یہ ’پِنک ڈے‘ تھا کہ عثمان شنواری کا دن؟

عثمان خان شنواری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سرفراز سر جھٹکتے رہ گئے۔ افسوس کا اظہار بھی کیا۔ بالمشافہ جا کر پیلکوائیو سے معذرت بھی کر ڈالی۔ مگر آئی سی سی کے اپنے قوانین ہیں۔ ان سے بحث ممکن نہیں۔

پاکستان کے لیے یہ قطعی اچھی خبر نہ تھی۔ طُرہ یہ کہ پچھلے دو دنوں میں یہ دوسری بڑی بدقسمتی تھی۔ پچھلے ون ڈے میں بارش کے طفیل پاکستان ایک جیتی جنگ ہار بیٹھا۔ پھر یہ کہ سرفراز چار میچز کے لیے باہر بیٹھ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

سرفراز منہ کیوں چھپا رہے تھے؟

کیا سرفراز کی ٹیم ڈوپلیسی الیون سے بہتر ہے؟

’محمد حفیظ جیت گئے، ہاشم آملہ ہار گئے‘

’شاداب کے لیے تالیاں، مگر گونج کب تک سنائی دے گی‘

مگر اس دوران پاکستانی ڈریسنگ روم نے بہترین فیصلہ یہ کیا کہ ایک بار پھر شعیب ملک کو قائدانہ صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا گیا۔ جس طرح کی یہ وکٹ تھی، کوئی اور ہوتا تو پہلے بیٹنگ کا سوچتا۔ مگر شعیب ملک نے پہلے بولنگ کا سوچا۔

جنوبی افریقہ کے مڈل آرڈر نے پچھلے دو میچوں میں جو کارکردگی دکھائی ہے، اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس بیٹنگ لائن کو اس وکٹ پہ 250 رنز آسانی سے کر لینے چاہیے تھے۔

شروع میں شاہین شاہ آفریدی نے جس تیکھی اپروچ کے ساتھ بولنگ کی، وہ ڈی کاک اور ہینڈرکس کی سمجھ سے بالا ہی رہی۔ شاہین شاہ آفریدی کا یہ خاصہ ہے کہ وہ نئے گیند کی سیم کا بہترین استعمال کرتے ہیں اور ایک ہی لینتھ سے مختلف ورائٹیز پیدا کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈوپلیسی اور ہاشم آملہ دونوں بہت گھاگ بیٹسمین ہیں مگر وکٹ ان کی توقع سے بھی زیادہ خشک ثابت ہوئی

ڈوپلیسی اور ہاشم آملہ گو دونوں بہت گھاگ بیٹسمین ہیں مگر وکٹ ان کی توقع سے بھی زیادہ خشک ثابت ہوئی اور شعیب ملک کی کپتانی اس سے سوا۔ جس طرح سے شعیب ملک نے اپنے اٹیک میں سپن اور پیس کا توازن طے کیا، اس کے بعد آملہ اور ڈوپلیسی دونوں کو واضح نظر آ چکا تھا کہ یہاں پہلی ترجیح بقا ہی ہونی چاہیے۔

اس کے بعد پاکستانی بولرز نے کہیں بھی ڈھیلے رنز نہیں دیے۔ بھلے سو کی پارٹنرشپ لگ گئی، جنوبی افریقی اننگز بھی پھر سے جمنے لگی مگر اس دوران رنز کا جو قحط پیدا ہوا، اس نے فاف ڈوپلیسی کو مجبور کر دیا کہ وہ شاداب خان کے خلاف بلا گھمائیں۔

مگر شاداب ان کی توقع سے بہت بہتر نکلے اور ایک بار پھر پاکستان کا پلہ بھاری ہو گیا۔ پاکستانی بولنگ کی بہترین بات یہ رہی کہ سپنرز نے یہاں صرف رنز ہی نہیں روکے، ڈوپلیسی اور آملہ کی وکٹیں بھی حاصل کیں جنہوں نے اس نو آموز بیٹنگ کو سہار رکھا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اوپنر امام الحق نے بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کر کے 91 گیندوں میں 71 رنز بنائے

کسی کپتان کی قائدانہ صلاحیتوں کا پتا اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے سپنرز کو کیسے، کہاں اور کتنا استعمال کرتا ہے۔ شعیب ملک نے صرف سپنرز کو ہی نہیں، اپنے پیسرز کو بھی کمال مہارت سے استعمال کیا۔

محمد عامر نے بالکل درست وقت پہ ملر کی وکٹ حاصل کی اور اس کے بعد یہ دن صرف اور صرف عثمان شنواری کا ہو کر رہ گیا۔ پرانے گیند کو جس طرح سے انہوں نے ریورس سوئنگ کیا اور لینتھ کا جس خوبصورتی سے استعمال کیا، یہ بدقسمتی رہی کہ ایک بار پھر وہ ہیٹ ٹرک نہ کر پائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن ایک اوور میں تین وکٹیں یہ طے کر گئیں کہ آج جیت کس کی ہو گی۔ پلیئرز کے لیے کوئی دن ایسا ہوتا ہے کہ ایسی روانی طاری ہو جاتی ہے جہاں مہارت پرفیکشن کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے بعد ہی ایسی تباہ کن پرفارمنس دیکھنے کو ملتی ہے۔

جنوبی افریقی کلچر میں یہ دن خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ’پِنک ڈے‘ کی کرکٹ بھی روٹین سے کافی ہٹ کر ہوتی ہے۔ اس روز چوکوں چھکوں کی برسات ہوتی ہے اور عموماً یہ برسات میزبان ٹیم کی جانب سے ہوتی ہے۔

مگر یہاں رنز کی کوئی برسات نہیں ہوئی۔ یہاں ایسا لگا ہی نہیں کہ یہ پنک ڈے تھا۔ یہاں تو بس یہی نظر آیا کہ یہ عثمان شنواری کا دن تھا۔

اسی بارے میں