مجھے اکھاڑے کی رانی کہہ کر بلایا جائے: ہووانگ وینسی

ہووانگ وینسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہووانگ وینسی نے سنہ 2018 میں ایشیا کانٹیننٹل سپر فلائی ویٹ چیمپیئن شپ میں سونے کی بیلٹ جیتی

ہووانگ وینسی چین میں خواتین باکسروں کی ایک چھوٹی تاہم بڑھتی ہوئی تعداد میں سے ایک ہیں جو روایتی اور گھسی پٹی باتوں کو چیلنج کرتی ہیں جو اکثرایسی سرگرمیوں سے خواتین کو دور کرتی ہیں۔

29 سالہ ہووانگ کا کہنا ہے کہ ایک خاتون گھر میں صرف بیوی یا ماں تک محدود نہیں ہے۔

چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ کے ایک چھوٹے قصبے میں پیدا ہونے والی ہووانگ نے سنہ 2002 میں باکسنگ کا آغاز کیا۔

انھوں نے تین سال بعد چین کی ایک صوبائی باکسنگ ٹیم میں شولیت اختیار کی تاہم سنہ 2011 میں زخمی ہونے کے باعث انھیں ریٹائر ہونا پڑا۔

ہووانگ وینسی کی سنہ 2015 میں اپنے شوہر سے ملاقات ہوئی جس کے ایک سال بعد انھوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔

اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد انھیں شدید ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انھوں نے سخت محنت طلب ٹریننگ سے متاٰثر ہو کر پیشہ ورانہ باکسنگ کے ذریعے واپسی کی۔

سنہ 2018 میں ان کی کوششیں رنگ لائیں اور انھوں نے خواتین کی ایشیا کانٹیننٹل سپر فلائی ویٹ چیمپیئن شپ میں سونے کی بیلٹ جیتی۔

ہووانگ کے شوہر ڈینگ پیپینگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہووانگ کے شوہر ڈینگ پیپینگ چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے ایک مقامی جِم میں اپنے بیٹے کو دیکھ رہے ہیں جبکہ ہووانگ سنہ 2018 کی چیمپیئن شپ کے لیے ٹریننگ کر رہی ہیں
ہووانگ وینسی اپنے بیٹے کے ساتھ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption باکسنگ کے ساتھ ساتھ ہووانگ ایک استاد کے طور پر کام کرتی ہیں
ہووانگ وینسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جیسے جیسے مقابلے کا دن قریب آ رہا ہے ہووانگ اپنی ٹرینگ جاری رکھے ہوئی ہیں
ہووانگ وینسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تائیوان کے دارالحکومت تائی پی میں سنہ 2018 کے چیمپیئن شپ میچ کے لیے سفر کرنے سے قبل یہاں ہووانگ کو فائنل ٹریننگ سیشن میں دیکھا جا سکتا ہے
ہووانگ وینسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تائی پی پہنچنے کے بعد ہووانگ نے باکسروں کے وزن کی پیمائش کرنے والے سیشن میں شرکت کی جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ وہ سپر فلائی ویٹ کیٹیگری کے لیے درکار کسوٹی پر پورا اترتی ہیں۔ ان کا وزن 53.5 کلو گرام تھا جو کہ اس مقابلے کے لیے درکار 52.1 کلو گرام سے تین کلو زیادہ تھا
ہووانگ وینسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہووانگ نے اپنے جسم کا وزن کم کرنے کے لیے سخت مشق کی۔ ٹورنامنٹ کے منتظمین نے انھیں تین کلو گرام وزن کم کرنے کے لیے صرف دو گھنٹے کا وقت دیا تھا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ وہ اپنا وزن کم کریں ورنہ انھیں نا اہل کر دیا جائے گا
ہووانگ وینسی اور ان کے اسسٹنٹ کوچ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہووانگ میچ کے روز اپنے اسسٹنٹ کوچ سے کچھ حوصلہ افزا الفاظ حاصل کرتے ہوئے
ہووانگ وینسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہوانگ نے سونے کی بیلٹ حاصل کرنے والے میچ کے لیے تھائی لینڈ کے جروسیری رانگ مونگ کا مقابلہ کیا
ہووانگ وینسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں باکسروں کے درمیان یہ مقابلہ ساتویں راؤنڈ تک جاری رہا
ہووانگ وینسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہووانگ نے میچ کے ساتویں راؤنڈ میں ریفری کی جانب سے ملنے والی تکنیکی ناک آؤٹ کے بعد فتح کا جشن منایا
ہووانگ وینسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اپنی فتح کے بعد جذبات پر قابو پاتے ہوئے ہووانگ کا کہنا تھا 'مہربانی کر کے مجھے بادشاہ کہہ کر نہ پکارا جائے بلکہ مجھے اکھاڑے کی ملکہ کہا جائے'

تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

متعلقہ عنوانات