انڈین کرکٹ ٹیم کے فوجی ٹوپی پہننے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا احتجاج

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ایک روزہ میچ میں فوجی ٹوپیاں پہنی تھیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈین کرکٹرز کی جانب سے آسٹریلیا کے خلاف رانچی میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میچ میں فوجی ٹوپیاں پہن کر کھیلنے پر آئی سی سی سے سخت احتجاج کیا ہے اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے اتوار کے روز نیشنل اسٹیڈیم میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کو پہلے ہی ایک خط بھیج چکا ہے اور آئندہ بارہ گھنٹے میں ایک اور خط بھیجا جارہا ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

یہ کرکٹ نہیں، آئی سی سی کارروائی کرے: فواد چوہدری

’یہ کرکٹ ہے، اسے کشمیر کا مسئلہ نہ بنائیں‘

دھون کے 143 پر جیت آسٹریلیا کی

احسان مانی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے جس پر ہم نے آئی سی سی کی توجہ دلائی ہے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے اجازت کسی اور مقصد کے لیے لی تھی لیکن کیا کچھ اور۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فوجی ٹوپی پہننے کا مشورہ سابق انڈین کپتان مہندر سنگھ دھونی کا تھا

احسان مانی کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے یہ جو حرکت کی ہے اس سے اس کی پوزیشن خاصی خراب ہوئی ہے۔ کرکٹ یا کسی بھی کھیل کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

احسان مانی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ اس نے ماضی میں جس طرح عمران طاہر اور معین علی کے خلاف کارروائی کی اسی طرح کی کارروائی بھارتی کرکٹ بورڈ کے خلاف بھی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی پوزیشن اچھی طرح معلوم ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے کو پیشہ ورانہ انداز میں میرٹ کی بنیاد پر دیکھ رہا ہے۔

'یہ کرکٹ ہے، اسے کشمیر کا مسئلہ نہ بنائیں'

سمیع چوہدری کا تجزیہ

انڈین کرکٹ بورڈ کے سربراہ راہول جوہری کا بادی النظر میں کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ان کی خاصیت یہ ہے کہ نہ صرف وہ کمال منتظم ہیں بلکہ اپنے کرئیر کے دوران ڈسکووری چینل، ہندوستان ٹائمز اور ’آج تک‘ جیسے اداروں سے وابستگی کے سبب وہ میڈیا کی نبض پہ ہاتھ رکھنا بھی خوب جانتے ہیں۔

اس سے پیشتر گزشتہ چند دنوں کے پاک انڈیا جنگی جنون میں بھی وہ کھل کر سامنے آئے ہیں۔ جہاں پہلے انہوں نے پاکستان کی ورلڈ کپ میں شمولیت پہ پابندی لگوانے کا شوشہ چھوڑا، پھر اسی موقف میں قدرے نرمی لاتے ہوئے آئی سی سی سے التجا کی کہ تمام ممبرز ’دہشت گرد‘ ممالک سے تعلقات منقطع کریں۔

اب جب کہ چند ہفتے گزرنے کے بعد جنگی جنون کی گرد ذرا چھٹنے لگی تھی اور چند ہی روز پہلے راہول جوہری کے آئی سی سی کو لکھے گئے خط پہ بھی استرداد کی مہر لگ چکی تھی، تو بعید نہیں کہ جوہری نے اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ پلاٹ سیٹ کیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@BCCI
Image caption میچ شروع ہونے سے قبل مہندر سنگھ دھونی نے پلوامہ حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری ٹیم میں کیمو فلاج کیپ تقسیم کیں

اس کے لیے موقع کا انتخاب کمال درستی سے کیا گیا۔ اور اس ’تاریخی‘ کام کے لئے دھونی کا انتخاب بھی عین بجا تھا کہ میچ شروع ہونے سے قبل جب پلیئرز سٹریٹیجی بنانے کو اکٹھے ہوتے ہیں، تب بجائے کوئی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے سبھی کے مرکزِ نگاہ مہندر سنگھ دھونی پلوامہ حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے پوری ٹیم میں کیمو فلاج کیپ تقسیم کر رہے ہوں۔

ایک لمحے کو بھارتی کرکٹ بورڈ اور راہول جوہری کی اس ساری کاوش کو نیک نیتی پہ محمول کر بھی لیا جائے تو نہایت بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ شرفا کے کھیل میں ایسے گمبھیر ایشوز کو اس طرح سے اجاگر کرنا کہاں تک درست ہے جو کھیل سے بھی زیادہ توجہ کے متقاضی ہوں۔

شاید یہی نفسیاتی خلجان انڈین پلیئرز کے سر پہ بھی سوار ہوا کہ پہلے دو میچز میں واضح برتری دکھانے والی انڈین ٹیم تیسرے میچ میں شدید مشکلات کا شکار دکھائی دی۔ اور بلیو کیپ میں دو میچز جیتنے والی ٹیم کیمو فلاج کیپ پہن کر شکست کی خفت سے دوچار ہو گئی۔

اسی بارے میں