کرکٹ میں نسلی امتیاز کے واقعات اور ان کے اثرات

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption باسل ڈی اولیورا کو ساتھی کھلاڑیوں نے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کی جانب سے جنوبی افریقی کرکٹر فیُلوک وایو پر مبینہ نسل پرستانہ فقرہ کسے جانا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

باسل ڈی اولیورا جنوبی افریقہ کے لیے ناقابل قبول

باسل ڈی اولیورا جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے کرکٹر تھے لیکن جنوبی افریقہ کی نسلی امتیاز کی پالیسی کے سبب انہوں نے انگلینڈ کا رخ کیا اور ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کی نمائندگی کی لیکن جب انگلینڈ کی ٹیم کے دورۂ جنوبی افریقہ کا وقت آیا تو جنوبی افریقی حکومت نے ان کی ٹیم میں موجودگی پر اعتراض کردیا جس کے سبب یہ دورہ منسوخ کرنا پڑا اور جنوبی افریقہ پر نسلی امتیاز کی پالیسی کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند کردیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رابن جیکمین ویسٹ انڈیز کے لیے ناپسندیدہ

1980ء میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی انگلینڈ کی ٹیم میں فاسٹ بولر رابن جیکمین بھی شامل تھے لیکن جب ٹیم گیانا پہنچی تو وہاں کی حکومت نے رابن جیکمین کو ویزا دینے سے انکار کردیا۔ حکومت کا موقف تھا کہ رابن جیکمین کے نسلی امتیاز کی پالیسی کے دنوں والے جنوبی افریقہ سے روابط رہے ہیں ۔ اس صورتحال کے پیش نظر انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان گیانا ٹیسٹ منسوخ کرنا پڑگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کالن کرافٹ کو ٹرین سے اتاردیا گیا

ویسٹ انڈیز کے کرکٹرز کی ایک ٹیم نے 1983ء میں جنوبی افریقہ کا اسوقت دورہ کیا جب جنوبی افریقہ پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند تھے۔ اسی دورے میں فاسٹ بولر کالن کرافٹ کو کنڈکٹر ولی وان زل نے یہ کہہ کر ٹرین سے اتاردیا کہ یہ بوگی صرف اور صرف سفید فام لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔ کنڈکٹر کو بتایا گیا کہ کالن کرافٹ ایک کرکٹر ہیں لیکن ولی وان زل مصر تھے کہ کرافٹ کو یہاں سے جانا ہی ہوگا۔

پندرہ سال بعد جب حالات بدلے اور کالن کرافٹ کمنٹیٹر کی حیثیت سے جنوبی افریقہ گئے تو ولی وان زل نے ان سے ملاقات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیئے

’نسل پرستانہ‘ لفظ کا استعمال، کپتان سرفراز مشکل میں

’تماشائی نے عمران طاہر کو نسل پرستانہ گالی دی‘

’نسل پرستانہ رویہ آسٹریلیا کے لیے کھیلنے کی راہ میں رکاوٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برائن لارا سیاہ فاموں سے ہارنے پر خوش

1996ء کے عالمی کپ میں ویسٹ انڈیز کوغیرمتوقع طور پر کینیا نے ہرادیا۔ میچ کے بعد برائن لارا کینیا کے ڈریسنگ روم میں گئے اور کھلاڑیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں آپ سے ہارنا برا نہیں لگا کیونکہ آپ سیاہ فام ہو ۔ جنوبی افریقہ جیسی ٹیم کا معاملہ مختلف ہے۔ہم سفید ٹیم سے ہارنے کا نہیں سوچ سکتے۔

برائن لارا کا یہ بیان وہاں موجود ایک صحافی نے رپورٹ کردیا جس کے بعد لارا کو معافی مانگنی پڑی تھی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر شائع کیا گیا تھا۔

ڈیرن لی مین سے سری لنکا ناراض

2003ء میں آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان برسبین کے ون ڈے کے دوران ڈیرن لی مین نے رن آؤٹ ہونے کا غصہ سری لنکن ٹیم پر نسلی تعصب پر مبنی فقرے کے ذریعے اتارا جو انہیں مہنگا پڑگیا اور آئی سی سی میچ ریفری کلائیو لائیڈ نے ان پر پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی پابندی عائد کردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

راشد لطیف نےگلکرسٹ کو کیا کہا؟

2003ء کے عالمی کپ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے میچ میں آسٹریلوی وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ نے اپنے ہم منصب راشد لطیف پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ان پر نسلی تعصب پر مبنی فقرہ کسا ہے۔ یہ معاملہ آئی سی سی کے میچ ریفری کلائیولائیڈ کے پاس گیا اور عدم شواہد پر راشد لطیف اس الزام سے بری کردیے گئے۔

راشد لطیف نے جوابی طور پر آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا کہ اس الزام سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے تاہم وہ اس قانونی چارہ جوئی کو عملی جامہ نہ پہناسکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سائمنڈز کا ہربھجن سنگھ پر الزام

2007 ء میں آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان سڈنی ٹیسٹ میں بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ اور آسٹریلوی آل راؤنڈر اینڈریو سائمنڈز آپس میں الجھ پڑے۔ اس تلخ کلامی میں سائمنڈز نے ہربھجن سنگھ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے انہیں بندر کہا ہے۔ آئی سی سی نے ہربھجن سنگھ پر تین میچوں کی پابندی عائد کردی جس پر بی سی سی آئی نے یہ دورہ ختم کرنے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔ بعد میں تین میچوں کی پابندی کی سزا ختم کرکے اسے جرمانے میں تبدیل کردیا گیا۔

کمنٹیٹر نے کرکٹر کو دہشت گرد بنا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2007ء میں جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے درمیان جب ہاشم آملا نے کمار سنگاکارا کا کیچ لیا تو اس میچ کی کمنٹری کرنے والے آسٹریلوی ڈین جونز بول پڑے ʺ دہشت گرد نے ایک اور وکٹ حاصل کرلی ʺ ۔

اگرچہ ڈین جونز نے اس بات پر ہاشم آملا سے معافی مانگ لی لیکن انہیں کمنٹری سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اصلی مونٹی پنیسر کون ہے؟

2014 ء کی ایشیز سیریز کے موقع پر کرکٹ آسٹریلیا کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل نے روایتی پگڑی پہنے چار سکھوں کی تصویر پوسٹ کی جس پر لکھا تھا ʺکیا اصلی مونٹی پنیسر کھڑے ہوجائیں گے پلیز ʺ ۔

کرکٹ آسٹریلیا کو نہ صرف یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا بلکہ معافی بھی مانگنی پڑی۔

اسی بارے میں