پی ایس ایل 4: شاہین آفریدی کے والد کی خواہش تھی کہ وہ شاہد آفریدی کی وکٹ لیں

شاہین آفریدی تصویر کے کاپی رائٹ PSL

18 سالہ شاہین شاہ آفریدی کو بولنگ کرتا دیکھیں تو وسیم اکرم اور محمد عامر کی نوجوانی کا زمانہ یاد آ جاتا ہے اور ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ’یہ لڑکا کیا خوب وکٹیں لے رہا ہے‘۔

شاہین شاہ آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل سے ہے۔ ان کے بڑے بھائی ریاض آفریدی سنہ 2004 میں انڈر19 ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے سب سے کامیاب بولر تھے۔

پھر اُسی سال انھوں نے سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ کھیلا تھا جس میں انھوں نے مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا کی وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن وہ مزید انٹرنیشنل کرکٹ نہ کھیل سکے۔

شاہین شاہ آفریدی کے کریئر پر ریاض آفریدی کا گہرا اثر رہا ہے۔

شاہین آفریدی نے وسیم اکرم کی یاد دلا دی

شاہین شاہ آفریدی: کارکردگی میں دن بہ دن بہتری آ رہی ہے

ریاض کا کہنا ہے کہ ’میں جب کرکٹ کھیل کر اپنے گاؤں آتا تھا تو یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا کہ شاہین آٹھ سال کی عمر میں کرکٹ سے جنون کی حد تک پیار کرتا تھا۔ وہ میرے پیڈ، گلوز، ہیلمٹ پہن لیتا تھا اور کہتا تھا کہ آپ مجھے بھی گراؤنڈ لے جائیں۔ یہاں تک کہ وہ بیٹ اور پیڈز کے ساتھ ہی بستر پر سو جایا کرتا تھا۔‘

ریاض آفریدی کہتے ہیں کہ شاہین کو کلب کرکٹ کھیلنے کا بے حد شوق تھا۔

’ابتدا میں وہ میرے ساتھ ہمارے گاؤں کے گراؤنڈ میں کھیلتا تھا پھر اس نے جمرود کے سٹیڈیم میں کلب کرکٹ کھیلی۔ اسے ہر حال میں کرکٹ کھیلنی ہوتی تھی۔ وہ کسی کھلاڑی کے ان فٹ ہو جانے یا باہر چلے جانے پر 12ویں کھلاڑی کے طور پر فیلڈنگ میں بھی خوشی محسوس کرتا تھا۔‘

ریاض آفریدی بتاتے ہیں کہ شاہین نے پی ایس ایل میں شاہد آفریدی کو آؤٹ کر کے درحقیقت والد کی خواہش پوری کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Riaz Afridi
Image caption شاہین شاہ آفریدی کے کریئر پر ریاض آفریدی کا گہرا اثر رہا ہے

’والد صاحب شاہین سے کہا کرتے تھے کہ جب تم پی ایس ایل میں کھیلو تو تمہیں شاہد آفریدی کو آؤٹ کرنا ہے۔ شاہین نے شاہد آفریدی کو آؤٹ کرکے ان کی یہ خواہش پوری کردی لیکن اس نے سینیئر کے احترام کے پیش نظر اس کا جشن نہیں منایا۔ اسی طرح مصباح الحق کو آؤٹ کرنے کے بعد بھی وہ نارمل رہے کیونکہ ہم نے اس کی تربیت ہی اس انداز میں کی ہے کہ بڑوں کا احترام کرنا ہے۔‘

ریاض آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ خود تو ایک سے زیادہ ٹیسٹ نہ کھیل سکے لیکن شاہین کو بولنگ کرتا دیکھ کر انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں اور خود کھیل رہے ہیں۔

وہ اپنے چھوٹے بھائی کو یہی مشورہ دیتے ہیں: ’اعتماد کے ساتھ میدان میں اترو لیکن ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی نہیں ہونی چاہیے۔ جب بھی کھیلو اپنی گذشتہ پرفارمنس خاص کر اولین فرسٹ کلاس میچ کی آٹھ وکٹوں کی کارکردگی کو ضرور یاد کرو کہ بیٹسمینوں کو کیسے آؤٹ کیا تھا۔‘

شاہین شاہ آفریدی متعدد نوجوان کرکٹرز کی طرح پاکستان سپر لیگ کی پراڈکٹ ہیں۔ پی ایس ایل کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ وہ لانچنگ پیڈ ہے جہاں سے نوجوان کرکٹرز انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے اڑان بھرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے اپنے فرسٹ کلاس کریئر کا آغاز ایک اننگز میں آٹھ وکٹوں کی دھماکہ خیز کارکردگی سے کیا تھا اور پھر وہ انڈر19 ورلڈ کپ میں 12 وکٹوں کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے تھے جس میں آئرلینڈ کے خلاف صرف 15 رنز کے عوض چھ وکٹوں کی متاثرکن کارکردگی بھی شامل تھی لیکن قسمت اسی وقت بدلی جب وہ گذشتہ سال پاکستان سپر لیگ میں آئے۔

پی ایس ایل میں شاہین شاہ آفریدی نے لاہور قلندر کی نمائندگی کرتے ہوئے ملتان سلطانز کے خلاف صرف چار رنز کے عوض پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی دکھائی۔ اسی کارکردگی کے بعد وہ قومی ٹیم کے لیے سلیکشن کے ریڈار پر آ گئے۔

شاہین شاہ آفریدی نے پی ایس ایل ختم ہونے کے چند ہفتے بعد ہی ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا اور اب صورتحال یہ ہے کہ وہ اپنی دوسری پی ایس ایل کھیلنے سے پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ مکی آرتھر کو شاہین شاہ آفریدی میں نوجوان مچل سٹارک کی جھلک نظر آئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’نوجوان سٹارک اور شاہین آفریدی میں کافی مماثلت ہے۔ شاہین یقینی طور پر چند انتہائی باصلاحیت نوجوان کرکٹرز میں سے ایک ہیں۔ ان کی کارکردگی میں وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں بہتری آرہی ہے اور ہم کوچز کی بھی ان پر مکمل توجہ ہے۔

مکی آرتھر شاہین کے بارے میں پرامید ہیں۔ ’اگر انھوں نے اسی طرح اپنے کھیل میں بہتری جاری رکھی تو مجھے یقین ہے کہ وہ بہت ہی خاص کرکٹر بن جائیں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں