صرف رونالڈو کافی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Daniele Badolato - Juventus FC
Image caption رونالڈو کو یووینٹس لانے کا اصل مقصد چیمپئینز لیگ جیتنا تھا

8 دن، 112 ملین یورو اور ریال میڈرڈ کے صدر فلورینٹینو پیریز سے ناراضگی۔ یہ تینوں چیزیں کرسچیانو رونالڈو کو اٹلی کے کلب یووینٹس لانے کے لیے کافی تھیں۔ ایک ایسا کلب جس نے 23 سال سے چیمپیئنز لیگ نہیں جیتی، ایک ایسے کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں لے کر آرہا تھا جس نے یہ اعزاز پانچ بار حاصل کیا ہے۔ دو مختلف کلبوں کے ساتھ۔ گزشتہ نو سالوں سے فٹبال کے مداحوں کو اور کسی چیز پر یقین ہو نہ ہو لیکن اپنی روز مرہ زندگی میں کچھ چیزوں پر ان کا پختہ ایمان ہے: آزادی، موت اور کرسچیانو رونالڈو کا چیمپیئنز لیگ کا سیمی فائنل کھیلنا۔

لیکن منگل کو ڈچ کلب آئیکس کے ساتھ ہونے والے کواٹر فائنل میں رونالڈو اور یووینٹس دونوں کو فٹبال نے ایک بات یاد دلائی۔ یہ کھیل گیارہ کھلاڑیوں کا ہے۔ آپ ہر بار ایک کھلاڑی کی مدد سے میچ نہیں جیت سکتے۔رونالڈو نے اٹلی کے کلب کو کواٹر فائنل میں لانے کے لیے اکیلے ایتھلیٹیو میڈرڈ کے خلاف ہارا ہوا گیم یووینٹس کو جیتوایا اور کواٹر فائنل کے پہلے اور دوسرے دونوں میچوں میں یووینٹس کو گول کر کے برتری دلوائی۔ لیکن اکیلے رونالڈو کب تک یووینٹس کی مڈ فیلڈ اور اٹیک دونوں کا بوجھ اٹھاتے۔

یہ بھی پڑھیے:

رونالڈو کا ریال میڈرڈ کے ساتھ سفر تمام

’چھپانے کو کچھ نہیں اس لیے کسی کا خوف بھی نہیں‘

’میری عمر میں کھلاڑی چین یا قطر جاتے ہیں‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ یووینٹس نے 23 سال سے چیمپیئنز لیگ نہیں جیتی اور ڈچ کلب آئیکس 23 سال بعد اس مقابلے کے سیمی فائنل میں جارہا ہے۔ آئیکس نے آخری بار چیمپیئنز لیگ 1995 میں جیتی تھی۔

لیکلن اس سال جب انھوں نے رابرٹ لیواڈوسکی، فرینک ربیری اور نوئیر جیسے کھلاڑیوں والے بڑے جرمن کلب بائرن میونخ کے ساتھ گروپ میچ ڈرا کیا تو فٹبال کے پنڈتوں نے اسے خوش قسمتی کہا اور جب ناک آؤٹ سٹیجز میں انھوں نے رونالڈو کے سابقہ کلب اور دفاعی چیمپیئن ریال مڈرڈ کو کونے سے لگایا تو تجزیہ کاروں نے اس کی وجہ میڈرڈ میں رونالڈو کے نا کھیلنے کو قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آئیکس ٹیم میں کھلاڑیوں کی اوسط عمر 23 سال ہے

لیکن منگل کی رات ہونے والے کواٹر فائنل میں رونالڈو کی ٹرین روکنے کے بعد اب آئیکس کو نہ صرف سنجیدگی سے لیا جارہا ہے بلکہ اب ایسا لگ رہا ہے کہ یہ نوجوان ٹیم صرف خوش قسمتی اور چانس پر نہیں پہنچی، فٹبال ماہرین اور ایلیٹ کلبوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔

بالآآخر ایک انڈر ڈوگ ٹیم اس سال چیمپیئنز لیگ جیت سکتی ہے۔ یہ وہ کلب ہے جس کی ٹیم میں کھلاڑیوں کی اوسط عمر 23 سال ہے اور جس کا کپتان انیس برس کا لڑکا ہے۔

لیکن آئیکس کا سفر ابھی اتنا آسان نہیں ہے۔

ادھر بارسلونا سیمی فائنل میں ہے اور امید کی جارہی ہے کہ محمد صلاح کی لیورپول اور رحیم سٹرلنگ کی مانچسٹر سٹی بھی سیمیز میں آپہنچیں گیں۔ دونوں آئیکس اور بارسلونا اب اپنے اپنے حریفوں کا انتظار کررہی ہیں۔

محمد صلاح آج لیورپول کے دوسرے کواٹر فائنل کی تیاری کررہے ہیں، میسی کل رات دو گول مارنے کے بعد آرام کررہے ہیں۔

اور نو سال کے بعد رونالڈو پہلی بار چیمپئینز لیگ کے سیمی فائنل میں نہیں ہوں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں