آئی سی سی نے پاکستان کے کپتان سرفراز احمد پر چار میچوں کی پابندی عائد کر دی

سرفراز احمد تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد پر نسلی تعصب سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر چار میچوں کی پابندی عائد کر دی ہے۔

اس فیصلے کی رو سے سرفراز احمد جنوبی افریقہ کے خلاف آخری دو ون ڈے انٹرنیشنل اور پہلے دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیل سکیں گے۔

آئی سی سی نے اس فیصلے کا اعلان اتوار کو کیا۔

سرفراز احمد نے 22 جنوری کو پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ڈربن میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں جنوبی افریقی بیٹسمین اینڈی فیلک وایو کو مخاطب کرتے ہوئے اردو میں فقرہ کسا تھا جو آئی سی سی کے نسلی تعصب سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

اس حوالے سے مزید پڑھیے

سرفراز احمد نے ’نسل پرستانہ‘ فقرے پر معافی مانگ لی

کرکٹ میں نسلی امتیاز کے واقعات اور ان کے اثرات

سرفراز منہ کیوں چھپا رہے تھے؟

واضح رہے کہ آئی سی سی نے سنہ 2012 میں نسلی تعصب کی حوصلہ شکنی کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے تھے جس کے مطابق پہلی مرتبہ نسل پرستانہ رویہ دکھانے والے کرکٹر پر دو سے چار ٹیسٹ یا محدود اوورز کے چار سے آٹھ میچوں کی پابندی عائد ہو گی جبکہ دوبارہ اس جرم کے ارتکاب پر تاحیات پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

آئی سی سی کے قوانین میں درج ہے کہ اگر کسی کھلاڑی نے اپنے کسی بھی ساتھی کھلاڑی یا میچ کے منتظمین اور شائقین کے ساتھ نسل، ذات، رنگ، مذہب، ثقافت، قومیت وغیرہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتا تو اس پر ان قوانین کا اطلاق ہو گا۔

سرفراز احمد کے اس فقرے کو سٹمپ مائیک کی وجہ سے سنا گیا تھا جس کے بعد انھیں آئی سی سی کے میچ ریفری رنجن مدگالے کے سامنے پیش ہونا پڑا تھا جنھوں نے پاکستانی کپتان کا مؤقف سننے کے بعد اپنی رپورٹ آئی سی سی کو بھیج دی تھی۔

سرفراز احمد نے اپنی اس حرکت پر ٹوئٹر کے ذریعے معافی مانگ لی تھی جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی اس معاملے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ اس سے سیریز متاثر نہیں ہو گی۔

سرفراز احمد نے تیسرے ون ڈے سے قبل اینڈی فلیک وایو سے ملاقات کی تصویر ٹویٹ کی تھی اور یہ لکھا تھا کہ انھوں نے فلیک وایو سے اپنی حرکت پر معافی مانگی جو انھوں نے قبول کر لی۔

سرفرازاحمد نے یہ بھی لکھا تھا کہ انھیں امید ہے کہ جنوبی افریقی عوام بھی ان کی معذرت قبول کر لیں گے۔

دوسری جانب جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی نے تیسرے ون ڈے سے قبل کہا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم سرفرازاحمد کو معاف کرچکی ہے کیونکہ وہ اپنی غلطی پر معذرت کرچکے ہیں۔

جنوبی افریقی کپتان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور اب اس بارے میں آئی سی سی ہی فیصلہ کرے گی تاہم انھیں یقین ہے کہ سرفراز احمد نے جو کچھ کہا اس کا مطلب وہ ہرگز نہیں تھا لیکن جب آپ جنوبی افریقہ آتے ہیں تو آپ کو نسلی امتیاز سے متعلق گفتگو میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں