’شاداب کے لیے تالیاں، مگر گونج کب تک سنائی دے گی؟‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

وانڈررز کرکٹ سٹیڈیم پیر کی صبح شائقین کے ساتھ ساتھ جذبات سے بھی خالی تھا۔ گو جنوبی افریقہ کی فتح نوشتۂ دیوار تھی مگر ان کے کھلاڑیوں کے چہروں پر کوئی خاص جوش نہیں جھلک رہا تھا۔

سورج خالی سٹینڈز پر چمک رہا تھا۔ کمنٹری مائیک پر کمنٹیٹرز کی آوازیں بھی جذبات سے عاری تھیں جیسے کسی طے شدہ سکرپٹ پر سرسری سی ماہرانہ رائے دی جا رہی ہو۔

نفسیاتی پیرائے میں تو طے ہی تھا کہ جنوبی افریقہ کو جیتنا ہے مگر کرکٹنگ زاویے سے اس جیت کے سامنے کچھ سوال ضرور کھڑے تھے کہ اگر پاکستانی بیٹنگ نے ذرا سی مزاحمت دکھا دی تو جو وکٹ کی روش ہے، کہیں پانسہ پلٹنے نہ سہی، کھیل لٹکنے کی نوبت ہی نہ آ جائے۔

یہ بھی پڑھیے

جنوبی افریقہ کا کلین سویپ، پاکستان کو 107 رنز سے شکست

جوہانسبرگ ٹیسٹ: ’وہی بند گلی، وہی ڈراؤنے سپنے‘

انضمام صاحب! آپ کا ’اینگری ینگ پاکستان‘ فلاپ ہو گیا

’ٹیسٹ کی کپتانی سرفراز کے بس کی بات نہیں‘

یاسر شاہ نے ایسا کیا مختلف کیا جو اتنے کامیاب ٹھہرے؟

وانڈررز کی وکٹ چوتھے دن تک قریب قریب سارا باؤنس گنوا بیٹھتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شراکت پنپنے لگ جائے تو مخالف کپتان کے پاس سپنرز کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا اور ایلگر کے پاس تو کوئی سپنر بھی نہیں تھا۔

سات وکٹیں باقی رکھنے والے پاکستان کے پاس یہ تو موقع بہر حال تھا ہی کہ اس ہار کو حسبِ توفیق موخر کیا جائے۔ اس وکٹ سے بولرز کو کچھ خاص مدد ملنے والی نہیں تھی۔ یہاں صرف نفسیاتی حربے ہی کسی مستند بلے باز کے پاوں اکھاڑ سکتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

عموما ایشیائی ٹیموں کے بیٹنگ فگرز ان وکٹوں پر مفلوک الحالی کا سماں پیش کرتے ہیں۔ مگر اس سیریز کی دلچسپ بات یہ رہی ہے کہ سیریز کے ٹاپ تھری بلے بازوں میں شان مسعود دوسرے جبکہ بابر اعظم تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس سے یہ عقدہ تو کھلتا ہے کہ ہار کی ساری وجہ بیٹنگ کے مسائل ہی نہیں ہیں۔

خیر یہاں تو اسد شفیق بھی موجود تھے۔ بابر اعظم بھی کھڑے تھے۔ سرفراز، شاداب اور فہیم اشرف بھی باقی تھے۔ یہ اندازہ تھا کہ کم از کم پہلا سیشن تو پاکستان نکال ہی جائے گا۔ اسد شفیق جس خوبصورتی سے کٹ کھیل رہے تھے ایک بار تو لگا کہ کہیں برسبین 2016 کی یادیں نہ تازہ کر دیں۔

مگر پھر کیا، توقعات کو خدشات میں بدلتے پل بھی نہ لگا۔ جس نفسیاتی شکنجے کا خوف تھا، اسد شفیق اسی کے جھانسے میں آ گئے۔ بابر اعظم اور سرفراز پر بھی یہی گزری۔ بچے تو صرف شاداب خان، جنھوں نے کمال گیم سینس کا مظاہرہ کیا۔

ایلگر نے کپتانی بھی خوب کی۔ جہاں مڈل آرڈر کے مستند بلے باز سامنے تھے وہاں فیلینڈر کو لا کر بوریت پیدا کی اور رنز روک کر وکٹیں بٹوریں۔ جب ٹیل شروع ہوئی تو ربادا اور سٹین کے ذریعے رنز دے کر وکٹیں حاصل کیں۔

مگر اس ساری تعزیتی ریفرنس کی سی کارروائی میں پاکستانی ڈریسنگ روم کے لیے ایک خوشبو کا جھونکا بھی آیا جب شاداب خان نے کسی مشاق فرسٹ کلاس کرکٹر کی طرح کریز پر قبضہ جما کر چھوٹی چھوٹی شراکتیں جوڑنا شروع کر دیں۔

دوسرے اینڈ پر حسن علی نے اپنے تئیں ایک مختصر سی نفسیاتی جنگ چھیڑ لی اور ربادا کو پریشان کرنا شروع کر دیا لیکن جس قدر مفصل اور روشن اننگز شاداب خان نے کھیلی، وہ اس قدر سِیکھ دینے والی تھی کہ اگلے چند روز اظہر علی، سرفراز احمد اور اسد شفیق کو اس کی ویڈیو دیکھ کر یہ سمجھنا چاہیے کہ شدید دباؤ میں بنیادی تکنیک کو کیسے یاد رکھا جائے۔

سیریز تو خدا خدا کر کے ختم ہو ہی چکی، سوال صرف یہ ہے کہ اب جبکہ اگلے سات ماہ تک پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی کوئی اسائنمنٹ نہیں ہے، تب تک یہ شرمناک شکست اور اس کے بیچ سیکھے معمولی معمولی سبق کس کو یاد رہیں گے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان اسی ڈریسنگ روم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہو گا یا تھنک ٹینک تب تک کوئی اور انقلاب برپا کر چکا ہو گا؟

یہ طے کرنا بہرحال نہایت ضروری ہے کہ اگلی بار پاکستان جب ٹیسٹ کے اکھاڑے میں اترے گا تو کون سا نظریہ جیب میں لے کر اترے گا؟ کیا اظہر علی، اسد شفیق اور سرفراز ہی اس نیّا کے ناخدا ہوں گے یا پھر ویسٹ انڈیز ماڈل اپنا کر ہولڈر کی طرح کسی نو آموز کو کپتانی دے دی جائے گی اور ایک بار پھر نئی ٹیم بنانے کا جوا کھیلا جا رہا ہو گا۔

آج کی خوبصورت ترین اننگز میں ایک لمحہ وہ بھی آیا جب ایک ہی اوور میں شاداب خان نے سٹین کو دو چوکے لگائے تو پاکستانی ڈریسنگ روم میں کافی تالیاں گونجیں۔ ان تالیاں بجانے والوں میں اظہر علی، اسد شفیق اور سرفراز احمد بھی تھے۔

سوال صرف اتنا کہ کیا ستمبر تک ان تالیوں کی گونج ان کے کانوں میں زندہ رہ پائے گی؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں