سنچورین ٹیسٹ: بابر اعظم نے ’سٹین کا دن‘ خراب کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شاید ڈیل سٹین تھک چکے ہیں یا شاید ان کے اعصاب مضمحل ہو چکے ہیں یا شاید وکٹ میں کوئی اچانک بدلاؤ آ گیا ہے۔ غالباً ڈیل سٹین کو یہ لڑائی مول ہی نہیں لینا چاہیے تھی۔

یہی ڈیل سٹین تھے جو دو روز پہلے کہہ رہے تھے کہ بھلے وہ 35 برس کے ہو گئے ہیں مگر اندر سے خود کو 23 برس کا محسوس کرتے ہیں۔

اب یہ تو نہیں معلوم کہ کب کب وہ خود کو 23 برس کا لڑکا محسوس کرتے ہیں لیکن جب بابر اعظم مکمل کنٹرول کے ساتھ پے در پے گیندوں کو باؤنڈری کے پار بھیج رہے تھے، تب سٹین ہی نہیں پوری دنیائے کرکٹ کو یہی محسوس ہوا کہ وہ 23 برس کے کوئی ناتجربہ کار بولر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سنچورین: جنوبی افریقہ کی چوتھی وکٹ گر گئی

نگاہیں ایک مرتبہ پھر سرفراز احمد پر

رنز نہ ہوں تو پریشان ہوجاتا ہوں: بابر اعظم

وگرنہ یہ دن صرف اور صرف سٹین کا دن تھا، اور یہ وہ دن تھا کہ جس کا پورے جنوبی افریقہ کو بے تابی سے انتظار تھا۔ کیونکہ یہ دن بہت پہلے آ جانا تھا مگر اتفاقات بار بار بیچ میں حائل ہوتے رہے۔

نومبر 2016 میں شان پولک کو لگا کہ یہ دن آنے کو ہی ہے۔ ساؤتھ افریقنز آسٹریلیا کے دورے پہ جا رہے تھے اور سٹین پولک کے ریکارڈ سے بس دو گام کے فاصلے پہ تھے۔ شان پولک ساؤتھ افریقہ کی ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین بولر تھے مگر آسٹریلیا کے دورے پہ وہ شیمپین ساتھ لیے پھرتے رہے کہ جس دن ان کا ریکارڈ ٹوٹے گا، وہ سٹین کو شیمپین کا تحفہ پیش کریں گے۔

مگر سٹین کا کندھا ایسا برا زخمی ہوا کہ سوا سال کے لیے وہ کھیل سے ہی باہر ہو گئے، اور شان پولک کے ساتھ ساتھ شیمپین بھی اس دن کا راہ تکتے رہ گئی۔

ایسے صبر آزما انتظار کے بعد آج وہ دن آیا کہ فخر زمان کریز کے اندر سے کھیلنے کے چکر میں دھوکہ کھا گئے اور ڈیل سٹین نے شان پولک کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔ ڈیل سٹین ربادا کے کندھوں پہ تھے اور سارا کراوڈ سٹین کو داد دے رہا تھا۔

تب تک یہ سٹین کا دن تھا۔

لیکن پھر جوں جوں دھوپ نکلنے لگی اور گیند ذرا پرانا ہوا، بابر اعظم کا صبر پھل دینے لگا اور سٹین کے سارے سپنے جھڑتے گئے۔

یہ وکٹ ایسی تھی کہ دنیا کا کوئی بھی سمجھدار کپتان اس پہ پہلے بیٹنگ کا خطرہ مول نہ لیتا۔ جس مقدار میں گھاس چھوڑ دی گئی تھی، ابر آلود صبح میں نئے گیند کی تیزی اور چال کچھ ایسی ہوئی کہ ایک ہی لینتھ سے دو تین طرح کا مختلف باؤنس پیدا ہو رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لیکن سرفراز میچ سے دو دن پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ہمیں چوتھی اننگز کی بیٹنگ سے پرہیز کرنا ہے سو وکٹ کیسی بھی ہوئی، ہم تو ٹاس جیت کے پہلے بلا ہی چلائیں گے۔

خیر سٹین اور ربادا کے اٹیک کے سامنے ان کا ٹاپ آرڈر بھی اتنا ہی بلا چلا پایا جتنا سرفراز خود چلا پائے۔ امام الحق کے پاؤں تو عرب امارات کی وکٹوں پہ بھی باہر نہیں نکلتے، وہ بھلا یہاں کیا کرتے۔

شان مسعود اچھا کھیلنے لگ گئے تھے کہ اچانک پٹری سے اتر گئے۔ اسد شفیق بالکل کھوئے کھوئے سے نظر آئے۔ اظہر علی کسی حد تک بدقسمت رہے کہ ایک بہت اچھے کیچ نے ان کی اننگز ختم کر دی۔

اولیویر کی کرئیر بیسٹ بولنگ کی بدولت ساؤتھ افریقہ میچ پہ اپنی گرفت سخت کر چکا تھا اور سرفراز کے بعد تو گمان تھا کہ چار پانچ اوورز میں ہی اننگز نمٹ جائے گی۔ یہی امید لیے ڈیل سٹین بھی اٹیک میں واپس آئے لیکن یہاں ان کا پالا بابر اعظم سے پڑ گیا۔

ایک اوور میں چار چوکے تو کسی اوسط سے بولر کو پڑ جائیں، اس کی سٹی گم ہو جاتی ہے۔ جبکہ یہاں ڈیل سٹین تھے جو آج کا دن ہی نہیں، ایک تاریخی ریکارڈ بھی اپنے نام کر چکے تھے۔

جس طرح سے بابر اعظم اپنے قدموں پہ جمے ہوئے تھے اور جس سہولت سے وہ گیند کو مڈل کر رہے تھے، اس نے سٹین کو مجبور کر دیا کہ وہ لائن و لینتھ میں تجربے کرنے لگیں۔ تجربے کیے بھی لیکن ہر بار نتیجہ یکساں ہی آیا۔

اس سے پہلے دونوں سیشنز میں جو جو کچھ ہوا، عین متوقع بھی تھا اور فاف ڈو پلیسی کے پلاننگ کے مطابق بھی۔ مگر بابر اعظم نے سٹین کا جو حال کیا، وہ نہ تو متوقع تھا اور نہ ہی کسی کے پلان کا حصہ۔

126 منٹ پہ محیط 71 رنز کی طوفانی اننگز اور پندرہ چوکے۔۔۔۔ یہ خالصتاً بابر اعظم کا جادو تھا جو ڈری سہمی پاکستانی اننگز کو متوازن پوزیشن میں لے آیا اور صرف سٹین کا ہی نہیں، فاف کی ساری ٹیم کا اچھا دن خراب کر دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں