شعیب ملک: کسی بھی نوجوان کرکٹر سے زیادہ فٹ ہوں

شعیب ملک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شعیب ملک کے مطابق انھیں سب سے زیادہ اطمینان اس بات پر ہوتا ہے کہ کپتان فیلڈنگ میں انھیں ہاٹ سپاٹ یعنی اہم جگہ پر کھڑا کرتا رہے

شعیب ملک 2019 کا ورلڈ کپ کھیلنے والے دو سب سے سینیئر کرکٹرز میں سے ایک ہیں۔

شعیب ملک سنہ 1999 سے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں اور عالمی کرکٹ میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد بھی فٹنس کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میری فٹنس کا راز پانچ وقت کی نماز ہے۔ جب آپ زیادہ کھیل لیتے ہیں تو آپ کو اپنے جسم کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کو کس طرح کی فٹنس درکار ہے تاکہ آپ کی کارکردگی میں مستقل مزاجی رہے۔‘

پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ 2019 کے بارے میں مزید جانیے

’وہاب اور عامر کی شمولیت سے بولنگ اٹیک بہتر ہوا ہے‘

عامر، وہاب اور آصف علی کی ورلڈ کپ سکواڈ میں واپسی

حسن علی دنیا کو حیران کرنے کے لیے پھر تیار

’ورلڈ کپ میں آپ کو مختلف فخر زمان نظرآئے گا‘

انھوں نے کہا کہ ’میری اپنی سوچ یہ ہے کہ سینیئر کرکٹر ہونے کے ناتے آپ جب تک کھیلیں ٹیم پر بوجھ نہ بنیں۔‘

شعیب ملک کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کے کسی بھی نوجوان کرکٹر سے زیادہ فٹ رہنا چاہتے ہیں اور اسی میں ان کی کامیابی ہے۔

’مجھے سب سے زیادہ اطمینان اس بات پر ہوتا ہے کہ کپتان مجھے فیلڈنگ میں ہاٹ سپاٹ یعنی اہم جگہ پر کھڑا کرتا رہے۔ کوشش کرتا ہوں کہ ٹیم کے ان نوجوان کرکٹرز سے مقابلہ کروں جو زیادہ فٹ ہیں۔‘

ان کے مطابق ’آپ کو خود ہی پتہ چل جاتا ہے کہ آپ ٹیم کے لیے کتنے کارآمد ہیں۔ اگر آپ بچاؤ کی کیفیت میں آ جائیں تو پھر کھیلنے کا مقصد باقی نہیں رہتا ہے۔‘

شعیب ملک کے 20 سالہ کریئر میں منعقد ہونے والا یہ پانچواں ورلڈ کپ ہے لیکن وہ اس سے قبل صرف سنہ 2007 کا ورلڈ کپ ہی کھیل پائے ہیں۔

سنہ 2003 کے ورلڈ کپ کی سلیکشن کمیٹی نے ان کا انتخاب کر لیا تھا لیکن آخری لمحات میں ان کی جگہ کسی دوسرے کرکٹر کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

شعیب ملک اتنے مایوس سے کیوں تھے؟

ایک عارضی کپتان اور ایک سنبھلے کپتان کا مقابلہ

سرفراز کو آرام، شعیب ملک کپتانی کرینگے

’جب شعیب ملک پہلا اوور پھینک رہے تھے‘

سنہ 2011 اور 2015 کے عالمی کپ بھی شعیب ملک نے باہر سے دیکھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے موجودہ عالمی کپ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

’مایوسی ضرور ہوتی ہے لیکن میں وہ شخص نہیں ہوں جو گزری باتوں کو ساتھ ساتھ لیے چلتا رہوں۔ زندگی میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر پاتے۔ اس بار یہ موقع ملا ہے اور یہ میرا آخری ورلڈ کپ بھی ہے۔‘

ان کے مطابق ’میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور چیمپیئنز ٹرافی جیت چکا ہوں۔ یہ ورلڈ کپ ہی ایک ایسا ایونٹ ہے جو نہیں جیت سکا۔ مجھے خود پر اور پاکستانی ٹیم پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔‘

شعیب ملک آئندہ سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیل کر بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں۔

’میری ورلڈ ٹی ٹوئنٹی پر نظر ہے جس میں کھیلنے کا انحصار یقیناً میری فٹنس پر ہو گا میں اپنے کریئر کا اختتام ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیل کر کرنا چاہتا ہوں۔‘

اسی بارے میں