مصباح الحق: میرے لیے کرکٹ کا جنون سب سے اہم ہے

مصباح الحق تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بین الاقوامی کرکٹ کو خیر باد کہنے کے بعد کرکٹرز یا تو ٹیم کی سلیکشن اور کوچنگ سے وابستگی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر کمنٹیٹر کے روپ میں نظرآنے لگتے ہیں لیکن مصباح الحق کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔

مصباح الحق کو بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوئے دو سال ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ فرسٹ کلاس اور فرنچائز کرکٹ باقاعدگی سے کھیل رہے ہیں اور منگل کو ہی انھوں نے پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کے خلاف میچ میں پشاور زلمی کو اپنے بل بوتے پر فتح سے ہمکنار کروایا۔

مصباح 44 برس کے ہو چکے ہیں لیکن کھیل میں ان کی غیر معمولی دلچسپی اور میدان میں دیانت داری میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ لوگوں کو حیرت اس بات پر ہے کہ مصباح الحق نے اس عمر میں خود کو اتنا متحرک کیسے رکھا ہوا ہے۔؟

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ان کے لیے کرکٹ کا جنون سب سے اہم ہے اگر وہی ختم ہو جائے تو پھر کوئی بھی چیز آپ کو متحرک نہیں کر سکتی چونکہ یہ جنون باقی ہے اسی لیے وہ کھیل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ انھیں مشکل صورت حال اور چیلنجز میں کھیلنے میں مزا آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل فور: کون کراچی جائے گا کون نہیں؟

پی ایس ایل: کوئٹہ نے اسلام آباد کو 43 رنز سے شکست دے دی

مصباح کی شاندار بیٹنگ، زلمی کی چار وکٹوں سے جیت

پی ایس ایل: اے بی ڈی ویلیئرز پاکستان نہیں آ رہے

پی ایس ایل: لاہور کے تینوں میچز کراچی منتقل

پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی جانب سے کھیلنے والے مصباح الحق کے مطابق اگر وہ محنت نہ کر رہے ہوتے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے بغیر پاکستان سپر لیگ میں آجاتے تو ان کے لیے یہاں کھیلنا بہت مشکل ہو جاتا۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے قائداعظم ٹرافی کے بعد گریڈ ٹو کرکٹ بھی کھیلی جہاں لمبے وقت تک بیٹنگ اور فیلڈنگ کرنی پڑتی ہے اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔‘

یاد رہے کہ مصباح الحق نے سوئی نادرن گیس کی جانب سے قائداعظم ٹرافی میں چار نصف سنچریاں بنائی تھیں جن میں حبیب بینک کے خلاف فائنل میں 91 رنز کی اننگز قابل ذکر تھی اس کے بعد انھوں نے قائداعظم ٹرافی گریڈ ٹو میں بھی فیصل آباد کی ٹیم کی قیادت کی جو چیمپیئن بنی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB

مصباح الحق تین سال میں دو بار اپنی قیادت میں اسلام آباد یونائٹڈ کو پی ایس ایل کا چیمپیئن بنوانے کے بعد اب پشاور زلمی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

کوئٹہ کے خلاف پہلے میچ میں ناقابل شکست 49 رنز بنانے کے بعد وہ ان فٹ ہو گئے تھے جس کی وجہ سے وہ سات میچ نہ کھیل سکے تاہم لاہور قلندر کے خلاف ان کی واپسی پراعتماد انداز میں ہوئی اور انھوں نے 59 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ 20 روز کے بعد دوبارہ کھیلتے ہوئے انھیں یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے کریئر کا پہلا میچ کھیل رہے ہوں۔

مصباح الحق نے لاہور قلندر کے نیپال سے تعلق رکھنے والے لیگ سپنر سندیپ لمیچانے کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کے بارے میں کہا کہ لمیچانے نے پی ایس ایل میں بیٹسمینوں کو کافی پریشان کیا ہوا ہے لیکن انھیں لمیچانے کی گگلی کو کھیلنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ یہی ٹیم کی منصوبہ بندی تھی کہ وہ وکٹ پر ٹھہریں اور لمیچانے پر حاوی رہیں۔

مصباح الحق نے ابو ظہبی کے جس میدان میں نصف سنچری سکور کی وہ ان کا پسندیدہ گراؤنڈ رہا ہے۔

انھوں نے یہاں ٹیسٹ میچوں میں پانچ سنچریاں سکور کی ہیں جن میں آسٹریلیا کے خلاف 56 گیندوں پر بنائی گئی سنچری نمایاں ہے۔

مصباح نے یہ سنچری بنا کر ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے سر ویوین رچرڈز کا سب سے کم گیندوں میں سنچری کا ریکارڈ برابر کیا تھا۔ یہ ریکارڈ بعد میں نیوزی لینڈ کے برینڈن مک کلم نے 54 گیندوں پر سنچری بنا کر توڑ دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں