حبیب بینک کا کرکٹ ٹیم ختم کرنے اور توجہ پی ایس ایل پر مرکوز کرنے کا فیصلہ

فخر زمان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی کرکٹ میں چار دہائیوں سے اہم کردار ادا کرنے والے ادارے حبیب بینک نے 'محدود وسائل' کی وجہ سے فرسٹ کلاس میں اپنی کرکٹ ٹیم ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کئی موجودہ کھلاڑی متاثر ہوئے ہیں جن میں فخرزمان، حسن علی، فہیم اشرف، امام الحق اور عابد علی قابل ذکر ہیں۔

حبیب بینک کے چیف کارپوریٹ کمیونیکشنز آفیسر علی حبیب نے بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ 26 کھلاڑیوں اور کوچ سلیم جعفر سمیت کوچنگ اسٹاف کے چھ ارکان جو کنٹریکٹ پر تھے، فارغ کردیے گئے ہیں اور انھیں بینک کے قوانین کے مطابق تمام واجبات ادا کردیے جائیں گے۔

علی حبیب نے کہا کہ حبیب بینک نے اپنے وسائل اور وقت کو اب پاکستان سپر لیگ پر صرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ان کے خیال میں پاکستان کی کرکٹ کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی کرکٹ کا نقطۂ انجماد

’کرکٹ کھیلنے پر فخر کو بہت مار پڑتی تھی‘

’وزیرِاعظم کے بعد مشکل ترین کام کرکٹ ٹیم کی کپتانی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

علی حبیب کا کہنا ہے کہ کرکٹ ٹیم ختم کرنے کا تعلق ٹیم کی اچھی یا خراب کارکردگی سے نہیں ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے کے وسائل لامحدود نہیں ہوتے اور بینک کی انتظامیہ اب یہ سمجھ رہی ہے کہ وسائل کو پاکستان سپر لیگ کے ساتھ منسلک کردیا جائے۔

حبیب بینک کی کرکٹ ٹیم ختم کیے جانے کا فیصلہ حیران کن اس لیے نہیں ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو علاقائی سطح پر استوار کرنے کی باتیں ہوتی رہی ہیں جس میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کا دائرہ کار برائے نام کیا جانا شامل ہے۔

عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد اس سوچ میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے کیونکہ وہ اپنے کیریئر کے دنوں سے ہی ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے خلاف رہے ہیں اور اب چونکہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن بھی ہیں لہذا وہ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کو مکمل طور پر علاقائی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کو ختم نہیں کیا جارہا لیکن مختلف اداروں کی جانب سے اپنی ٹیموں کو ختم کیا جانا بالکل مختلف صورتحال پیش کررہا ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی یو بی ایل نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم ختم کردی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

غور طلب بات یہ ہے کہ حبیب بینک کی کرکٹ ٹیم اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی کی فاتح ہے جہاں اس نے فائنل میں سوئی نادرن گیس کی ٹیم کو شکست دی تھی۔

ستر کے عشرے میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کےاُسوقت کے سربراہ عبدالحفیظ کاردار نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں اداروں کی ٹیموں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو حبیب بینک اولین اداروں میں سے ایک تھا جس نے اپنی کرکٹ ٹیم بنائی تھی۔

حبیب بینک کی ٹیم کو ہر دور میں بہترین کھلاڑیوں کی خدمات حاصل رہی ہیں۔

ان کرکٹرز میں جاوید میانداد، محسن خان،عبدالقادر، سلطان رانا لیاقت علی، عبدالرقیب، سلیم ملک، اعجاز احمد، شاہد آفریدی اور عمرگل نمایاں رہے ہیں۔

حبیب بینک کی کرکٹ ٹیم ختم کیے جانے کے ساتھ ہی ادارے کا اسپورٹس ڈویژن بھی عملاً ختم ہوگیا ہے کیونکہ بینک نے فٹبال، ٹیبل ٹینس، والی بال، ہاکی اور دیگر کھیلوں کی ٹیمیں پہلے ہی ختم کردی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں