کرکٹ ورلڈ کپ 2019: ’پاکستان اور انڈیا میچ کا فیصلہ مودی نہیں، مرڈوک کریں گے‘

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار

پلوامہ حملے کے بعد نریندر مودی نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کر دیں گے۔ گو سیاسی طور پر تو اس بیان کے اثرات سامنے آنا ابھی باقی ہیں لیکن انڈین کرکٹ بورڈ نے جھٹ پٹ اس ڈھول کو گلے میں ڈال کر پیٹنا شروع کر دیا ہے۔

جہاں کئی سابق کرکٹرز اس بحث میں کود پڑے ہیں کہ آیا انڈیا کو ورلڈ کپ میں پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کرنا چاہیے یا نہیں، وہیں بالکل انہونی سی تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ بی سی سی آئی یعنی انڈین کرکٹ بورڈ آئی سی سی سے یہ مطالبہ کرے گی کہ پاکستان کی ورلڈ کپ میں شمولیت پر پابندی عائد کی جائے۔

اب یہ تجویز کچھ ایسی تھی کہ غالب یاد آتے ہی بنی

ََبک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

بطور کرکٹ شائق ہمیں نہ تو دو قومی نظریے سے کوئی غرض ہے نہ ہی کسی جنگی ترانے کی لگن ہے۔ ہمارا عقدہ فقط یہ ہے کہ ایک متنازع خطے میں ہوئے دہشت گردی کے ایک واقعے کو اتنا بڑا کیونکر ہونا چاہیے کہ وہ عالمی کرکٹ کپ جیسے غیر سیاسی گلوبل ایونٹ پر اثر انداز ہونے لگے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین کرکٹ بورڈ کی یہ تجویز بہرحال واپس لی ہی جانا تھی کیونکہ نہ تو آئی سی سی کے قوانین میں ایسی کوئی گنجائش ہے نہ ہی زمینی حقائق میں ایسی فراخ دلی ہے کہ کوئی کرکٹ بورڈ یوں کسی دوسرے کرکٹ بورڈ کی جڑیں کاٹنے کا سوچے اور بیل منڈھے چڑھ جائے۔

مگر چونکہ انڈین کرکٹ بورڈ حب الوطنی کا مظاہرہ کرنے کو بہت بے تاب بیٹھا تھا سو یہ تجویز رد کر چکنے کے بعد بھی کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔ لہذا خبر کا پیٹ بھرنے کو اتنا کر دیا گیا کہ راہول جوہری نے آئی سی سی کے کرتا دھرتا صاحبان کے نام ایک خط لکھ مارا ہے جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئی سی سی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات منقطع کرے۔

گو یہ مطالبہ بھی فقط چند انتہا پسندوں کی داد سمیٹنے کے سوا کچھ ایسا نہیں کر پائے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے کوئی نفسیاتی یا معاشی دقت پیدا کر پائے۔ لیکن بہر حال چند روز اس کا غلغلہ ضرور رہے گا اور سوموار کو آئی سی سی کی میٹنگ میں بھی اس کی بازگشت سنائی دے گی۔

مگر اس سارے قصے میں جو بات سب سے دلچسپ رہی، وہ یہ سوال کہ آیا انڈیا 16 جون کو مانچسٹر میں پاکستان کے خلاف کھیلے گا یا ’دہشت گردی‘ کی مذمت کے لیے فورفیٹ کر کے پوائنٹس پاکستان کے کھاتے میں ڈالے گا۔

یہ وہ سوال ہے جسے انڈین کرکٹ بورڈ نے بظاہر حکومتی مشاورت سے مشروط کر کے تشنۂ جواب چھوڑ دیا ہے۔ مگر کیا یہ سوال واقعی اتنا گھمبیر ہے کہ اس کے جواب کے لیے انڈین کرکٹ بورڈ کو مودی کے جواب کا انتظار کرنا پڑے گا؟

ایک طرف کچھ لوگ یہ رائے دے رہے ہیں کہ اگر انڈیا اپنا میچ فورفیٹ کر بھی دے تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات زیادہ متاثر نہیں ہوں گے لیکن دوسری جانب ششی تھرور اور سچن تندولکر ایسے حضرات بھی ہیں جن کے خیال میں جنگ لڑے بغیر ہار مان لینا نہایت بے وقوفی ہو گی۔

یہ دونوں آرا تو خیر اپنی جگہ، سوال یہ ہے کہ زمینی حقائق کے تناظر میں کیا یہ ممکن بھی ہے کہ انڈیا ورلڈکپ میں پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دے۔ سوال بر سوال یہ کہ اگر کسی طرح گروپ سٹیج میں ٹکرائے بغیر بھی دونوں ٹیمیں ناک آوٹ سٹیج میں سامنے آ جاتی ہیں تو کیا تب بھی ’دہشت گردی‘ کے پیش نظر حکومتی اجازت طلب کی جائے گی؟

حقائق ذرا مختلف ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے گروپ میچ کے ٹکٹوں کے لیے ریکارڈ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ فائنل سے کہیں زیادہ لوگ اس گروپ میچ کے متمنی ہیں۔ ٹی وی رائٹس کے اعتبار سے یہ ہمیشہ مہنگا ترین سپورٹ ایونٹ ہوا کرتا ہے۔

اس ورلڈ کپ کے گلوبل ٹی وی رائٹس سٹار سپورٹس کے پاس ہیں۔ سٹار سپورٹس کے لیے یہ میچ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اور طرہ یہ کہ سٹار سپورٹس انڈین کرکٹ بورڈ کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے میں کیا راہول جوہری اور ونود رائے اس فیصلے کے لیے واقعی نریندر مودی سے رجوع کریں گے؟

انڈیا 16 جون کو پاکستان سے کھیلے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ مودی سے نہیں، سٹار سپورٹس کے مالک روپرٹ مرڈوک سے پوچھ کر کیا جائے گا اور گلوبل رائٹس خریدنے والے کا اس میگا ریٹنگ ایونٹ کے بارے کیا فیصلہ ہو گا، یہ جاننے کے لیے کسی راہول جوہری کا دماغ درکار نہیں، کامن سینس ہی کافی ہے۔