’گتکا ہماری ثقافت ہے اور ہم نے اسے قائم رکھنا ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
گتکا ایک روایتی مارشل آرٹ ہے جسے شمالی برصغیر میں نوجوانوں کو شمشیرزنی میں تربیت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا

پرانی کہاوت ہے کہ ایک باغ میں جنگجو ہونا بہت بہتر ہے بجائے اس کے کہ آپ جنگ میں باغبان ہوں۔

پرانے زمانے میں شمشیرزنی میں مہارت ہی جنگ میں جیت کا سبب بنتی تھی اور اس میں مہارت حاصل کرنا بھی اتنا آسان نہیں جتنا آج کے دور میں ٹریگر دبا کر گولی چلایا۔

یہ بھی پڑھیے

شیر گڑھ کا قلعہ: ’ایسا لگا کہ ہم واپس اپنی جڑوں میں آ گئے‘

شمشیر زنی سیکھنے کے لیے لوگوں کو بہت جتن کرنے پڑتے تھے۔ گتکا ایک روایتی مارشل آرٹ ہے جسے شمالی برصغیر میں نوجوانوں کو شمشیرزنی میں تربیت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ سکھ مارشل آرٹ کا حصہ بنتا گیا جب کہ باقی علاقوں میں یہ کھیل ختم ہوتا چلا گیا کیونکہ اسلحے اور بارود نے تلواروں اور نیزوں کی جگہ لے لی۔

پاکستان میں گتکا

پاکستان میں بھی یہ کھیل صرف کشمیر کے دور دراز علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن کے تناول کے علاقوں میں شادی بیاہ یا پھر عید کے موقع پر کھیلا جاتا ہے۔

Image caption سکھ مہمان اپنی استقبالیہ پارٹی میں گتکا کھیلتے افراد کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے

گتکے کو آپ تلوار بازی ہی کی ایک قسم سمجھ لیں لیکن اس میں اصلی تلوار کی جگہ لکڑی کی چھڑی استعمال ہوتی ہے۔ اس میں دو فنکار آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر ان میں سے ایک رزمیہ نظم پڑھتا ہے جس کے اختتام پر وہ دونوں چھڑیاں ہلاتے ہوئے ڈھول کی تاپ پر رقص شروع کر دہتے ہیں۔

اسی رقص کے دوران اگر ایک فنکار دوسرے کے چکما دے کر اس کے جسم کو اپنی چھڑی سے چھو لے تو سامنے والا فریق کھیل سے باہر ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں مانسہرہ کے علاقے شیرگڑھ میں واقعے قدیمی قلعے میں جب امریکہ اور سنگاپور سے سکھ مہمان تشریف لائے تو انھیں اپنی استقبالیہ پارٹی میں گتکا کھیلتے افراد کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔

شیر گڑھ میں گتکے کے کھیل کے دوران جو شخص آخر تک میدان میں ٹکا رہا وہ 62 سالہ دلدار خان تھے۔ پورے کھیل کے دوران دلدار خان بڑے پھرتیلے انداز میں لوگوں کے وار اپنے آپ کو بچا رہے تھے اور موقع ملنے پر اپنا وار کر کے ان کو کھیل سے باہر کرتے رہے۔

کھیل کے اختتام پر میں نے دلدار خان سے ان کی فٹنس کا راز پوچھا تو وہ ہنس کر بولے،’ہماری جو آب و ہوا ہے یہ ہمارے لیے بالکل فٹ ہے۔ حالانکہ میری عمر 62 سال ہے لیکن یہ کھیل اور یہ آب و ہوا ہمیں بڑھاپے کی طرف جانے نہیں دیتی۔'

دلدار خان نے یہ بھی بتایا کہ وہ بچپن سے یہ کھیل کھیلتے آئے ہیں اور ان کے اس عمر میں بھی کھیلنے کا صرف ایک مقصد ہے کہ نئی نسل بھی اس کھیل کو اپنائے۔ اور یہ کھیل آگے جا سکے۔

'یہ کھیل ہماری ثقافت ہے اور ہم نے اس کو پردے کے پیچھے نہیں رکھنا۔ آج ہم ہیں، کل ہمارے بچے ہوں گے، اور اس کے بعد ان کے بچے ہو گے۔ اسی طرح ہم اس کھیل کو قائم رکھیں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں