پی ایس ایل: لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے دی

پی ایس ایل تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption اے بی ڈی ویلیئرز 29 گیندوں پر 52 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے

پاکستان سپر لیگ کے دسویں میچ میں لاہور قلندرز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ملتان سلطانز کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی۔

اے بی ڈی ویلیئرز اور ڈیوڈ وائز کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کی جانب سے دیا گیا 201 رنز کا ہدف آخری اوور کی آخری گیند پر حاصل کر لیا۔ اے بی ڈی ویلیئرز مین آف دی میچ قرار پائے۔

اے بی ڈی ویلیئرز نے 29 گیندوں پر 52 رنز کی اننگز کھیلی اور وہ ناٹ آؤٹ رہے جبکہ ڈیوڈ وائز 20 گیندوں پر 45 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

لاہور قلندرز کو اننگز کی آخری گیند پر جیتنے کے لیے تین رنز درکار تھے۔ ڈیوڈ وائز نے چھکا لگا کر قلندرز کو فتح سے ہمکنار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB

پاکستان سپر لیگ کے دسویں میچ میں ملتان سلطانز نے اپنے اوپنرز کی جارحانہ بلے بازی کی بدولت لاہور قلندرز کو جیتنے کے لیے 201 رنز کا ہدف دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’لاہور قلندرز کو کوئی اور نہیں ملا تھا؟‘

’پی ایس ایل بہترین کھلاڑیوں کا بڑا ٹورنامنٹ ہے‘

شارجہ: ملتان سلطانز کو آٹھ وکٹوں سے شکست

35 کے مجموعی سکور پر ملتان سلطانز کو پہلی کامیابی ملی جب لاہور قلندرز کے اوپنر سہیل اختر 10 رنز بنا کر محمد الیاس کی گیند ہر کیچ آؤٹ ہوئے۔

دوسرے آؤٹ ہونے والے بلے باز فخر زمان تھے جو 35 گیندوں پر 63 رنز بنا کر جنید خان کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں سزا یافتہ بلے باز سلمان بٹ جو پی ایس ایل میں اپنا پہلا میچ کھیل رہے تھے صرف 17 رنز بنا پائے۔ آغا سلمان نے دو رنز بنائے جبکہ دو رنز بنا کر برینڈن ٹیلر ریٹائرڈ ہرٹ ہو گئے۔

تاہم اس کے بعد شروع ہونے والی اے بی ڈی ویلیئرز اور ڈیوڈ وائز کی 98 رنز کی دھواں دار شراکت میچ کے آخر تک قائم رہی۔

ملتان سلطانز کی جانب سے 39 رنز کے عوض تین وکٹیں لے کر جنید خان نمایاں بولر رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption فخر زمان 35 گیندوں پر 63 رنز بنا کر آوٹ ہوئے

اس سے قبل پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ملتان سلطانز کے دونوں اوپنرز نے وکٹ کے چاروں جانب دلکش سٹروک کھیلے اور ابتدائی اوورز میں 11 رنز کی اوسط سے سکور کیا۔

جیمز ونس اور عمر صدیق کی شاندار بلے بازی کے سامنے لاہور قلندرز کے بولرز بے بس نظر آئے۔ ان دونوں نے نصف سنچریاں بنائیں اور ان کے درمیان 135 رنز کی شراکت ہوئی۔

لاہور قلندرز کو پہلی کامیابی جیمز وینس کی وکٹ کی صورت میں ملی جو چھ چھکوں اور سات چوکوں کی مدد سے 41 گیندوں پر 84 رنز بنا کر سندیپ لمیچن کی گیند پر فخر زمان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

دوسرے آؤٹ ہونے والے بلے باز شعیب ملک تھے جو 10 رنز بنا کر سندیپ لمیچن کی ہی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

عمر صدیق 53 رنز بنانے کے بعد شاہین آفریدی کی گیند پر آؤٹ ہوئے جبکہ آندرے رسل صرف سات رنز بنا پائے۔

پانچویں آؤٹ ہونے والے بلے باز ڈین کرسچیئن تھے جو 21 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے جبکہ لوری ایونز آٹھ رنز بنا کر حارث رؤف کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption جیمز ونس نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 41 گیندوں پر 84 رنز بنائے

46 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کر کے سندیپ لمیچن قلندرز کی جانب سے نمایاں بولر رہے جبکہ شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اب تک ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیمیں تین، تین میچ کھیل چکی ہیں اور ان میں سے دو، دو میچوں میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ ایک، ایک میچ جیتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption عمر صدیق 38 گیندوں پر 53 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے

لاہور قلندرز کی ٹیم: فخر زمان، سلمان بٹ، اے بی ڈی ویلیئرز، سہیل اختر، سلمان آغا، برینڈن ٹیلر، ڈیوڈ وائز، سندیپ لمیچن، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور راحت علی

ملتان سلطانز کی ٹیم: شعیب ملک (کپتان)، جیمز ونس، لوری ایونز، ڈین کرسچیئن، آندرے رسل، عمر صدیق، حماد اعظم، جنید خان، محمد الیاس، عرفان خان اور محمد عرفان

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں