’ورلڈ کپ میں آپ کو مختلف فخر زمان نظرآئے گا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فخر زمان: 'انڈیا کے خلاف کھیلتے ہوئے جذبہ بالکل مختلف ہوتا ہے'

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپنر فخر زمان کے کریئر کا بام عروج انڈیا کے خلاف چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں سینچری اور پھر زمبابوے کے خلاف ڈبل سینچری تھی لیکن اس کے بعد جیسے یہ طوفان تھم سا گیا تھا۔

فخر زمان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ خاموشی زیادہ دیر نہیں رہ سکتی اور وہ اپنی جارحانہ بیٹنگ سے دوبارہ طوفان برپا کرنے کے لیے خاصے پرجوش ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں بھی فخر زمان ایک سینچری اور ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے لیکن دو میچوں میں ان کا سکور دوہرے ہندسوں تک بھی نہ پہنچ سکا۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی شائقین کو ایک نیا فخر زمان دیکھنے کو ملے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی کرکٹر ہر وقت ایک جیسی کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔ میں یہ مانتا ہوں کہ میرا بیڈ پیچ تھوڑا سا زیادہ ہو گیا لیکن میں نے اپنی خامیوں کو دور کرنے پر بہت توجہ دی ہے اور ورلڈ کپ میں آپ کو ایک مختلف فخرزمان نظر آئے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

فخر زمان کی غیرمعمولی صلاحیتں ٹیم میں واضح فرق

فخر کی ڈبل سنچری، پاکستان کی مسلسل چوتھی جیت

’فخر زمان، فخرِ پاکستان‘

میرا کام میچ ختم کرنا نہیں ہے: فخر زمان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فخر امید کرتے ہیں کہ وہ اور امام الحق ورلڈ کپ میں ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کریں گے

فخر زمان کی امام الحق کے ساتھ کافی ذہنی ہم آہنگی قائم ہو چکی ہے اور وہ پرامید ہیں کہ دونوں کی جوڑی ورلڈ کپ میں ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کرے گی۔

’میں اور امام الحق کافی عرصے سے نہ صرف انٹرنیشنل کرکٹ بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ایک ساتھ کھیلتے آئے ہیں، ہم ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہماری پارٹنرشپ پاکستانی ٹیم کے کام آئے گی۔‘

یاد رہے کہ فخر زمان اور امام الحق کی جوڑی ون ڈے انٹرنیشنل میں چار سینچری پارٹنرشپس قائم کر چکی ہے جس میں زمبابوے کے خلاف 304 رنز کی شراکت قابل ذکر ہے۔

اس عالمی ریکارڈ کو ویسٹ انڈین اوپنرز شائی ہوپ اور جان کیمبل نے آئرلینڈ کے خلاف 365 رنز بناکر توڑا ہے۔

ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے میچ پر دنیا بھر کی نظریں ہیں تاہم فخر زمان کے لیے تمام میچ ایک جیسے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ ہر میچ کی بڑی اہمیت ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ انڈیا کے خلاف کھیلتے وقت بالکل مختلف جذبہ ہوتا ہے جسے میں چیمپیئنز ٹرافی میں محسوس کر چکا ہوں۔‘

اسی بارے میں