سلمان بٹ کی پی ایس ایل 4 میں شمولیت: ’لاہور قلندرز کو کوئی اور نہیں ملا تھا؟‘

سلمان بٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سلمان بٹ کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے جانے کے بعد آئی سی سی نے ان پر دس سالہ پابندی عائد کردی تھی جو اب ختم ہو چکی ہے

پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی فرنچائز لاہور قلندرز نے ان فٹ محمد حفیظ کی جگہ اوپنر سلمان بٹ کو ٹیم میں شامل کرلیا ہے۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق محمد حفیظ کراچی کنگز کے خلاف اتوار کو کھیلے گئے میچ میں انگوٹھے میں فریکچر ہونے کی وجہ سے پی ایس ایل سے باہر ہوگئے ہیں۔

ان کی جگہ قیادت کی ذمہ داری جنوبی افریقی بیٹسمین اے بی ڈی ویلیئرز کو سونپ دی گئی ہے۔

سلمان بٹ 33 ٹیسٹ 78 ون ڈے اور 24 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان نمائندگی کرچکے ہیں۔ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے ہیں تاہم 2010 میں انگلینڈ کے دورے میں وہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے جس پر نہ صرف آئی سی سی نے ان پر دس سالہ پابندی عائد کردی تھی بلکہ لندن کی عدالت نے بھی انہیں ڈھائی سال قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل بورڈ کے لیے کماتی ہے یا بورڈ پی ایس ایل کے لیے؟

’سلمان بٹ کی سزا پوری ہوگئی، اب واپسی ہونی چاہیے‘

پی ایس ایل کیا کیا بیچے گی؟

’سلمان اچھی فارم میں ہیں‘

چونتیس سالہ سلمان بٹ نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کرنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے بحالی پروگرام میں بھی شرکت کی اور پھر فرسٹ کلاس کرکٹ کا دوبارہ آغاز بھی کردیا اور واپڈا کی طرف سے کھیلتے ہوئے حبیبب بینک کے خلاف قائداعظم ٹرافی کے فائنل کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائیں۔

انھوں نے گزشتہ سال قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 70 کی اوسط سے 350 رنز بنائے تاہم سلیکٹرز نے ابھی تک انہیں دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ میں موقع نہیں دیا ہے۔

لاہور قلندر کے چیف آپریٹنگ آفیسر ثمین رانا کا کہنا ہے کہ سلمان بٹ لاہور قلندر کی ٹیم میں شامل کیے جانے کے مستحق تھے وہ اس وقت بہت اچھی فارم میں ہیں۔

انھوں نے محمد حفیظ کے ان فٹ ہونے کو اپنی ٹیم کے لیے بہت بڑا دھچکہ قراردیا اور کہا کوشش کریں گے کہ اے بی ڈی ویلیئرز لیگ کے تمام میچوں میں دستیاب ہوں۔

’لاہور قلندرز کو کوئی اور نہیں ملا تھا؟‘

لیکن اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک طرف کئی لوگوں نے سلمان بٹ کی لاہور قلندرز میں شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا، تو دوسروں نے کہا کہ انھیں بھی ویسے ہی موقع ملنا چاہیے جیسے محمد عامر کو دیا گیا ہے۔

سپورٹس اینکر اور تجزیہ کار عالیہ رشید نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے سلمان بٹ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اپنی ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ امید ہے سلمان بٹ اپنے تجربے سے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانے میں کردار ادا کریں گے۔

ڈینس فریڈمین جو کہ ’ڈینس ڈز کرکٹ‘ کے نام سے ایک مشہور بلاگ بھی لکھتے ہیں، نے لکھا: ’سلمان بٹ کو ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ لاہور قلندرز کا معیار ابھی مزید گرنا باقی ہے۔ حیرانگی اس بات کی ہے کہ اس فیصلے پر عاقب جاوید نے کچھ نہیں کہا جبکہ وہ فکسرز سے مجھ سے بھی زیادہ نفرت کرتے ہیں۔‘

اینٹی فتویٰ نامی ٹوئٹر صارف طنزیہ لکھتے ہیں کہ ’جو لوگ وسیم اکرم کو کرکٹ میں قبول کرتے ہیں انھیں سلمان بٹ کے بارے میں کچھ نہیں بولنا چاہیے۔‘

ماہم لکھتی ہیں ’لاہور قلندرز اس سے برا کچھ نہیں کر سکتی کہ وہ سلمان بٹ کو ٹیم میں شامل کر لے۔‘

نوید ندیم لکھتے ہیں ’سلمان بٹ نے محمد عامر کو میچ فکسنگ کے لیے قائل کیا جب وہ صرف 18 برس کے تھے۔ شاہین آفریدی ابھی نوجوان ہیں۔ موقع اچھا ہے سلمان بٹ شاہین آفریدی کو بھی دھندے پر لگا دے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں