وسیم خان کی تقرری: گورنگ بورڈ اور پی سی بی میں اختلاف

احسان مانی تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption پی سی بی چئیرمین احسان مانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے ہی گورننگ بورڈ کے چند ارکان کی جانب سے بعض معاملات پر اختلاف رائے کے سبب آئینی بحران کا سامنا ہے۔ ان معاملات میں ڈومیسٹک کرکٹ سمیت منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کا معاملہ شامل ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے گورننگ بورڈ کا اجلاس بدھ کے روز کوئٹہ میں ہونا تھا جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین سے متعلق ٹاسک فورس کی رپورٹ کا جائزہ لیا جانا تھا۔

اس کے علاوہ ایجنڈے میں چند دیگر نکات بھی شامل تھے لیکن گورننگ بورڈ کے پانچ ارکان جن میں ایک ڈپارٹمنٹ کا اور چار ریجنل نمائند شامل تھے، ایک قرارداد پیش کرنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے یہ اجلاس جاری نہ رہ سکا۔

یہ بھی پڑھیے

کاؤنٹی کھیلنے والے پہلے پاکستانی نژاد کرکٹر کا نیا مشن

’کرکٹ ٹیم ختم، حبیب بینک پی ایس ایل پر توجہ دے گا‘

سرفراز پہلے بھی ہمارے کپتان تھے اور رہیں گے: احسان مانی

گورننگ بورڈ کے اراکین کی قرارداد میں کیا ہے؟

Image caption سیالکوٹ ریجن کے سربراہ نعمان بٹ دیگر دوسرے بورڈ ممبران کے ہمراہ

پی سی بی کے گورننگ بورڈ کے پانچ ارکان کی جانب سے سامنے لائی گئی قرارداد میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈپارٹمنٹس کو ختم کیے جانے کے عمل کو مسترد کردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے کئی کرکٹر بے روزگار ہوجائیں گے۔

قرارداد میں یہ کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنائی جائے جو صورتحال کا جائزہ لے اور اپنی تجاویز بورڈ کے اگلے اجلاس میں پیش کرے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں کوئی بھی ترمیم نئی تجویز شدہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کی جائے۔

قرارداد میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ متعارف کرائے جانے اور اس عہدے پر وسیم خان کی تقرری کو غیرآئینی قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ آئین میں گورننگ بورڈ 10 ارکان پر مشتمل ہے جس میں ریجن اور ڈپارٹمنٹ کے چار چار اراکین کے علاوہ دو نمائندے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن کے نامزد کردہ ہیں تاہم چونکہ حبیب بینک نے اپنی ٹیم ختم کردی ہے لہذا اب اس کی گورننگ بورڈ میں نمائندگی نہیں ہے۔

کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس میں واپڈا کے نمائندے لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) مزمل حسین اور سوئی سدرن گیس کے نمائندے لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید ضیا شریک نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WASEEM KHAN
Image caption وسیم خان

منیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ

وسیم خان کو گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ اس تقرری سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے دنیا بھر سے اس عہدے کے لیے درخواستیں وصول کیں جس کے بعد امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنے کا مرحلہ شروع ہوا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ایک باقاعدہ طریقہ کار کے بعد وسیم خان کو منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں منیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ نہیں ہے تاہم موجودہ چیرمین احسان مانی اس حوالے سے آئینی اصلاحات یا ترامیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں وہ منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز میں چیرمین کا عہدہ رسمی ہوتا ہے اور تمام تر اختیارات چیف ایگزیکٹیو کوحاصل ہوتے ہیں۔

وسیم خان کی بحیثیت منیجنگ ڈائریکٹر تقرری کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ یہ تقرری گورننگ بورڈ سے منظوری کے بعد کی گئی ہے۔

دوسری جانب سیالکوٹ ریجن کے سربراہ نعمان بٹ جو قرارداد پیش کرنے میں سب سے نمایاں ہیں کہتے ہیں کہ اس طرح کی کوئی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی کیوں؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین احسان مانی کی تقرری وزیراعظم عمران خان نے کی ہے جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن بھی ہیں۔ یہ عمران خان کی ہی دیرینہ خواہش ہے کہ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ کا معیار بہتر کرنے کے لیے نہ صرف ٹیموں کی تعداد کم کی جائے بلکہ اسے علاقائی ٹیموں تک محدود کرتے ہوئے ڈپارٹمنٹس کی ٹیموں کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ ماہ ایک پریزنٹیشن تیار کی تھی جس میں علاقائی ٹیموں کے ساتھ ساتھ چند اداروں کی ٹیموں کی موجودگی بھی رکھی گئی تھی۔

البتہ وزیراعظم عمران خان نے اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے میں اداروں کی ٹیموں کو موجود نہیں ہونا چاہیے اور انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہدایت کی کہ علاقائی سطح پر صرف چھ ٹیموں کو فرسٹ کلاس کرکٹ کا حصہ بنایا جائے۔ اس وقت پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں آٹھ ادارے اور آٹھ ریجن حصہ لیتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں