گرے ہاؤنڈ کتوں کی دوڑ: ’ریڈ فاکس کے ساتھ میرا خاندانی وقار جڑا ہے‘

ریڈ فاکس
Image caption دبلی پتلی مگر مضبوط جمسامت والا بھورے رنگ کا ’ریڈ فاکس‘

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے نسبتاً نئے تعمیر شدہ نیزہ بازی کے میدان پر 276 گز لمبائی پر مشتمل کتوں کی دوڑ کا ٹریک بنایا گیا ہے۔

پھر اس ٹریک پر ریڈ فاکس کو میدان میں لایا جاتا ہے اور چند مداح دوڑتے ہوئے اسے گھیر لیتے ہیں۔

ریڈ فاکس کو یہیں دوڑنا ہے۔ وہ اپنے سامنے ٹریک کو دیکھ سکتا ہے۔ داخلی مقام پر اس کے منھ پر تھوتھنی چھڑہائی جاتی ہے اور نمبر ایک کی سرخ جیکٹ بھی پہنائی جاتی ہے۔

لومڑی سے مشابہت رکھنے والا بھورے رنگ کا ریڈ فاکس چہرے پر سنجیدگی اور اطمینان کا ملا جلا تاثر لیے اب مقامِ آغاز کی جانب بڑھتا ہے۔

عقب میں کئی فٹ اونچے پویلین سے تماشائی اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ درجنوں کی تعداد میں لوگ گرے ہاؤنڈ کتوں کو دوڑتے دیکھنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’کتے کی قبر‘ پر سندھ اور بلوچستان میں تنازع

یو اے ای میں شیر بطور پالتو جانور رکھنا غیر قانونی

70 ہزار کے بلّے کی گمشدگی آوارہ بلی کے سر

دبلی پتلی مگر مضبوط جمسامت کے حامل یہ کتے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔ ریڈ فاکس اور اس کے ساتھ اس ہیٹ میں دوڑنے والے باقی تین کتے ٹریک کے ایک سرے پر لگے لوہے کے ڈبوں کے اندر پہنچ چکے ہیں۔

ان چھ ڈبوں کے عقب سے خرگوش کی ایک ڈمی نکلتی ہے، دروازے کھلتے ہیں اور کتے لپکتے ہیں۔

ریڈ فاکس ہمیشہ کی طرح آگے ہے۔ ڈمی خرگوش کے تعقب میں ہوا میں تیرتے گرے ہاؤنڈز 275 گز کا فاصلہ لگ بھگ 13 سیکنڈز میں طے کر لیتے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایک کتے پر 15 لاکھ روپے کے لگ بھگ خرچ آتا ہے

اس دوڑ ریڈ فاکس تیسرے نمبر پر رہا، یعنی وہ اس ڈربی میں پہلے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ پائے گا۔

ریڈ فاکس ایک گرے رنگ کا شکاری کتا ہے جو آسٹریلیا سے درآمد کیا گیا ہے اور پاکستان میں ریس لگاتے ہوئے یہ اس کا مسلسل چوتھا سال ہے۔ گرے ہاؤنڈ کتوں کے لیے یہ کسی ریکارڈ سے کم نہیں۔ زیادہ تر ایسے کتے ایک یا زیادہ سے زیادہ دو سیزن ہی دوڑ پاتے ہیں، جس کے بعد وہ ریٹائر ہو جاتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو ایک گرے ہاؤنڈ اپنی قیمت کے آدھے دام بھی دوڑوں سے نہیں کما پاتا، تو پھر لوگ کیوں لاکھوں روپے خرچ کر کے انھیں برآمد کرتے اور پالتے ہیں؟

ریڈ فاکس کے مالک رانا محسن خان بتاتے ہیں کہ ’یہ خاندانی وقار اور میرے بزرگوں کے نام کی بات ہے۔ میں آج بھی گراؤنڈ میں جاتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں رانا منظور خاں کا پوتا ہے۔‘

گرے ہاؤنڈ کتوں کا رواج زیادہ تر پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں پاکستان بننے سے پہلے بھی لوگ یہ کتے درآمد کرتے آئے ہیں۔

رانا محسن کے مطابق ’یہ شوق میرے دادا کو تھا، ان سے میرے ابا کو منتقل ہوا اور وہاں سے میرے پاس آیا ہے۔‘

گرے ہاؤنڈ پالنا کتنا مہنگا شوق ہے؟

سر پر پی کیپ پہنے، ناک پر کالے شیشوں کا چشمہ لگائے، باریک مگر تاؤ کھاتی مونچھوں کے مالک رانا محسن کے فیصل آباد میں ہونے والی دوڑ میں ریڈ فاکس کے علاوہ دیگر کتے بھی شامل تھے۔

فیصل آباد کے علاقے پینسر میں ان کے آبائی گاؤں میں کینیل بنا رکھا ہے۔ ریڈ فاکس کے علاوہ ان کے پاس نو دوڑے والے کتے ہیں۔

Image caption ریڈ فاکس کے مالک رانا محسن خان

یہ تمام ریڈ فاکس کے بچے ہیں۔ پاکستان ہی میں امپورٹڈ ماں باپ سے پیدا ہونے والے ان کتوں کو کنٹری بریڈ یا مقامی نسل گردانا جاتا ہے۔ دوڑوں میں ان کے لیے الگ کیٹیگری ہوتی ہے۔

ان کے ڈیرے پر ان کتوں کی رہائش اور نشو و نما کے لیے خصوصی سہولیات تعمیر کی گئی ہیں۔ حویلی میں داخل ہوتے ایک جانب سبزہ زار کے پہلو میں ایک طویل عمارت ہے جس کے اندر پنجرے بنے ہیں۔

گرے کتے کی ملکیت ہر ایک پنجرے کے باہر اس کے نام کی تختی لگی ہے۔ اندر لکڑی کا بیڈ لگا ہے جس پر رضائی بچھی ہے۔ پہلا پنجرا لاہور پرنس کا ہے اور آخری میں کشش جونیئر قیام پذیر ہے۔

کمرے کے باہر برآمدے میں وزن کرنے کا پیمانہ اور ایک دیوار کے ساتھ چمڑے کی ڈوریاں اور تھوتھنیاں لٹکی ہیں۔ برآمدے کے سامنے کئی گز لمبے احاطے بنائے گئے ہیں جنھیں لوہے کی باڑ کی مدد سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

رانا محسن کے مطابق پاکستان میں باہر کے ممالک سے ایک کتا درآمد کرنے پر اوسطاً 10 سے 15 لاکھ روپے خرچ آتا ہے مگر اصل خرچ ان کے یہاں پہنچنے پر شروع ہوتا ہے۔ ایک کتے کی خوراک پر سالانہ ایک لاکھ سے زیادہ خرچ ہوتا ہے۔

خوراک میں یہ روزانہ قیمے کے ساتھ ابلی سبزیاں، سُوپ اور امپورٹڈ غلہ لیتے ہیں۔ انھیں وٹامن بھی باقاعدگی سے دیے جاتے ہیں۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ چربی کم اور پروٹین زیادہ کھائیں۔ 'اس سے ان کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور وہ تیز بھاگ سکتے ہیں۔‘

ریڈ فاکس میں منفرد کیا ہے؟

ریڈ فاکس سمیت تمام کتے سیدھے کھڑے ہوں تو ان کی جسم پر پچھلے حصے تک پہنچتی تین پسلیاں دیکھی جا سکتی ہیں جبکہ چھاتی، کندھوں اور خصوصاً عقبی ٹانگوں کے پٹھے کسی ایتھلیٹ کی طرح تنے ہوئے واضح نظر آتے ہیں۔

رانا محسن کے مطابق دوڑ کے لیے تیار کرنے کے لیے ان کتوں کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے۔ انھیں ہر روز وقت پر کھانا دیا جاتا ہے، اس کے بعد انھیں باہر احاطوں میں دوڑنے کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔

’اسی طرح ہم نے ریڈ فاکس کو تیار کیا۔ ہم نے کوشش کی کہ اس کا وہی معیار قائم رہے جو اسے آسٹریلیا میں ملتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دوڑ رہا ہے اور جیت رہا ہے۔'

رانا محسن کے مطابق پاکستان میں شاید ہی کوئی امپورٹڈ گرے شکاری کتا ایسا ہو جو مسلسل تین سال سے ہر بار کوئی نہ کوئی ڈربی جیتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آنے والے امپورٹڈ کتے پہلا سیزن دوڑتے ہیں۔

'اس کے بعد گرمیاں آ جاتی ہیں۔ وہ ان میں دوڑ بھی نہیں سکتے اور پھر کمزور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ اس طرح ان کا خیال نہیں رکھ پاتے جس کی وجہ سے وہ ایک یا دو سال بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں۔'

ریڈ فاکس بہتر ماحول میں پلنے کی وجہ سے اب بھی اپنی رفتار قائم رکھے ہوئے ہے۔

رانا محسن کے مطابق حال ہی میں ایک ٹرائل کے دوران اس نے 200 گز کا فاصلہ محض 11 سیکنڈز میں طے کیا۔

'یہ ا س کا ذاتی ریکارڈ ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کسی اور کتے نے اتنا کیا ہوا ہے۔'

زیادہ تر گرے شکاری کتے پاکستان میں قائم ٹریک ریس کا 275 گز کا فاصلہ 13.40 سے لے کر 13.50 سیکنڈز کے درمیان طے کرتے ہیں۔ تاہم سوال یہ بھی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کتوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ یہ کہاں جاتے ہیں؟

دوڑ نہ پائے تو کتا کہاں جاتا ہے؟

بیرونِ ممالک میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر گرے شکاری کتا زخمی ہو جائے یا دوڑنے کے قابل نہ رہے تو اسے مار دیا جاتا ہے۔

رانا محسن کا دعوٰی ہے کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو پاکستان میں کتوں کی ریس پر جوا یا شرط لگانا غیر قانونی ہے جبکہ بیرونِ ممالک میں کھلے عام ہوتا ہے۔

'ہمیں ان کتوں سے محبت ہے اور ان کے ساتھ ہمارا خاندانی وقار جڑا ہوتا ہے۔ اگر دوڑیں نہ بھی ہو تو میں گرے شکاری کتے کو ویسے ہی پالتو جانور کے طور پر رکھنے پر بھی خوش ہوں۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گرے شکاری کتے کی دوڑ میں حصہ لینے والے اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ اس میں انعام کتنا ہوتا ہے۔

'جہاں پیسہ شامل ہو جائے وہاں گرے شکاری کتے سے محبت ختم ہو جاتی ہے۔ جس نے اسے پیسے کے لیے دوڑانا ہے اگر اس کا کتا اگر ریٹائر ہو جاتا ہے تو اسے لگے گا کہ وہ کیوں چار پانچ برس اسے روٹی کھلائے، اس لیے وہ اسے خاموشی سے ہمیشہ کی نیند سلا دیتے ہیں۔'

'نہیں محبت ایسے نہیں ہوتی کہ بدلے آپ کچھ چاہیں۔ اور یہ سلا دینا محض ایک مہذب سی اصطلاح ہے حقیقت میں آپ اسے ہلاک کر رہے ہیں۔'

یہی وجہ ہے کہ رانا محسن پاکستان میں کتوں کی دوڑوں پر شرط کو قانونی قرار دینے کی تجویز کے مخالف ہیں۔

دوسری جانب گوجرانوالہ کے مشہور چوہدری قیصر سلیم بخاری کینلز کے اُسامہ سلیم خان کا ماننا ہے کہ اس کی اجازت دے دینے میں کوئی حرج نہیں۔ 'اس طرح ایک کاروباری سرگرمی بن جائے گی۔ ویسے بھی یہ ایک بہت مہنگا شوق ہوتا جا رہا ہے۔'

اسی بارے میں