عامر نے دو، دو دو جبکہ حسن علی نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تو سوائے بابر اعظم کے کوئی بھی بلے باز بڑی اننگز نہ کھیل سکا اور وقفے وقفے سے اس کی وکٹیں گرتی رہیں۔ بابر اعظم نے 71 رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے اپنا چھٹا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ڈوائن اولیوئر نے عمدہ بولنگ کی اور 14 اوورز میں 37 رنز کے عوض چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ یہ ان کے کرئیر میں پہلا موقع تھا جب انھوں نے اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہوں۔

ان کے علاوہ رباڈا نے تین اور سٹین نے ایک وکٹ حاصل کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

ڈوئن اولیئر نے کرئیر میں پہلی بار پانچ وکٹیں حاصل کیں

پاکستان کی جانب سے امام الحق اور فخر زمان نے بیٹنگ شروع تو ڈیل سٹین کی جانب سے پھینکا گیا پہلا اوور میڈن تھا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ کو دوسرے ہی اوور میں کامیابی مل گئی جب ربادا نے امام الحق کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بابر اعظم نے زبردست بیٹنگ کی اور 71 رنز بنائے

چھٹے اوور میں پاکستان کو دوسرا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب 17 کے مجموعی سکور پر فخر زمان ڈیل سٹین کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

اس وکٹ کے ساتھ سٹین نے 422 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کر لیں جس کی مدد سے اب وہ جنوبی افریقہ کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بن گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈیل سٹین 422 وکٹوں کے ساتھ سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر بن گئے ہیں

صرف 17 رنز پر دو وکٹوں کے گرنے کے بعد شان مسعود اور اظہر علی نے پراعتماد کھیل پیش کرتے ہوئے چار کی اوسط سے بیٹنگ کی اور 37 رنز کی شراکت قائم کر لی۔

لیکن پھر ڈؤآن اولیور کی گیند پر شان مسعود بد قسمت رہے اور کہنی سے لگ کر گیند وکٹوں پر گر گئی اور وہ 19 رنز پر بولڈ ہو گئِے۔

اس کے کچھ ہی دیر بعد اولیور نے اپنی دوسری وکٹ حاصل کر لی جب وہ اسد شفیق کو سات رنز پر ایل بی ڈبلیو کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ پاکستانی بلے باز نے ریویو لے کر خود کو بچانے کی کوشش کی لیکن امپائرز کال کے نتیجے میں قسمت نے ان سے یاوری نہیں کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اظہر علی نے 36 رنز بنائے لیکن ڈی برؤن ان کا زبردست کیچ لیا

پاکستان کی جانب سے محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔

پاکستان نے آج تک جنوبی افریقہ میں صرف دو ٹیسٹ میچز میں کامیابی حاصل کی ہے جب 1998 میں انھوں نے ڈربن میں میچ جیتا تھا جبکہ اس کے بعد 2006 میں انھیں پورٹ الزبتھ کے مقام پر دوسری کامیابی ملی تھی۔

پانچ سال قبل 2013 میں کیے جانے والے دورے میں پاکستان کو تینوں ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی تھی لیکن اس سیریز میں انھوں نے قدرے بہتر کھیل دکھایا تھا اور دوسرے ٹیسٹ میچ میں جیت کے کافی قریب آئے تھے۔