سرفراز احمد نے ’نسل پرستانہ‘ فقرے پر معافی مانگ لی مگر آئی سی سی کا فیصلہ ابھی باقی ہے

سرفراز احمد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے خلاف آئی سی سی کی جانب سے ممکنہ کارروائی کا فیصلہ جمعرات کو متوقع ہے۔

سرفراز احمد بدھ کے روز جوہانسبرگ میں آئی سی سی کے میچ ریفری رنجن مدوگالے کے سامنے پیش ہوئے اور کہا تھا کہ ان سے نادانستگی میں یہ جملہ ادا ہوگیا لیکن نسلی تعصب کا تاثر درست نہیں ہے۔ رنجن مدوگالے نے ان کا موقف سننے کے بعد ضابطے کی کارروائی کے بعد رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی ہے۔

دریں اثنا سرفراز احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی اس حرکت پر معافی مانگی ہے۔

سیریز کے پچھلے میچز کے بارے میں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

سرفراز منہ کیوں چھپا رہے تھے؟

کرکٹ میں نسلی امتیاز کے واقعات اور ان کے اثرات

جنوبی افریقہ کی پاکستان کے خلاف پانچ وکٹوں سے جیت

پاکستان نے جنوبی افریقہ کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی

سرفراز احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میں ہر اس شخص سے معافی کا طلبگار ہوں جسے تکلیف پہنچی ہے۔ میرے الفاظ براہ راست کسی کے لیے نہیں تھے اور میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ کسی کو میں تکلیف پہنچاؤں۔ میں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی میدان میں اور میدان سے باہر ساتھی کرکٹرز کے ساتھ بھائی چارے کو قائم رکھوں گا۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی بدھ کی شب جاری کردہ بیان میں سرفراز احمد کی حرکت پر افسوس کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ اس واقعے کی وجہ سے یہ سیریز متاثر نہیں ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اینڈیل پہلوک وایو کے بارے میں ناشائستہ لفظ استعمال کرنے پر سرفراز احمد مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں

ہوا کیا تھا؟

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے ایک روزہ میچ کے دوران سرفراز احمد نے جنوبی افریقی کھلاڑی اینڈیل پہلوک وایو کے بارے میں بظاہر نسل پرستانہ الفاظ استعمال کیا تھا۔

ڈربن میں کھیلے گئے اس میچ میں جنوبی افریقی اننگز کے دوران 37ویں اوور میں پہلوک وایو نے پاکستانی بولر شاہین آفریدی کی گیند پر اپنی نصف سنچری مکمل کی تو اس موقع پر سٹمپ مائیک کے ذریعے کپتان سرفراز کا فقرہ واضح طور پر سنائی دیا گیا جس میں انھوں نے پہلوک وایو کو اردو میں نسل پرستانہ لفظ سے مخاطب کرتے ہوئے ان کی بیٹنگ میں مسلسل خوش قسمتی پر جملہ کسا۔

گو کہ جملہ ٹی وی پر واضح طور پر سنائی دیا گیا تھا لیکن جب کمینٹیٹر مائیک ہیزمین نے اپنے پاکستانی ساتھی رمیز راجہ سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ 'یہ کافی لمبا جملہ ہے جس کا ترجمہ کرنا تھوڑا مشکل ہے۔'

میچ کی پہلی اننگز میں پاکستان کے 204 رنز کے جواب میں جنوبی افریقی بیٹنگ لائن شدید مشکلات میں تھیں لیکن وان ڈر ڈسین اور پہلوک وایو نے 127 رنز کی ناقابل شکست شراکت جوڑی اور اپنی ٹیم کو جیت دلائی۔

مین آف دا میچ کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلوک وایو نے اپنی اننگز میں 69 رنز بنائے لیکن قسمت نے مسلسل ان کا ساتھ دیا جب ایک بار ڈی آر ایس نے ان کو ایک زندگی عطا کی، اس کے علاوہ متعدد بار وہ یقینی طور پر آؤٹ ہوتے ہوتے بچے اور ایک بار تو ان کا کیچ بھی ڈراپ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اینڈیل پہلوک وایو نے آل راؤنڈ کھیل پیش کرتے ہوئے چار وکٹیں بھی حاصل کی تھیں

سزا کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟

واضح رہے کہ عالمی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے 2012 میں نسل پرستانہ رویہ کے خاتمے کے لیے بنائے گئے قوانین کے مطابق پہلی بار نسل پرستانہ رویہ دکھانے کے الزام میں دو سے چار ٹیسٹ میچ یا چار سے آٹھ محدود اوورز کے مقابلوں میں شرکت کرنے پر پابندی عائد ہوگی جبکہ یہ جرم دوبارہ کرنے پر تاحیات پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا ابھی تک منتظمین نے سرفراز احمد کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں اور نہ ہی اس بات کی تصدیق ہو سکی ہے کہ جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کا اس بارے میں کیا رد عمل ہے۔

البتہ قوانین کی روشنی میں میچ کے منتظمین اپنے طور پر خود قدم اٹھا سکتے ہیں لیکن اس میں دیکھنا یہ ہوگا کہ اگر وہ کوئی کاروائی کرتے ہیں تو کیا وہ سرفراز احمد کے جملے کو آئی سی سی کے بنائے گئے کھلاڑیوں کے رویے کے قوانین کے تحت جانچیں گے یا نسل پرستانہ رویہ کے خاتمے کے لیے بنائے گئے قوانین کے تحت کاروائی کریں گے۔

آئی سی سی کے قانون میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی کھلاڑی نے اپنے کسی بھی ساتھی کھلاڑی یا میچ کے منتظمین اور شائقین کے ساتھ ان کے نسل، ذات، رنگ، مذہب، ثقافت، قومیت وغیرہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتا تو ان پر ان قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔

سرفراز کے الفاظ پر سوشل میڈیا کا ردعمل

دوسری جانب سوشل میڈیا پر سرفراز احمد کی جانب سے کہے گئے جملے پر تبصروں کی بوچھاڑ ہو گئی جہاں ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے پاکستانی کپتان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سرفراز کے رویے کی تنقید کرنے والوں میں سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر بھی شامل تھے جنھوں نے ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں پاکستانی کپتان کی جانب سے کہے گئے جملے کو شرمناک قرار دیا اور کہا کہ سرفراز کو فی الفور عوامی طور پر معافی مانگنی چاہیے۔

اسی طرح اسلام آباد یونائٹیڈ کے مینیجر ریحان الحق نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا کہ وہ میدان کھیل میں ہلکی پھلکی نوک جھونک کی تائید کرتے ہیں لیکن نسل پرستانہ رویہ قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے اور شائقین اور کھلاڑیوں دونوں کو اس بارے میں مزید آگاہی دینا ضروری ہے۔

ایک اور صارف انعم ندیم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سرفراز احمد کے خلاف سخت کاروائی کریں۔

صارف زلفی جاوید لکھتے ہیں کہ ’ہم بحیثیت قوم نسل پرستی کرنے والے بن گئے ہیں یہ عادت ہم میں اتنی سرایت کر گئی ہے کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا اور سرفراز اسے بات کی مثال ہیں جو ہم سب گذشتہ کئی دہائیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ جنوبی افریقہ میں 1948 سے 1990 کے اوائل تک نسلی امتیاز کا راج تھا جس کے تحت ملک بھر میں سفید فام افراد کی حکمرانی تھی اور انھیں ہر شعے میں فوقیت دی جاتی جبکے سیاہ فام افریقی، ایشیائی اور دیگر نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا۔

اسی رویے کے باعث 1970 کے بعد سے کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک نے جنوبی افریقہ کے ساتھ روابط ختم کر دیے تھے جو کہ 1991 میں جا کر بحال ہوئے۔

اسی بارے میں