انڈین پریمئیر لیگ: سپنر ایشون کے جوش بٹلر کو ’مانکیڈنگ‘ کرنے سے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری

ایشون تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انڈیا کی ٹی ٹوئنٹی پریمیئر ليگ آئی پی ایل ایک بار پھر خبروں میں ہے لیکن اس کی وجہ فکسنگ نہیں بلکہ ’مانکیڈنگ‘ ہے۔

واضح رہے کہ ’مانکیڈنگ‘ کرکٹ کی اصطلاح میں ایک ایسا عمل ہے جب بولر گیند پھینکنے کے عمل کے دوران رک کر اچانک بیٹسمین کو رن آؤٹ کر دے جو رن لینے کی جلدی میں کریز سے باہر نکل جائے۔

ایسا ہی کچھ آئی پی ایل کے گذشتہ رات کے میچ میں ہوا جب انڈیا کے بولر اور کنگز الیون پنجاب کے کپتان روی چندرن ایشون نے جے پور میں راجستھان رائلز کے خلاف اپنے پہلے میچ میں انگلینڈ کے بیٹسمین جوش بٹلر کو رن آوٹ کر دیا جو جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 69 رنز پر موجود تھے۔

اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر نہ صرف ایشون اور ان کی 'سپورٹس مین سپرٹ' موضوع بحث ہے بلکہ 'مانکیڈنگ' کے اصول پر بھی باتیں ہو رہی ہیں۔

دراصل ایسا معاملہ پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے جب بولر کے سرے پر کھڑا بلے باز (نن سٹرائک بیٹسمین) بولر کے گیند پھینکنے سے پہلے ہی کریز سے باہر رن لینے کے لیے نکل جاتا ہے تو بولر مڑ کر اسے رن آؤٹ کر دینے کا اشارہ کرتے ہوئے متنبہ کرتا ہے یا پھر وہ اسے رن آؤٹ کر دیتا ہے۔

انڈین پریمئیر لیگ کے حوالے سے مزید خبریں پڑھیے

کیا ایشون، معین علی سے بہتر بولر نہیں؟

آئی پی ایل: کیا کوہلی اس بار دھونی کو ہرا پائیں گے؟

’آئی پی ایل سے خاندان کا قرض اتاروں گا‘

پیر اور منگل کی درمیانی شب یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اجنکیا رہانے کی راجستھان رائلرز ٹیم، کنگز الیون پنجاب کے 185 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بہتر پوزیشن میں تھی کہ یکایک ایشون نے اپنے آخری اوور میں کریز سے باہر نکلے ہوئے جوش بٹلر کو رن آؤٹ کر دیا۔

معاملہ تیسرے امپائر کے سپرد کیا گیا جنھوں نے بٹلر کو آؤٹ قرار دیا وہ اس وقت 43 گیندوں پر 69 رنز بناکر کھیل رہے تھے۔ بٹلر اس پر انتہائی برہم نظر آئے اور غصے میں بربڑاتے ہوئے میدان سے باہر آ گئے۔

اس کے بعد پنجاب الیون نے یکے بعد دیگرے وکٹیں لیتے ہوئے 14 رنز سے کامیابی حاصل کر لی۔

سوشل میڈیا پر اس کے متعلق بحث جاری ہے کہ آیا ایشون نے کھیل کے جذبے کو زک پہنچائی ہے۔ ایشون نے میچ کے بعد کہا کہ انھوں نے 'پہلے سے کوئی منصوبہ نہیں بنا رکھا یہ انکا فوری رد عمل تھا۔ اگر کرکٹ میں ایسا قانون موجود ہے تو پھر گیم سپرٹ کی بات کہاں پیدا ہوتی ہے۔'

سب سے یادگار سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ

آپ کو یاد ہوگا کہ بہت بار بولر اپنے اینڈ پر باہر نکلتے ہوئے بیٹسمین کو متنبہ کرتا ہے لیکن عام طور پر اسے آؤٹ نہیں کرتا ہے۔

اس ضمن میں سب سے معروف واقعہ سنہ 1987 کے ورلڈ کپ کا ہے جب پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان میچر جاری تھا۔ کورٹنی والش آخری اوور پھینک رہے تھے اور سلیم جعفر کریز سے باہر تھے۔ کورٹنی والش انھیں آؤٹ کرسکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور ویسٹ انڈیز وہ میچ ہار گئی جبکہ پاکستان کو اس جیت کی وجہ سے سیمی فائنل میں جگہ مل گئی۔

ساری دنیا نے کورٹنی والش کے اس قدم کی کھلے دل سے تعریف کی اور ان کے اس رویے کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

خیال رہے کہ ایشون نے پہلی بار ایسا نہیں کیا ہے اور نہ ہی جوش بٹلر پہلی بار اس طرح آؤٹ ہوئے ہیں۔ سنہ 2012 میں سری لنکا کے خلاف ونڈے میں ایشون نے لہیرو تھیرامنے کو اس طرح آؤٹ کر دیا تھا۔ حالانکہ اس وقت کے انڈیا کے کپتان ویریندر سہواگ نے اس فیصلے کو بدل دیا۔ بہر حال اس وقت ایشون نے تھیرامنے کو دو بار پہلے متنبہ کیا تھا۔

میچ کے دوران کمنٹری کرتے ہوئے سری لنکا کے سابق کپتان اور معروف وکٹ کیپر کمارا سنگاکارا نے بتایا کہ سنہ 2014 میں سینانایک نے دو بار متنبہ کرنے کے بعد جوش بٹلر کو رن آؤٹ کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ: شری سنتھ پر تاحیات پابندی برقرار

آئی پی ایل: میچوں پر شرطیں لگانے والے تین افراد گرفتار

معروف کرکٹ کمنٹیٹر ہرش بھوگلے نے اس پر ٹویٹ کیا: 'اس بابت میرا حتمی نکتہ یہ ہے کہ ایشون نے بٹلر کو رن آؤٹ کر دیا۔ معاملہ تیسرے امپائر کے پاس گیا جو کہ آئی سی سی کے ایلٹ پینل پر ہیں۔ انھوں نے ری پلے دیکھا اور کہا کہ نن سٹرائیکر آؤٹ ہے۔ وہ قانون اور کھیل کے حالات کے پاسبان ہیں۔ اس لیے ایشون نے کیا کیا اس سے قطع نظر یہ امپائر کا فیصلہ تھا۔'

اس پر جواب دیتے ہوئے کرکٹ پر کتاب لکھنے والے معروف صحافی راجدیپ سردیسائی نے لکھا: 'ہرش بھوگلے معذرت چاہتا ہوں آپ اس معاملے میں غلط ہیں۔ ایشون نے اپنی مقابلہ جاتی حس کا استعمال کرتے ہوئے موقعے کا فائدہ اٹھایا۔ رات کی بہتر نیند کے بعد ہو سکتا ہے کہ آپ دونوں کا خیال بدل جائے۔ کسی نے میرے ٹائم لائن پر لکھا کہ خیال کریں کہ ورلڈ کپ کے فائنل میں (بین) سٹوکس کوہلی کو اسی طرح رن آؤٹ کر دیں!'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

جہاں بہت سے لوگ ایشون کو لعنت ملامت کر رہے ہیں وہیں بہت سے لوگوں نے ایشون کی تعریف بھی کی ہے۔ ایک تو یہاں تک لکھا کہ انھیں ایشون پر فخر ہے 'اب انڈیا کوئی غلام نہیں ہے۔'

’مانکیڈنگ‘ کب وجود میں آیا؟

آؤٹ کرنے کے اس طریقے کو آسٹریلین کھلاڑیوں نے مانکیڈ کا نام دیا۔

سنہ 1947 میں انڈین بولر وینو مانکڈ نے آسٹریلوی کھلاڑی بل براؤن کو ایک بار نہیں بلکہ دو بار اس طرح آؤٹ کیا۔ اُس وقت آسٹریلیا کے کپتان ڈان بریڈ مین نے مانکڈ کی حمایت کی جبکہ آسٹریلیا کی میڈیا نے انڈیا اور وینو مانکڈ کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر کھیل کے جذبے کو مجروح کرنے کا الزام لگایا۔

قانون کیا کہتا ہے؟

اس طرح رن آؤٹ کرنے یعنی مانکیڈنگ کا قانون 16۔41 کہتا ہے کہ 'جب بولر گیند کو ہاتھ سے چھوڑنے والا ہے اور اس وقت اگر نن سٹرائیکر اپنی کریز سے باہر تو بولر کو بیٹسمین کو آؤٹ کرنے کی اجازت ہے۔'

یہاں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ 'گیند کو ہاتھ سے چھوڑنے والا ہے' والی شق ہر فرد کے لیے الگ الگ ہو سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گيند ریلیز کرنے کی بات تو درکنار ایشون تو بول پھینکنے کے لیے تیار بھی نہیں تھے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ 'ایشون تو جوز بٹلر کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے تھے۔'

بہت سے لوگوں نے اس طرح کے پرانے ویڈیو بھی ڈالے جس میں بولر نے گیند سٹمپ کے پاس لے جاکر آؤٹ کرنے کی دھمکی دی لیکن آوٹ نہیں کیا۔ اسی طرح فلم 'لگان' کی کلپ بھی ڈالی گئی جس میں ایک کھلاڑی کو مانکیڈنگ کے ذریعے آوٹ کیا گیا۔

ہرسی سنگھ پاٹن نامی ٹوئٹر صارف نے اس لمحے کی ویڈیو ڈالتے ہوئے لکھا: 'ایسا تو لوگ گلی کرکٹ میں بھی نہیں کرتے جیسا ایشون نے کیا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں