پی ایس ایل: محمد سمیع کے کریئر کی ساتویں ہیٹ ٹرک

محمد سمیع تصویر کے کاپی رائٹ Isl United

ہیٹ ٹرک کے لیے مہارت کے ساتھ ساتھ قسمت کا عمل دخل بھی بہت اہم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا کے ہر بولرنے ہیٹ ٹرک کی ہوتی۔

محمد سمیع اس لحاظ سے خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ وہ اپنے کریئر میں ایک یا دو نہیں بلکہ سات ہیٹ ٹرک کر چکے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائٹڈ کی طرف سے کھیلتے ہوئے پشاور زلمی کے خلاف شارجہ میں مسلسل تین گیندوں پر وہاب ریاض، عمید آصف اور حسن علی کو آؤٹ کرکے انھوں نے اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کردیا۔

میچ کے بعد بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں جب محمد سمیع سے میں نے پوچھا کہ اسی شارجہ کے میدان میں آپ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی ہیٹ ٹرک کی تھی وہ یاد ہے؟ تو محمد سمیع نے کسی ذہین طالب علم کی طرح سترہ سالہ پرانی یادوں کو بیان کرتے ہوئے بڑی تیزی سے ان تین ویسٹ انڈین بیٹسمینوں ریڈلی جیکبست کوری کولی مور اور کیمرون کفی کے نام تک گنوا دیے جنہیں آؤٹ کرکے انھوں نے ہیٹ ٹرک کی تھی۔

شارجہ: محمد سمیع کی ہیٹ ٹرک، اسلام آباد یونائیٹڈ فاتح

اس ون ڈے ہیٹ ٹرک کے صرف تین ہفتے بعد انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ہیٹ ٹرک کی تھی۔ اس بار انھوں نے لاہور میں ایشین ٹیسٹ چیمپین شپ کے فائنل میں سری لنکا کے چاریتھا فرنینڈو، نوآن زوئسا اور مرلی دھرن کو لگاتار گیندوں پر آؤٹ کیا تھا۔

کریئر میں سات ہیٹ ٹرک کوئی معمولی بات نہیں۔ کیا آپ کے پاس اس کا کوئی خاص گُر ہے؟

اس سوال پر محمد سمیع کا جواب تھا کہ جب بھی کوئی نیا بیٹسمین کریز پر آتا ہے تو وہ وکٹوں کی لائن میں گیند کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ نئے بیٹسمین کے لیے پہلی گیند کا سامنا کرنا بہت مشکل ہوا کرتا ہے اور غلطی کی صورت میں انہیں وکٹ ملنے کا زیادہ موقع ہوتا ہے۔

محمد سمیع نے پشاور زلمی کے خلاف میچ کے بارے میں کہا کہ پولارڈ اور ڈیرن سیمی یقیناً جارحانہ انداز میں بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں لیکن کسی بھی موقع پر یہ خیال نہیں آیا تھا کہ میچ ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ اسلام آباد یونائٹڈ نے اس پریشر گیم میں اپنے پلان پر عمل کیا اور جیت سے ہمکنار ہوئی۔

محمد سمیع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی بولرز کے لیے آسان فارمیٹ نہیں ہے۔ انہیں صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دینی پڑتی ہے کہ کس طرح رنز بھی روکنے ہیں اور وکٹیں بھی لینی ہے۔

محمد سمیع اس پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائٹڈ کی قیادت بھی کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس نئی ذمہ داری سے خود پر قطعاً دباؤ محسوس نہیں کررہے ہیں بلکہ انہیں کھیلنے میں لطف آرہا ہے۔

محمد سمیع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد یونائٹڈ کی بولنگ بہت متوازن ہے ابھی متعدد بولرز بنچ پر بیٹھے ہیں۔ انیس کھلاڑیوں میں سے حتمی گیارہ رکنی ٹیم کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں