سرفراز احمد پہلے بھی ہمارے کپتان تھے اور رہیں گے: احسان مانی

تصویر کے کاپی رائٹ PCB

پاکستان کرکٹ بورڈ نے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے انہیں رواں سال انگلینڈ میں ہونے والے عالمی کپ تک کے لیے کپتان مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے یہ اعلان لاہور میں سرفراز احمد کی موجودگی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔

سرفراز احمد نے پریس کانفرنس سے قبل احسان مانی سے ملاقات بھی کی تھی۔

احسان مانی کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد کی صلاحیتوں پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے وہ پہلے بھی ہمارے کپتان تھے اور رہیں گے۔

سرفراز احمد سے متعلق یہ بھی پڑھیے!

سرفراز احمد پر چار میچوں کی پابندی عائد

’اس بولنگ اٹیک کو سرفراز کی ضرورت ہے‘

سرفراز منہ کیوں چھپا رہے تھے؟

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق احسان مانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے تمام اعلیٰ حکام سے بات کی اور ہر ایک سرفراز احمد کو مکمل سپورٹ کرتا ہے۔

پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے اچھے نتائج دیے ہیں۔

اس موقع پر سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے سے ان کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔ عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

سرفراز احمد کو ورلڈ کپ تک کے لیے کپتان مقرر کیے جانے کے اس فیصلے کے ساتھ ہی ان کی قیادت کے مستقبل کے بارے میں کئی روز سے جاری ان قیاس آرائیوں کا بھی خاتمہ ہوگیا جو جنوبی افریقہ کے دورے میں ان پر عائد چار میچوں کی پابندی کے بعد سے شروع ہوئی تھیں۔

یاد رہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن کے دوسرے ون ڈے کے موقع پر سرفراز احمد کا میزبان بیٹسمین پیلکوایو کی جانب ادا کیا گیا فقرہ آئی سی سی کے نسلی تعصب سے متعلق قوانین کی گرفت میں آگیا تھا اور ان پر چار میچوں کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔

اس کی وجہ سے وہ آخری دو ون ڈے انٹرنیشنل اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز نہیں کھیل سکتے تھے۔ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کا آخری ٹی ٹوئنٹی کھیل سکتے تھے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں وطن واپس بلاکر قیادت کی ذمہ داری شعیب ملک کے سپرد کر دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سرفراز احمد نے اپنے اس جملے پر نہ صرف ٹوئٹر پر ایک پیغام کے ذریعے معافی مانگ لی تھی بلکہ انھوں نے پیلکوایو سے ملاقات کر کے ان سے بھی باقاعدہ معذرت کی تھی۔

سرفراز احمد پر عائد پابندی پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد کی جانب سے سرعام معافی مانگنے اور جنوبی افریقی کپتان فاف ڈپلوسیی کی طرف سے انہیں معاف کیے جانے کے باوجود آئی سی سی کا اقدام اور وہ بھی کئی روز کی تاخیر سے سمجھ سے بالاتر ہے۔

سرفراز احمد کی معطلی کے معاملے اور قیادت کے بارے میں قیاس آرائیوں کے دوران رائے عامہ دو حصوں میں منقسم ہوگئی تھی۔ ایک جانب سابق فاسٹ بولر شعیب اختر سرفراز احمد پر سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے نظر آئے تو دوسری جانب سابق کپتان وسیم اکرم نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ کرکٹ ورلڈ کپ کے قریب ہونے کی وجہ سے قیادت کی تبدیلی تباہ کن ثابت ہوگی۔

واضح رہے کہ سرفراز احمد 2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد شاہد آفریدی کی جگہ ٹی ٹوئنٹی کپتان بنائے گئے تھے۔ مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ٹیسٹ کپتان بنے تھے جبکہ اظہرعلی کی جگہ انہیں ون ڈے ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی۔

سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے2017 میں آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی جیتی تھی۔ وہ اب تک 35 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں کپتانی کرچکے ہیں جن میں سے پاکستان نے 21 جیتے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم ان کی کپتانی میں لگاتار 11 ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت چکی ہے اور وہ اس وقت آئی سی سی کی عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے۔

اسی بارے میں