شعیب ملک اتنے مایوس سے کیوں تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شارجہ کی وکٹ عموماً ایسے دمک رہی ہوتی ہے جیسے ٹیپ بال کرکٹ میں استعمال ہونے والی سیمنٹ وکٹ۔ یہاں بولرز کے لیے زندگی دشوار ہوتی ہے اور بلے بازوں کے لیے صرف رکنا ضروری ہوتا ہے اور پھر رنز خود بخود بہنے لگتے ہیں۔

مگر کل شارجہ کی وکٹ کی چمک ویسی نہ تھی۔ وکٹ میں کہیں نہ کہیں ہلکی سی دراڑیں بھی تھیں جن سے گمان ہوتا تھا کہ میچ میں آگے جا کر سپنرز کا کردار اہم تر ہو جائے گا۔ شاید یہی سوچ کر شعیب ملک نے بیٹنگ کا فیصلہ کر لیا۔

لیکن یہ ’شاید‘ وہ ’شاید‘ تھا جو قطعیت سے خالی تھا۔ اس ’شاید‘ پہ کہیں نہ کہیں کچھ خوف کا غلبہ تھا۔ یہ بات اپنی جگہ درست کہ پاکستان کے اہم ترین پلئیرز آرام کر رہے ہیں مگر ان کی جگہ جو پلئیرز کھیل رہے ہیں، وہ بھی اہم ہی ہیں۔ ان کو اعتماد فراہم کرنا بھی شعیب ملک کی ذمہ داری تھی۔

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلیا کی آٹھ وکٹوں سے جیت

ایک عارضی کپتان اور ایک سنبھلے کپتان کا مقابلہ

یہ کوئی ٹیسٹ میچ تو تھا نہیں کہ دوسری اننگز میں وکٹ کے سست ہونے پر قیاس کر لیا جاتا کہ اچانک گیند گھومنے لگے گا اور بلے بازوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ گو یہاں پہلے بیٹنگ کا فیصلہ بھی کچھ ایسا غلط نہیں تھا مگر یہ فیصلہ بھی تو کر لینا چاہیے تھا کہ پہلے بیٹنگ ’کیسے‘ کرنی ہے۔

اب وہ دور نہیں رہا کہ ’پار سکور‘ جیسی اصطلاحات پر تکیہ کر کے ایک متوازن ٹوٹل تشکیل دے دیا جائے۔ اب ون ڈے گیم کی رفتار بہت بڑھ چکی ہے۔ اگر پاکستان نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کر ہی لیا تھا تو یہ ذہن میں رکھنا بھی ضروری تھا کہ دوسری اننگز میں یہ وکٹ بیٹنگ کے لیے آسان تر ہو جائے گی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اچھے ٹوٹل سے کوئی 20 رنز پیچھے رہ گیا۔ امام الحق کے ساتھ شان مسعود کو اوپن کروانے کا فیصلہ بادی النظر میں دلچسپ ضرور تھا مگر یہ بھی تو دیکھ لینا چاہیے تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ کے دو اوپنرز جب ون ڈے کا پاور پلے کھیلیں گے تو ٹیم کی توقعات پر کیا گزرے گی۔

شاید شعیب ملک نے اپنی بیٹنگ لائن پر زیادہ اعتماد نہیں کیا یا پھر اپنی بولنگ لائن پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کر بیٹھے۔ کیونکہ جس طرح سے ایرون فنچ اور شون مارش نے بیٹنگ کی، پاکستانی بلے باز اس آزادی سے کھیلتے نظر نہیں آئے۔ نہ ہی یاسر شاہ اور عماد وسیم ویسی بولنگ کر پائے جیسی زامپا اور لیون نے کی۔

پہلا پاور پلے ہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ٹیمیں اپنی اننگز کا رخ متعین کرتی ہیں۔ پاکستان دونوں اننگز کے پہلے پاور پلے میں اپنی اتھارٹی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ بیٹنگ کے دوران شان مسعود کی سست روی آڑے آ گئی اور بولنگ کے دوران محمد عامر اور محمد عباس ویسی ’کاٹ‘ نہ دکھا پائے جو اس ٹوٹل کے دفاع کے لیے ضروری تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بہت عرصے بعد ایسا ہوا کہ مڈل اوورز میں پاکستان کو شاداب خان کی خدمات میسر نہ تھیں۔ ان کی عدم موجودگی میں جو امیدیں ٹیسٹ سپیشلسٹ یاسر شاہ سے وابستہ کی گئی تھیں، وہ بار آور ثابت نہ ہوئیں۔

رہی بات شعیب ملک کی کپتانی کی تو یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اب ’آتش جوان نہیں رہا‘۔ ایسے حالات میں کہ جب فنچ اور مارش جیسے دو بلے باز جم جائیں، وہاں بولنگ کپتان کو کچھ ’تخلیقی‘ سوچ دکھانا پڑتی ہے، کسی پارٹ ٹائم آپشن کو استعمال کیا جاتا ہے مگر شعیب ملک اس دوران کھوئے کھوئے سے دکھائی دیے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی کارکردگی اوسط درجے کی رہی۔ حارث سہیل کی پہلی سینچری تو خوب رہی مگر ان کے گرد دوسرے اینڈ پر جیسا مومینٹم بننا چاہیے تھا، وہ نہ بن پایا۔

شاید شعیب ملک کو اپنی بولنگ لائن سے زیادہ بیٹنگ لائن پر اعتماد دکھانا چاہیے تھا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو ایرون فنچ کی سینچری حارث سہیل کی کاوش پر غالب نہ آتی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں