پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: ’وہ 16 اوورز جو پاکستانی اننگز کو کھا گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کچھ فیصلے ٹاس پر ہی ہو جایا کرتے ہیں۔ جب یہ اناونس ہوتا ہے کہ فلاں ٹاس جیت گیا، تو بظاہر تو ٹاس ہارنے والا کپتان بھی خوش دلی سے ہاتھ ملا رہا ہوتا ہے مگر ایک وقتی سا ملال ضرور اس کے دل میں آتا ہے۔

شعیب ملک یہ ٹاس جیتنا چاہتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ یہ میچ بھی جیتیں اور میچ جیتنے کے لیے ضروری یہ تھا کہ پہلے ان کی بولنگ میدان میں اترے اور پھر کمزور طبقے یعنی بلے بازوں کی باری آئے۔

مگر سکہ زمین پہ گرنے سے پہلے کسی کے ارمانوں کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتا۔ شعیب ملک ٹاس ہار گئےاور پاکستان، میچ۔

پاکستان کا دورہ جنوبی افریقہ!

پاکستان ون ڈے سیریز بھی ہار گیا

سرفراز منہ کیوں چھپا رہے تھے؟

’محمد حفیظ جیت گئے، ہاشم آملہ ہار گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ ’پِنک ڈے‘ تھا کہ عثمان شنواری کا دن؟

ویسے تو سیریز کے فیصلہ کن میچز میں پاکستان کا ٹریک ریکارڈ کچھ بہتر نہیں رہا مگر پچھلے میچ میں جس طرح کی واضح نفسیاتی برتری شعیب ملک کی ٹیم نے دکھائی تھی، اس بار گمان یہی تھا کہ تاریخ کروٹ بدلے گی اور نہیں تو سنہ 2007 کی سیریز کا ہی بدلہ لے لیں گے شعیب ملک۔

پاکستانی اننگز کا آغاز گو بہت خوشگوار نہ تھا مگر پھر بھی استحکام ضرور نظر آیا۔ فخر زمان ایک چانس ملنے کے بعد سنبھل بھی گئے۔ بابر اعظم بھی سٹروکس بنانے لگے اور خوبی یہ کہ رن ریٹ بھی خوش کن ہو گیا۔

ماڈرن ون ڈے گیم میں اگرچہ بہت زیادہ غلغلہ پہلے اور آخری پاور پلے کے گرد رہتا ہے مگر اصل پانسہ پلٹنے کا وقت مڈل اوورز میں ہی ہوتا ہے جہاں گیند کی چمک ذرا ماند پڑتی ہے، وکٹ کی کاٹ کم ہونے لگتی ہے اور رنز کا حصول دشوار ہو جاتا ہے۔

میچ کے 25ویں اوور تک پاکستان کی اننگز ایک متناسب سمت میں بڑھ رہی تھی اور یہ یقینی لگ رہا تھا کہ اس وکٹ کے اعتبار سے پاکستان ایک فائٹنگ ٹوٹل ترتیب دے سکے گا۔ یہاں اگر ہدف میں 30 یا 40 رنز زیادہ ہوتے تو بلاشبہ پاکستانی بولنگ جنوبی افریقہ سے کہیں بہتر ثابت ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلاشبہ ڈی کوک نے بہت خوبصورت بیٹنگ کی۔ لیکن اس دوران پاکستانی بولنگ نے بھی ان کی حسبِ توفیق مدد کی

مگر جونہی فخر زمان آوٹ ہوئے، ڈوپلیسی کی ٹیم کا مومینٹم ہی بدل گیا۔ محمد رضوان کے آتے ہی پاکستانی اننگز کی رفتار سست ہونے لگی۔ خیر، ان سے گلہ بھی نہیں، کہ جب کوئی سال ڈیڑھ بینچ پہ بیٹھنے کے بعد پہلی بار ایسے پریشر میں اترے گا تو ظاہر ہے مخالف بولر سے کیا، خود ہی سے ڈرا ہوا ہو گا۔

شعیب ملک سے یہ توقع تھی کہ وہ بڑے میچ میں بڑی اننگز کھیلیں گے۔ اپنے تئیں وہ کوشش بھی پوری کر رہے تھے مگر محمد رضوان کے ساتھ پارٹنرشپ میں اننگز اتنی سست پڑ گئی کہ شعیب ملک کا سارا حساب کتاب گڑبڑا گیا اور انہیں پویلین لوٹنا پڑا۔

بولنگ لائن کو اعتماد صرف کپتان ہی نہیں دے سکتا، سکور بورڈ پہ جڑے ہندسے بھی نہایت اہم ہوتے ہیں۔ جو بیٹنگ لائن اپنے بولرز کو ایک قابلِ قدر مجموعہ نہ دے پائے، پھر اس کے بولر بھی اپنا اعتماد بحال نہیں رکھ پاتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بلاشبہ ڈی کوک نے بہت خوبصورت بیٹنگ کی۔ لیکن اس دوران پاکستانی بولنگ نے بھی ان کی حسبِ توفیق مدد کی۔ اور پاکستانی بولنگ کا یہ خلجان صرف چھوٹے ٹوٹل کے دفاع کا تھا، اور ایسا تھا کہ چھ بولر مل کر بھی ڈی کوک کے لیے صحیح لینتھ نہ سمجھ سکے۔

مگر قصور پاکستانی بولنگ کا بھی نہ تھا۔ جب فخر زمان 70 رنز بنا کر آوٹ ہوئے، تب بھی پاکستانی اننگز اس حال میں تھی کہ بآسانی 270 تک پہنچ سکتی۔ لیکن فخر زمان کے جانے کے بعد ایسا قحط پڑا کہ اگلے سولہ اوورز میں صرف 52 رنز بنے۔

اب سنہ 2019 کی ون ڈے گیم ہو اور مڈل کے سولہ اوورز میں صرف باون رنز بن رہے ہوں تو ایسا چمتکار دکھانے والے کیا جیت لیں گے؟

اسی بارے میں