’سمجھ آ گیا عمر اکمل کو ورلڈکپ کھلانا ہے یا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بہتر تھا کہ پاکستان یہ ون ڈے سیریز بھی اکتوبر ہی میں کھیل لیتا جب دو ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی کھیل کر یہ سیریز بچا رکھی تھی کہ ورلڈ کپ کے قریب جا کر کام آئے گی۔

یہ سیریز ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے کام آ بھی سکتی تھی اگر اسے وہی ٹیم کھیلتی جسے ورلڈ کپ کے لئے جانا تھا۔ مگر بجائے اس کے، ایک نئی ٹیم بنا دی گئی جسے یہ معلوم ہی نہیں کہ کس کس نے ورلڈ کپ کے لئے جانا ہے۔

سینئر کھلاڑیوں کو آرام دینے کی غایت یہ بتائی گئی تھی کہ چونکہ وہ اکتوبر سے مسلسل کرکٹ کھیل رہے ہیں اور پھر پی ایس ایل بھی کھیلنا لازم ٹھہرا، اس لیے تھکاوٹ سے چُور اعصاب ایک سیریز گھر بیٹھیں۔ اور غالبا ٹی وی پہ یہ میچ دیکھ کر اپنا وقت کڑھنے میں گزاریں۔

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلیا تیسرے ون ڈے کا فاتح، سیریز بھی جیت لی

’یہ ٹیم پاکستان کے لیے نہیں کھیل رہی‘

شعیب ملک اتنے مایوس سے کیوں تھے؟

ورلڈ کپ جوں جوں قریب آ رہا ہے، سبھی ٹیمیں اپنی تیاری پہ دھیان دے رہی ہیں۔ تجربات بہرحال تیاری کا حصہ ہوتے ہیں۔ کوئی حرج نہیں کہ پرانی ٹیم کو آرام دے کر نئے لڑکے اتارے جائیں۔ جنوبی افریقہ نے بھی تو پاکستان اور سری لنکا کے خلاف سیریز میں ایسے ہی تجربات کیے۔

لیکن، تجربہ کرتے وقت بھی یہ باریکی تو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے کہ ایک مضبوط بنیادی پلیٹ فارم موجود ہو۔ ایک ’کور گروپ‘ ہو جس کے گرد نئے لڑکوں کو پنپنے کا موقع مل سکے۔

یہاں المیہ یہ ہے کہ پورا ’کور گروپ‘ اڑا کر ایک نئی قیادت قائم کی گئی، اس کے نیچے بالکل ایک نئی ٹیم ترتیب دے دی گئی۔ اور اس کے مقابل وہ آسٹریلین ٹیم ہے جو ایک سال پہلے سے یہ تجربات کرتے کرتے اب ایک ناقابلِ شکست یونٹ میں بدل چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب ایسی دو ٹیمیں میدان میں تو کیا، کاغذ پہ بھی آمنے سامنے رکھ دی جائیں تو یہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں کہ فتح کس کی ہو گی۔ اس کے باوجود، پاکستان تین میچز بعد بھی یہ گتھی نہیں سلجھا پایا کہ اس کی فاسٹ بولنگ کا درست کمبینیشن کیا ہے۔

اور اس سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ پہلے دو میچز ہار کر بھی پاکستان یہی سمجھ رہا تھا کہ اس کی بیٹنگ لائن میں ستے خیراں ہیں۔ شعیب ملک کی اپنی فارم روٹھی ہوئی ہے۔ طرہ یہ کہ جن آزمودہ چہروں کو اپنے اوپر تلے کھلا رہے ہیں، ان میں سے کبھی کوئی میچ ونر نہیں رہا۔

سو، اس تجرباتی الیون میں ایک بھی ایسا پلئیر نہیں ہے جو اپنے بل پہ میچ کا پانسہ پلٹ سکے۔ سامنے وہ آسٹریلیا ہے جس میں کم از کم چار ایسے پلئیرز ہیں جو تن تنہا میچ لے اڑیں۔

اور جو آزمودہ چہرے شعیب ملک کے بیٹنگ آرڈر میں ہیں، یہ ایسے پلئیرز ہیں کہ ایک آدھ اننگز ایسی کھیل لیتے ہیں کہ آپ انہیں باہر بھی نہیں بٹھا سکتے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بنچ پہ بیٹھے دو بلے بازوں میں سے ہی کسی ایک کو موقع دے دیا جاتا۔

مگر یہ ساری بحث لاحاصل ہے کیونکہ کرتا دھرتا تو اب یہی کہیں گے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا بھلے سیریز ہار گئے، یہ تو سمجھ آ گیا ناں کہ عمر اکمل کو ورلڈ کپ کھلانا ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں