سرفراز منہ کیوں چھپا رہے تھے؟

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غالباً اب وہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی ٹاپ آرڈر بلے باز آپس میں سر جوڑ کر بیٹھیں، بلکہ بیٹنگ کوچ کو بھی اس سرگرمی میں شامل کر لیں اور نہ صرف خود سے بلکہ ایک دوسرے سے بھی پوچھیں کہ اگر ہمیں پُل شاٹ کھیلنی نہیں آتی تو ہم ایسا جتن ہی کیوں کرتے ہیں۔

یہ بحث اپنی جگہ کہ یہ وکٹ کیسی تھی، نمی کتنی تھی، گھاس کتنی تھی، کس کے لیے سازگار تھی اور کس کی طبعِ نازک کو موافق نہ تھی۔ فی الوقت یہ گتھی سلجھانا ضروری ہے کہ اس درجے کی کرکٹ میں احباب کی تکنیک میں ایسی بنیادی خامیاں ابھی تک کیونکر ہیں۔

اسے بارے میں مزید پڑھیے

جنوبی افریقہ کی پاکستان کے خلاف پانچ وکٹوں سے جیت

’نسل پرستانہ‘ لفظ کا استعمال، کپتان سرفراز مشکل میں

پاکستان نے جنوبی افریقہ کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی

امام الحق پچھلے میچ میں بہت عمدہ کھیل گئے۔ مگر اگلی بار جب مقابلہ ہو تو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ حریفوں کے ڈریسنگ روم میں بھی کوئی ویڈیو اینالسٹ موجود ہو گا جو تکنیک کی باریکیاں نکال کر پلان تیار کر سکتا ہے۔

ربادا نے نہایت مہارت سے امام الحق کو کریز کے اندر سے آہستہ آہستہ گھسیٹنا شروع کیا اور جب وہ مکمل طور پہ فرنٹ فٹ پہ جم گئے تو اچانک ایک گیند سرعت سے اچھل کر منہ کے سامنے آ گئی۔

امام الحق چاہتے تو اس سے کنارہ کشی کر سکتے تھے مگر انہوں نے نجانے کیوں پُل شاٹ کھیلنے کا تہیہ کر لیا اور نتیجتاً کیچ دے بیٹھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حسن علی نے اپنی دوسری نصف سنچری مکمل کر لی

بابر اعظم بھی بہت اچھی ٹائمنگ سے کھیل رہے تھے اور دلکش سٹروکس کی نمائش کر رہے تھے۔ پھر امام کی طرح وہ بھی فرنٹ فٹ پہ تھے کہ اچانک باؤنس کرتی ہوئی گیند ان کے سامنے آگئی اور ان کی اننگز تمام کر گئی۔

فخر زمان نے بھی کچھ مختلف نہیں کیا۔ اسی طرح ایک شارٹ پچ گیند اچانک باؤنس ہو کر منہ کے سامنے آتے دیکھی تو پُل شاٹ کھیلنے کی کوشش کر تے ہی اپنی وکٹ گنوا ڈالی۔

اب تو ان بلے بازوں کے پاس یہ جواز بھی نہیں رہ گیا کہ ایشین کنڈیشنز سے فوری یوں باؤنسی وکٹوں پہ ایڈجسٹ ہونا ممکن نہیں رہتا کیونکہ اب تو انہیں وہاں پہنچے ہوئے بھی ایک ماہ ہونے کو ہے۔ کیا ابھی بھی آب و ہوا سے مطابقت نہیں ہو پائی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہین آفریدی نے اپنے پہلے ہی سپیل میں تین کھلاڑی آؤٹ کر دیے تھے

پاکستان کے پاس یہ بہترین موقع تھا کہ سیریز میں اپنی برتری کو مستحکم کرتا اور ڈوپلیسی کی کنفیوژن میں مزید اضافہ کر دیتا۔ مگر اس کے بجائے پاکستان خود ہی کنفیوز سا دکھائی دیا۔

وہ تو بھلا ہو حسن علی کا کہ آخری اوورز میں ایسی کلین ہٹنگ کی وگرنہ شاید یہ میچ چار گھنٹوں میں ہی نمٹ جاتا۔

اس کے بعد شاہین آفریدی نے جیسی کاٹ دار بولنگ کی، اگر یہاں بیس تیس رنز بھی اور ہوتے تو میچ ضرور پھنس جاتا۔

جب شاداب خان نے یکے بعد دیگرے ملر اور کلاسن کو آوٹ کیا تو ایک بار امید سی بندھی کہ شاید قسمت بازی پلٹ دے۔ مگر وہ کہتے ہیں ناں کہ قسمت بھی دلیروں کا ساتھ دیتی ہے، ویسی دلیری پاکستانی فیلڈ میں نظر نہ آ سکی۔

ابھی 71 رنز باقی تھے اور یہ بھی واضح تھا کہ پہلوک وایو اور ڈسین کی پارٹنرشپ ٹوٹنے کی دیر ہے، پروٹیز کے اعصاب مضمحل ہونے لگیں گے۔ مگر ان کے اعصاب بھلا کیا تھکتے، سرفراز خود ہی سٹمپس کے پیچھے شکست خوردگی کی تصویر بننے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپنا دوسرا میچ کھیلنے والے وان ڈر ڈسین نے مین آف دا میچ اینڈیل پہلوک وایو کے ساتھ ناقابل شکست 127 رنز کی شراکت جوڑی

کپتان کا بنیادی کام کرکٹ کھیلنا یا کھلانا نہیں ہوتا، اسے اپنے طرزِ عمل سے اپنے ڈریسنگ روم کا رویہ طے کرنا ہوتا ہے۔

سرفراز نے کل بیٹنگ تو خوب کی مگر فیلڈ میں اس طرح کا رویہ نہ اپنا پائے جو ایسے چھوٹے اہداف کے دفاع کرنے والے کپتان کا ہونا چاہیے۔

یہ سیریز ابھی باقی ہے۔ جنوبی افریقی ٹیم جس گومگو سے گزر رہی ہے، اس میں بعید نہیں کہ وہ ٹیم سلیکشن میں مزید غلطیاں بھی کرے۔

مگر ان غلطیوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے سرفراز کو سر اٹھا کر دیکھنا ہو گا نہ کہ گلوز کے پیچھے منہ چھپا کر کفِ افسوس مَلنا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں