کیپ ٹاؤن: جنوبی افریقہ نے پاکستان کو ون ڈے سیریز بھی ہرا دی

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیپ ٹاؤن میں ایک روزہ کرکٹ میچوں کی سیریز کے پانچویں اور آخری میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے کھیلتے ہوئے اسے 241 رنز کا ہدف دیا تھا جسے جنوبی افریقہ نے تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

جنوبی افریقہ نے ایک ایسی پچ پر جہاں ماضی میں ٹیموں کے لیے ہدف کا تعاقب انتہائی مشکل رہا ہے 241 رنز کا ہدف دس اوور پہلے ہی حاصل کر لیا۔

میزبان ٹیم کی جانب سے اوپنر کوئنٹن ڈی کاک کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جو اننگز کے آغاز میں شینورای کی گیند پر آؤٹ ہو گئے تھے لیکن بعد میں اے نو بال قرار دیا گیا اور انھوں نے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور 83 رنز کی اننگز کھیل کر میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔

اس ون ڈے سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے پر پاکستان کے امام الحق کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ انھوں نے پانچ میچوں میں 241 رنز بنائے تاہم وہ آخری میچ میں بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

جنوبی افریقہ کی طرف سے کپتان ڈوپلیسی اور ڈیوسن نے بھی عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور دونوں بلے بازوں نے اپنی اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں۔

گذشتہ میچ کے مقابلے میں آج پاکستان کی بولنگ میزبان ٹیم پر زیادہ دباؤ نہ ڈال سکی اور پاکستان بولر صرف تین کھلاڑی ہی آؤٹ کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی جانب سے شاداب خان سب سے مہنگے بولر رہے جنھوں نے اپنے دس اووروں میں 78 رنز دیے اور ایک بھی وکٹ نہ حاصل کر سکے۔

پاکستان کی اننگز

پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 50 اووروں میں 240 رنز بنائے اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔

عماد وسیم نے نہایت عمدہ بلےبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 31 گیندوں پر 47 رنز بنائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر زمان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 70 رنز سکور کیے

پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ سکور فخر زمان نے بنائے جنھوں نے 70 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ وہ پیلنکوائیو کی گیند پر باؤنڈری لائن پر طاہر عمران کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ عمران طاہر کا پاؤں لکیر سے صرف ایک انچ کی دوری پر تھا اور تھرڈ امپائر نے کئی ری پلے دیکھنے کے بعد جنوبی افریقہ کے حق میں فیصلہ دیا۔

شعیب ملک نے 31 رنز بنائے، جب کہ محمد حفیظ 17 اور بابر اعظم 24 رنز بنا سکے۔ شاداب خان نہایت سست روی سے کھیلتے ہوئے 42 گیندوں پر صرف 19 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انھیں ملڈر نے آؤٹ کیا۔

پاکستان کی جانب سے ان فارم اوپنر امام الحق اور فخر زمان نے اننگز کا آغاز کیا۔ اس سیریز میں دو نصف سنچریاں اور ایک سنچری بنا کر پاکستان کے ٹاپ سکورر رہنے والے امام الحق اس مرتبہ ناکام رہے اور صرف آٹھ رنز بنانے کے بعد ڈیل سٹین کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے پیلنکوائیو اور پریٹوریئس نے دو دو وکٹیں لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈوین پریٹوریئس نے بابر اعظم کی قیمتی وکٹ حاصل کی

یہ سیریز اس وقت دو، دو سے برابر ہے اور کیپ ٹاؤن میں کھیلا جانے والا یہ میچ اس سیریز کے فاتح کا فیصلہ کرے گا۔

جنوبی افریقہ نے اس میچ کے لیے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں اور ڈیوڈ ملر اور بران ہینڈرکس کی جگہ ویان ملڈر اور ڈوین پریٹوریئس یہ میچ کھیل رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے وہی ٹیم میدان میں اتر رہی ہے جس نے جوہانسبرگ میں کھیلے جانے والے چوتھے ایک روزہ میچ میں جنوبی افریقہ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔

اس میچ میں بھی پاکستان کی قیادت شعیب ملک کے پاس ہے کیونکہ پاکستانی ٹیم کے ریگولر کپتان سرفراز احمد نسل پرستانہ جملہ بازی کی پاداش میں چار میچوں کی پابندی کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سرفراز احمد پر چار میچوں کی پابندی عائد

کرکٹ میں نسلی امتیاز کے واقعات اور ان کے اثرات

سرفراز احمد نے ’نسل پرستانہ‘ فقرے پر معافی مانگ لی

سرفراز منہ کیوں چھپا رہے تھے؟

ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کے بعد پاکستان نے ون ڈے سیریز کا آغاز فتح سے کیا تھا تاہم دوسرے ون ڈے میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو یک طرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر سیریز برابر کر دی تھی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا تیسرا میچ بارش سے متاثر ہوا تھا اور ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت جنوبی افریقہ نے 13 رنز سے میچ جیت کر سیریز میں سبقت حاصل کی تھی جسے پاکستان نے جوہانسبرگ کا ون ڈے جیت کر ختم کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں