شیر علی آفریدی: معذور کھلاڑیوں کے 'شعیب اختر'

شیر علی آفریدی
Image caption شیر علی آفریدی کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا میں سب سے تیز رفتار معذور بولر ہیں

'کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر میری یہ ٹانگ ٹھیک ہوتی تو شاید میں اتنا سیلبرٹی نہ ہوتا لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ معذور ہوتے ہوئے بھی مجھے کرکٹ کے کھیل میں بڑی عزت ملی۔'

یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم کے تیز بولر شیر علی آفریدی کا جنھیں ملک بھر میں معذورکھلاڑیوں کا 'شعیب اختر' بھی کہا جاتا ہے۔

بائیں ٹانگ سے معذور شیرعلی آفریدی کا تعلق قبائلی ضلع خیبر سے ہے۔ بچپن میں ایک حادثے میں ان کی بائیں ٹانگ ضائع ہو گئی تھی تاہم وہ مصنوعی ٹانگ لگا کر نہ صرف عام افراد کی طرح کرکٹ کھیلتے ہیں بلکہ تیز بولنگ بھی کراتے ہیں۔

چند اور دیگر پاکستانی افراد کے بارے میں پڑھیے جنھوں نے معذوری کے باوجود اپنے شعبوں میں کامیابی حاصل کی

’معذوری ہی زندگی نہیں، زندگی کا حصہ ہے‘

لوئر دیر کی کونسلر جنھیں معذوری روک نہیں سکی

دنیا کو حیران کرنے والے معذور پاکستانی کرکٹرز

شیر علی ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم کے رکن کی حیثیت سے کئی ممالک کے دورے کر چکے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ دنیا میں سب سے تیز رفتار معذور بولر ہیں اور اسی وجہ سے انھیں 'معذوروں کا شعیب اختر' بھی کہا جاتا ہے۔

Image caption شیر علی آفریدی کے مطابق اگر نارمل کھلاڑی ملک کےلیے کھیل رہے ہیں تو معذور بھی ان سے کم نہیں

پاکستان میں عام طورپر معذور افراد کے لیے کھیل کود کے مواقع کم ہی میسر ہیں اور حکومتی سطح پر یہ مواقع نہ ہونے کے برابر ہی ہیں۔

ملک میں معذور کھلاڑیوں کی قومی کرکٹ ٹیم تو موجود ہے لیکن ان کھلاڑیوں کو سرکاری طورپر باقاعدہ سرپرستی حاصل نہیں۔

شیر علی آفریدی کا کہنا ہے کہ جس طرح میں ملک میں نارمل کھلاڑیوں کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کو مختلف مراعات ملتی ہیں اس طرح توجہ معذور کھلاڑیوں کو نہیں دی جاتی۔

'جس طرح ایک عام نارمل کھلاڑی کو سہولیات میسر ہوتی ہیں وہ ہمیں بھی ملنی چاہییں کیونکہ ہم بھی پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں اور وہ بھی ملک کی عزت بڑھا رہے ہیں۔ جو حق ان کو مل رہا ہے وہ ہمیں بھی ملنا چاہیے، ہمارے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں ہورہا ہے؟ '

انھوں نے کہا کہ اگر نارمل کھلاڑی ملک کےلیے کھیل رہے ہیں تو اس طرح معذور بھی ان سے کم نہیں کیونکہ وہ بھی ملک کا نام روشن کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

Image caption شیر علی آفریدی کے بقول کبھی کسی معذور کھلاڑی کو کسی ادارے نے پیشہ ور کھلاڑی کے طورپر نہیں رکھا

شیر علی آفریدی کے بقول کبھی کسی معذور کھلاڑی کو کسی ادارے نے پیشہ ور کھلاڑی کے طورپر نہیں رکھا اور نہ کبھی ان کو نوکری دی۔

’اگر معذور کھلاڑیوں کے لیے حکومت یا بڑے بڑے ادارے روزگار کے مواقع پیدا نہیں کرینگے تو وہ کیسے آگے آئیں گے اور ان کی صلاحیتیں کیسے سامنے آئیں گی۔'

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے معذور کھلاڑیوں میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں لیکن ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت کی ذمہ داری پہلے بنتی ہے۔

اپنی معذوری پر بات کرتے ہوئے شیر علی آفریدی نے کہا کہ ’اکثر لوگ معذوری کو چھپاتے ہیں یا اس پر بات نہیں کرتے لیکن اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ معذور ہوتے ہوئے بھی مجھے کرکٹ میں وہ مقام ملا ہے جو شاید نارمل انسان کو بھی نہ ملے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں