ایک آدھ میچ فیلڈنگ بھی کر لیتے بھئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

کوئی بھی پرفارمر جب یہ سوچ لیتا ہے کہ اسے اپنی کارکردگی نہیں بلکہ اپنی حیثیت ثابت کرنا ہے تو وہ اسی کوشش کی شدت میں اپنے بہترین سے پیچھے رہ جاتا ہے اور جہاں ایک نہیں 15 پرفارمرز اپنے وجود کا جواز دینے پہ تُلے ہوں، وہاں ’بہترین‘ کو بدترین بنتے دیر نہیں لگتی۔

خالصتاً کرکٹنگ پیرائے میں دیکھا جائے تو پاکستان کی یہ سیریز دراصل ’ریلو کٹا‘ سیریز تھی۔ بصد معذرت، ایسا ہر گز نہیں کہ اس سکواڈ کے پلئیرز کوالٹی میں کم تھے بلکہ ان میں تو کئی جہاندیدہ سینئیر لوگ بھی موجود تھے۔

مگر چونکہ کسی کو بھی اپنی موجودگی کا یقین نہیں تھا، کسی پر بھی واضح نہیں تھا کہ وہ ورلڈ کپ کی ٹیم کا حصہ ہو گا یا نہیں، سو الجھن ہر لمحہ طاری رہی۔

سمیع چوہدری کے مزید کالم پڑھیے

’محمد رضوان کے لیے یہ عجیب سا دن تھا‘

’یہ ٹیم پاکستان کے لیے نہیں کھیل رہی‘

شعیب ملک اتنے مایوس سے کیوں تھے؟

ایک عارضی کپتان اور ایک سنبھلے کپتان کا مقابلہ

جو بلے باز تھے، وہ ہر میچ میں رنز کے پیچھے بھاگتے رہے۔ انفرادی اہداف کا تعاقب کرتے کرتے پانچ سینچریاں تو پاکستان کے حصے میں آئیں مگر پانچ سینچریوں کر کے پانچ میچ ہار جانا، نہایت غیر معمولی بات ہے۔

جو بولر تھے، اسی شبے میں رہ گئے کہ اگلے میچ میں کہیں وہ بینچ پہ ہی نہ بیٹھے ہوں۔ بینچ پہ بیٹھنے سے بچنے کے لیے کارکردگی کا ثبوت لانا پڑتا ہے اور کارکردگی کا ثبوت ہے وکٹیں۔ سو، خلاصہ یہ ہوا کہ جو بھی ہو، جیسا بھی ہو، وکٹیں لینا ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

لیکن وکٹیں لینے کے لیے صرف ارادہ نہیں، پلاننگ بھی چاہیے۔ اٹیکنگ بولنگ کرنا ہو تو مدافعانہ فیلڈنگ لگانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ شعیب ملک کی کپتانی میں یہی مسئلہ رہا کہ بولر وکٹیں لینے کی کوشش کرتے رہے اور کپتان رنز روکنے کی۔

جب کشتی ایسے مختلف الخیال ناخداوں کے حوالے ہو گی تو کیونکر پار لگے گی۔

عماد وسیم نے کپتانی خاصی بہتر کی مگر ان کے آتے تک بے یقینی اتنی بڑھ چکی تھی کہ بولر ہو یا بلے باز، ایک نظر سکور بورڈ پر ہوتی تھی تو دوسری کارپوریٹ باکس میں بیٹھے چیف سلیکٹر پر۔

پانچوں میچوں میں المیہ یہ رہا کہ بلے باز بیٹنگ کا آڈیشن دیتے رہے اور بولرز بولنگ کا مگر کسی کو یہ خیال ہی نہ آیا کہ ورلڈ کپ میں فیلڈنگ بھی کرنا ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

خدا ایسے امتحان میں کسی دشمن کو بھی مبتلا نہ کرے جو ان کلین سوئپ ہونے والے پلیئرز پر پچھلے دو ہفتے طاری رہا، جہاں میچ ایک ہوتا تھا اور امتحان دو۔ خود بھی جیتنا ہے اور پاکستان کو بھی جتوانا ہے۔

اور سامنے پڑی ٹکٹ بھی کوئی چھوٹی نہیں، ورلڈ کپ کا موقع ہے۔ تاریخ میں نام لکھوانے کا وقت ہے مگر کنفیوژن ایسی کہ میچ شروع ہونے سے پہلے تک یہی معلوم نہیں کہ آج کپتان کون ہو گا۔؟

ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے کھیلی گئی اس سیریز کی سکورلائن سے تو ہرگز نہیں لگ رہا کہ پاکستان ورلڈ کپ کے لیے تیار ہے مگر یہ جواز بھی اپنی جگہ کہ جن پلئیرز نے ورلڈ کپ کھیلنا ہے، وہ یہ سیریز کھیلے ہی نہیں۔

اب جو پانچ میچوں کی ہار کی خفت ہے، اس کا تو مداوا ممکن نہیں مگر ایک پچھتاوا سا ضرور ہے کہ جہاں یہ پانچ میچ صرف بیٹنگ اور بولنگ کرتے رہے، ایک آدھ میچ فیلڈنگ بھی کر کے دیکھ لیتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں