مائیکل جانسن: کیسے فالج نے ایک ’سپرمین‘ کی زندگی تبدیل کر دی

Michael Johnson تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جانسن 2015 کی تصویر،اپنے کیرئر میں 13 اولمپک اور عالمی سونے کے تمغے اپنے نام کئے۔

مائیکل جانسن کا پیشہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ انھوں نے کہاں غلطی کی۔ بی بی سی سپورٹس ہو یا اپنے پرفارمنس سینٹر پر ایتھلیٹوں کے ہر لمحے پر بطور کمنٹیٹر تجزیہ ان کا ذریعۂ معاش ہے جس سے ان کے گھر کا چولھا جلتا ہے۔

اسی وجہ سے خاص طور پر افسوس ناک ہے کہ مائیکل جانسن اپنی صحت کے متعلق مستقبل کے بارے میں مکمل اندھیرے میں ہیں۔

چار مہینے قبل اولمپکس کے عظیم سپرنٹر جانسن فالج کے حملے کا شکار ہو گئے۔

51 سالہ جانسن کو فالج کا ایک ہلکا سا دورہ پڑا تھا جس کے بعد ان کی صحت کی بحالی کسی معجزے سے کم نہیں ہے، وہ ابھی سے اپنے دن پیڈل بورڈنگ، کشتی رانی، سائیکل چلاتے ہوئے اور دوڑتے ہوئے گزارتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

معمر افراد کے لیے روزانہ اسپرین لینا خطرناک

17 سال کی عمر سے سگریٹ، شراب کا نقصان واضح

ڈاکٹروں کے مختلف ٹیسٹوں اور ماہرانہ آرا کے باوجود وہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک حل نہ ہونے والے سوال کی وجہ سے ڈر کی زندگی جی رہے ہیں۔

ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟

جانسن نے بی بی سی سپورٹس کو یہ بتایا کہ ’ہم نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ غالباً اس کی وجہ کبھی معلوم نہ ہو پائے گی۔

’میں نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اگر مجھے اس کی وجہ معلوم ہوتی تو میں اس کا کوئی حل ڈھونڈ لیتا اور میں اس بات سے کافی بہتر محسوس کرتا کہ یہ مسئلہ ہے اور میں نے اس کو ختم کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے مجھے یہ سہولت میسر نہیں۔

’ظاہر ہے یہ بات کچھ ڈر پیدا کر سکتی ہے کہ میں دورہ لاحق ہونے سے پہلے سب صحیح کر رہا تھا اور اس کے بعد بھی صحیح چیزیں کر رہا ہوں، اب تو اور بھی زیادہ۔ لیکن یہ پھر دوبارہ ہو سکتا ہے۔‘

کچھ مہینوں میں جانسن کو صرف غیب کے ڈر کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ ان کو ایک مکمل اجنبی احساس کا بھی سامنا کرنا پڑھا، یعنی محتاجی۔

اپنے مایہ ناز کرئیر میں جانسن نے چار مرتبہ اولمپکس میں سونے کے تمغے جیتے۔ دو سو میٹر اور چار سو میٹر کے ریکارڈ اپنے نام کیے۔ جانسن جو کہتے تھے خوشی سے کر کے دکھاتے تھے۔

ان کے مشہور اقوال میں سے ایک یہ تھا کہ ’وہ آپ کو سونے کا تمغہ کسی کو ہرانے پر نہیں دیتے۔ وہ آپ کو سونے کا تمغہ سب کو ہرانے پر دیتے ہیں۔‘

اور 1996 کے اٹلانٹا کے اولمپک میں انھوں نے دو ریسیں جیتیں۔

نہ الفاظ میں اور نہ عمل میں آپ کو ایک ایسا شخص نظر آتا ہے جو کمزوری دکھانے کا قائل ہو۔

’میں سو فیصد یہ تو نہیں کہ سکتا کہ میں ایک ایسی صورتِ حال میں ہوں جہاں کمزور ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں۔‘

ذہن میں رہے، یہ بات وہ ایتھلیٹ کہہ رہے ہیں جو اپنے کرئیر کے دوران ’سپرمین‘ کے نام سے جانے جاتے تھے، اور سنہ 1997 کے عالمی چیمپیئن شپ کے فاتح لیپ میں انھوں نے سپرمین کے لوگو والی شرٹ پہن رکھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جانسن نے دو سو میٹر کا عالمی ریکارڈ 19.32لسیکنڈز کے ساتھ اولمپک 1996کے فائنل میں توڑا

’یہ ایک اشارہ ہے اس مسئلے کی طرف جو مجھے درپیش ہے، کہنے کو سپرمین بننے کی ضرورت۔ یہ ضرورت کہ لوگ مجھے تندرست، طاقتور اور سب کچھ کر گزرنے والے شخص کی حیثیت دیکھیں، یہ ایک ذاتی مسئلہ ہے جس پر مجھے ابھی کام کرنا ہے۔

’میری شخصیت، ذاتی ہو یا عوامی، ہمیشہ یہ رہی ہے کہ سب میرے کنٹرول میں ہے اور مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ مجھے ترس اور ہمدردی پسند نہیں ہے۔

’اس صورتِ حال میں میرے لیے ایک سبق یہ تھا کہ مجھے چلنے کے لیے محتاجی کا سامنا کرنا پڑا۔ روزمرہ کے عام کاموں کے لیے مدد کی ضرورت میرے لیے کافی مشکل تھی۔

’لیکن مجھے جلد اس بات کا احساس ہو گیا کہ میں جہاں واپس جانا چاہتا ہوں اس کے لیے مجھے لوگوں کی مدد درکار ہے، یہ ایسی چیز تھی جس پہ مجھے سمجھوتہ کرنا پڑا۔‘

جانسن نے ساتھ اس طرف بھی توجہ دلائی کہ محتاجی کو سب پر ظاہر نہ کرنا بھی کوئی بُری بات نہیں۔ اسی استحکام نے انھیں چار سونے کے تمغے عطا کیے، اور وہ یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس کا ان کی معجزانہ بحالی میں بھی بڑا کردار تھا۔

ستمبر کے مہینے کا آغاز تھا جب جانسن کو ’ٹرانزینٹ اسکیمک‘ اٹیک ہوا۔ اس مرض میں عارضی طور پر دماغ کے کچھ حصوں میں خون کی ترسیل رُک جاتی ہے اور وہاں آکسیجن کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

اس کے نتیجے میں وہ اپنے جسم کے بائیں حصے کا توازن، اور نقل و حرکت سے قاصر ہو گئے تھے، اور اس کے بعد کے دنوں میں دو سو میٹر کا فاصلہ جو وہ ایک زمانے میں 19.32 سیکنڈ میں عبور کرتے ہوئے سونے کے تمغے کو اپنے نام کر گئے تھے، اب 15 منٹ کی چہل قدمی سے پورا کرتے ہیں۔

چار مہینوں کے بعد وہ اپنی معمول کی فٹنس روٹین پر واپس آ گئے۔

بحالی کے دوران ایک اہم جذبہ غصے کا بھی تھا، یہ اس وجہ سے تھا کہ باوجود اس کے کہ وہ ان تمام احتیاطی تدابیر کا خیال رکھتے رہے جس سے دورے کے امکان کم ہو جاتے ہیں، جیسے کہ صحت مند کھانا، اعتدال سے شراب پینا، ورزش باقاعدگی سے کرنا اور وزن کا خیال رکھنا، انھوں نے اپنے آپ کو اس مصیبت میں پایا۔

24 گھنٹوں کے اندر اندر یہ مایوسی کسی اور جانب منتقل ہو گئی۔

’سب کچھ صحیح کرنے کے باوجود، جیسے ہر روز ورزش کرنا اپنے جسم کو اچھی شکل میں رکھنا جبکہ دوسرے لوگ یہ نہیں کرتے، وہ ٹھیک ہیں اور میں اسپتال میں پڑا دورہ برداشت کر رہا ہوں، ظاہر ہے آپ کو غصہ آئے گا۔‘

