پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزا دینے سے انکار،آئی او سی کا انڈیا کو’تنہا‘ کرنے کا فیصلہ

انٹرنیشنل اولمپک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کی جانب سے دو پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے جاری نہ کرنے پر انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے انڈیا کی کھیلوں کے مختلف مقابلوں کی میزبانی کی تمام درخواستیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دو کھلاڑیوں پر مشتمل پاکستانی شوٹرز کی ٹیم نے انڈیا میں شوٹنگ ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں 25 میٹر پسٹل مقابلے میں شرکت کرنا تھی۔

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی نے انٹرنیشنل سپورٹس فیڈریشن پربھی زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی مقابلے کا انعقاد انڈیا میں نہ کرائے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے میں انڈیا کی پیرا ملٹری فورس کے 40 اہلکار ہو گئے تھے جس کا الزام انڈیا نے پاکستان پر عائد کیا ہے تاہم پاکستان کے جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کاکہنا ہے کہ میزبان ملک کی جانب سے سیاسی مداخلت اور امتیاز کی بنا پر ویزے جاری نہ کرنا اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل کی انڈین نشریاتی کمپنی ایونٹ سے علیحدہ

’صرف امن ہی انصاف ہے۔۔۔‘

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

تصویر کے کاپی رائٹ IOC

آئی او سی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’مسئلے سے آگاہی، آخری وقت پر کی جانے والی کوششوں اور انڈین حکومت سے بات چیت کے باوجود بھی کوئی حل تلاش نہیں کیا سکا جس کی بدولت پاکستانی وفد کو مقابلے میں شرکت کے لیے انڈیا داخل ہونے کی اجازت دی جا سکے۔‘

بیان کے مطابق ’آئی او سی کے ایگزیکٹو بورڈ نے انڈیا کی نیشنل اولمپک کمیٹی اور حکومت سے اولمپکس اور کھیلوں کی تقریبات انڈیا میں منعقد کرانے کی درخواستوں پر جاری تمام بات چیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ایگزیکٹو باڈی نے سپورٹس فیڈریشن پر بھی زور دیا ہے کہ جب تک انڈیا تمام کھلاڑیوں کی رسائی کی ’واضح تحریری ضمانت‘ نہیں دے دیتا تب تک انڈیا میں کھیلوں کا کوئی مقابلہ کرایا جائے اور نہ ہی انڈیا کو کوئی گرانٹ دی جائے۔

بھارتی اولمپکس ایسوسی ایشن (آئی او اے) نے گزشتہ سال 2026 میں یوتھ اولمپکس کی میزبانی، 2030 میں ایشین گیمز اور 2032 میں سمر اولمپکس کا روڈ میپ تیار کیا تھا۔

آئی او اے کے سیکرٹری جنرل راجیو میہتا نے رائٹرز کو بتایا کہ ’یہ ملک میں کھیلوں کو بہت بڑا دھچکا ہے۔‘

’ہم حکومت سے مسلسل رابطے میں تھے اور ان کو سمجھانے اور پاکستنانی شوٹرز کو ویزے دینے کے لیے رضامند کر رہے تھے۔ یہ واقعی بد قسمتی ہے۔‘

گزشتہ برس کوسوو کی ایک باکسر کو نیو دِلی میں وویمن ورلڈ چیمپئین شپ میں شرکت کے لیے ویزا جاری نہیں کیا گیا تھا کیونکہ انڈیا کوسوو کو خود مختار ریاست تسلیم نہیں کرتا ہے۔

راجیو میہتا نے کہا ہے کہ ’بدقسمتی سے دوبارہ ایسا ہو رہا ہے۔‘

’میں نے گزشتہ رات آئی او سی حکام سے بات کی ہے اور مجھے ایسا تاثر ملا ہے کہ ابھی ہمارے لیے مزید مشکل ہو گی۔ آئی او اے میں ہم اس مسئلے پر حکومت سے بات کریں گے اور کوئی حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔‘

پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر سید عارف حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے اس فیصلے کا خیر مقدمم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی جانب سے ویزے کی تمام شرائط اور کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے باوجود ویزا جاری نہ کرنا انتہائی قابل افسوس ہے۔

عارف حسن نے مزید کہا کہ ہم کھیلوں کے ذریعے فاصلے کم کرنے اور امن قائم کرنے پر یقین رکھتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ کھیلوں میں دوسری چیزوں کی مداخلت نہیں ہونی چائیے۔

یاد رہے کہ دو کھلاڑیوں پر مشتمل پاکستانی شوٹرز کی ٹیم نے انڈیا میں شوٹنگ ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں 25 میٹر پسٹل مقابلے میں شرکت کرنا تھی۔

اسی بارے میں