پی ایس ایل بہترین کھلاڑیوں کا بڑا ٹورنامنٹ ہے: سر ویوین رچرڈز

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ
ویوین رچرڈز

ماضی کے شہرۂ آفاق بیٹسمین سر ویوین رچرڈز کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے بہترین کرکٹرز پاکستان سپر لیگ میں کھیل رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک بڑا ٹورنامنٹ ہے۔

سرویوین رچرڈز پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے ہی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے وابستہ ہیں۔

سرویوین رچرڈز نے شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان سپر لیگ قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے والا بہت بڑا ایونٹ ہے جس نے شائقین کی توجہ حاصل کررکھی ہے کیونکہ اس میں ٹی ٹوئنٹی کے بہترین کرکٹرز کھیل رہے ہیں۔ خود انہیں بھی پی ایس ایل سے اپنی وابستگی پر بہت زیادہ خوشی ہے۔

سر ویوین رچرڈز نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ڈگ آؤٹ میں ان کے ہمیشہ ُپرجوش رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جو کھلاڑی میچ نہیں کھیل رہے ہیں ان کے لیے خوشی کا ماحول پیدا کیا جائے تاکہ جب میدان میں وکٹ گرے یا چھکا لگے تو نہ کھیلنے والے کھلاڑی بھی ُپرجوش ہوکر میدان میں موجود ساتھی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں، انہیں خوشی ہے کہ وہ ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

سرویوین رچرڈز کا کہنا ہے کہ پاکستان بہترین فاسٹ بولرز کے لیے شہرت رکھتا ہے اور ان بولرز کی پی ایس ایل میں موجودگی اس ایونٹ کی اہمیت مزید بڑھادیتی ہے۔

دنیا میں کھیلی جانے والی دیگر ٹی ٹوئنٹی لیگس سے پی ایس ایل کے موازنے کے بارے میں سرویوین رچرڈز کا کہنا ہے کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس لیگ میں کون کون کھیل رہا ہے۔ کچھ کرکٹرز آئی پی ایل کھیل رہے ہیں جو اسوقت سب سے زیادہ مقبول ہے لیکن پی ایس ایل میں بھی اگر دنیا کے مختلف ممالک کے کرکٹرز آتے رہے تو یہ لیگ بھی بہت آگے جائے گی۔

سرویوین رچرڈز کے خیال میں پاکستان سپر لیگ کا پاکستان میں انعقاد بہت ضروری ہے تاکہ پاکستان شائقین اپنے کرکٹرز کو اپنے سامنے پرفارمنس دیتے ہوئے دیکھ سکیں کیونکہ جب آپ اپنے ملک سے باہر کھیل رہے ہوتے ہیں تو پھر شائقین سے اس طرح کا تعلق قائم نہیں ہوتا۔ انہیں امید ہے کہ اللہ نے چاہا تو پاکستان میں بہت اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

سرویوین رچرڈز نے ویسٹ انڈیز کی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں حالیہ کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جیت نہ صرف ویسٹ انڈین شائقین بلکہ دنیا بھر میں شائقین کے لیے مسرت کا باعث تھی کہ ویسٹ انڈیز نے ماضی جیسی کارکردگی دکھائی۔

سرویوین رچرڈز نے انٹیگا ٹیسٹ کی وکٹ کے بارے میں کیے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں آؤٹ کلاس کردیا تھا جس کا جواب انگلینڈ کے پاس نہ تھا۔

سرویوین رچرڈز سمجھتے ہیں کہ اگر تمام اسٹار کرکٹرز ویسٹ انڈین ٹیم میں واپس آگئے اور انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی دکھائی تو وہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کی کارکردگی بہت ہی اچھی ہوگی۔