انھوں نے کہا: ’اور میں ایک دن کے لیے تھوڑا غصے میں تھا۔

’میں یہ سمجھتا اور جانتا ہوں کہ یہ میرے لیے بہتر نہیں ہے اور اس سے میں مزید بدتر محسوس کروں گا۔

’اپنے آپ کو کہنا کہ غصہ نہ کرو مزید غصہ دلاتا ہے،آپ کو اسے کسی چیز سے تبدیل کرنا ہوتا ہے اور میں اپنے ڈاکٹر سے اصرار کرتا رہا کہ مجھے جسمانی تھیراپی پہ جتنا جلدی ہو سکے بھیج دیا جائے‘۔

جلد از جلد کا مطلب حیران کن طور پہ دورے کے ایک ہفتے کے اندر روزانہ دو وقت کی ورزش تھی۔ وہ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر اسی بات کی آگاہی دلانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’میری کہانی دوسرے لوگوں کو آگاہی دینے میں مدد دے سکتی ہے، ایک دورے کے متعلق ضروری چیز یہ ہے کہ آپ کو اس کی علامات کا پتہ ہوتا ہے کہ آپ جلد از جلد اسپتال پہنچیں۔

’اس تجربے سے خود گزرنے کے بعد میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ کوئی شخص ہسپتال کیوں نہیں جانا چاہے گا۔ مجھے کوئی جھٹکا نہیں محسوس ہوا جیسے ’او میرے خدا مجھے کچھ ہو گیا‘۔

’مجھے صحیح محسوس نہیں ہو رہا تھا لہٰذا میں نے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا بجائے اس کے کہ میں انتظار کرتا یا سو جاتا اور دیکھتا کہ یہ اب ختم ہو جاۓ گا. یہ کافی نقصان دہ ہو سکتا تھا .‘

لیکن جانسن کہتے ہیں کہ وہ اور ان کی اہلیہ خوش ہیں کہ ان کی زندگی بدل دینے والا برا 2018 گزر گیا ہے۔ اسی سال ان پر فالج کا حملہ ہوا اور انھیں کیلی فورنیا کے جنگلوں میں لگی تباہ کن آگ کی وجہ سے گھر خالی کر کے پانچ دن باہر گزارنا پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جانس اپنے جسم کے بائیں حصے کا توازن اور نقل و حرکت سے قاصر ہو گئے تھے

لیکن جانسن اب حال میں زیادہ رہتے ہیں اور ہر دن کا شکر ادا کرتے ہیں، باقی ان کی زندگی میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی. وہ ابھی بھی بی بی سی سپورٹس کے سٹوڈیو میں جنک فوڈ سے اجتناب کرتے نظر آتے ہیں اور وہ مستقبل قریب میں لندن میراتھن جیسا بڑا چیلنج قبول نہیں کریں گے.

’میں زیادہ تر کھانے کی اشیا سٹوڈیو میں آگے بڑھا دیتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا: ’میں عام طور پر اپنا کھانا خود لاتا تھا تو میں یہی کروں گا۔

’مجھے دورہ پڑنے سے پہلے بھی میراتھن بھاگنے میں دلچسپی نہیں تھی اور اب بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی . دورے نے مجھے اس نہج تک نہیں پہنچایا کہ میں اتنا دیوانہ ہو جاؤں کہ میراتھون بھاگنا شروع کر دوں۔

’میرے لیے بہترین چیز یہ ہے کہ میں خطرے کے عوامل کو صحیح غذا اور جسم کو بہترین شکل میں رکھ کر محدود رکھوں ،اور مختلف عوامل جیسے کے دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور غذا کے ساتھ ساتھ ہدایت کردہ ادویات پر نظر رکھوں اور اپنی زندگی میں آگے بڑھوں۔

’میں نے اپنی بحالی پر ایسے ہی کام کیا جیسے میں نے اپنے ایتھلیٹک کریئر پر کیا تھا۔ لیکن ظاہر ہے یہ زیادہ ضروری تھا کیوں کہ آپ اپنے روزگار اور زندگی کے معیار کی بات کر رہے ہیں۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں