کرکٹ ورلڈ کپ: ہم نروس نہیں پرجوش ہیں: عماد وسیم

عماد وسیم تصویر کے کاپی رائٹ PCB

30 مئی سے شروع ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کرتے وقت چیف سلیکٹر انضمام الحق نے جب یہ انکشاف کیا کہ آل راؤنڈر عماد وسیم کو فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرنے کے باوجود ٹیم میں شامل کیا گیا ہے تو سب کا صرف ایک ہی سوال تھا کہ یہ مہربانی کیوں؟

پہلے انضمام الحق پھر ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور پھر کپتان سرفراز احمد کو یہ وضاحت کرنی پڑی کہ فٹنس کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے لیکن عماد وسیم کو کامبینیشن میں اہم ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل کرنا ضروری تھا۔

خود عماد وسیم اپنے سلیکشن کو درست ثابت کرنے کے لیے میچ فٹنس کی دلیل کا سہارا لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

2019 کرکٹ ورلڈ کپ سکواڈ: عامر آؤٹ، حسنین ان

کرکٹ ورلڈ کپ ٹرافی کے بدلتے رنگ

ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم میں کون جگہ بنا پائے گا

'عماد وسیم فنچ سے بہتر نکلے'

عماد وسیم بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ کافی عرصے سے وہ گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہیں لیکن اگر وہ میچ فٹ نہ ہوتے تو آسٹریلیا کے خلاف پانچوں ون ڈے انٹرنیشنل کیسے کھیل لیتے؟

عماد وسیم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فٹنس میں بہتری لانے کے لیے تمام تر کوشش کرتے آئے ہیں۔ وہ ٹیم کے کیمپ سے پہلے ہی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں آ کر اپنی فٹنس پر کام کر رہے تھے۔

ورلڈ کپ کے لیے کتنے تیار ہیں؟

عماد وسیم کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی اعزاز کی بات ہے اور آپ کسی بھی کھلاڑی سے پوچھیں گے تو پوری ٹیم نروس نہیں ہے بلکہ ُپرجوش ہے۔ دونوں میں بہت واضح فرق ہوتا ہے۔

پہلے اوور میں وکٹ لینے کا ’گر‘؟

عماد وسیم اس بارے میں کہتے ہیں کہ جب وہ نئی گیند سے بولنگ کرتے ہیں تو کوشش ہوتی ہے کہ بیٹسمین کو آؤٹ کریں۔ کپتان اور کوچ کا جو پلان ہوتا ہے اسی کے مطابق گیند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کبھی بھی اپنے انفرادی ریکارڈ کے لیے نہیں کھیلتے۔

واضح رہے کہ عماد وسیم ٹی ٹوئنٹی میں سات اور ون ڈے انٹرنینشل میں چار مرتبہ اپنے پہلے ہی اوور میں وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔

ان کے ہاتھوں پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہونے والوں میں ہاشم آملہ، ایرون فنچ، الیکس ہیلز، اینجیلو میتھیوز اور اوئن مورگن بھی شامل ہیں۔

کیا عماد وسیم ٹیم کے لیے ناگزیر ہیں؟

اگر ہم پاکستانی ٹیم کی انگلینڈ روانگی سے قبل کے اعداد و شمار کی روشنی میں عماد وسیم کے کریئر پر نظر ڈالیں تو ان کی بیٹنگ اوسط 47 اور سٹرائیک ریٹ 105 بنتا ہے۔

عماد وسیم نے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی پانچ نصف سینچریاں عموماً ساتویں اور آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے سکور کی ہیں لیکن ان پانچ میں سے چار نصف سنچریاں انھوں نے ان میچوں میں سکور کی ہیں جن میں پاکستانی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

جہاں تک بولنگ کا تعلق ہے تو عماد وسیم کی بولنگ اوسط 40 سے اوپر ہے لیکن ان کی کفایتی اوسط 4.63 فی اوور بنتی ہے۔ اسی طرح ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں انھوں نے تقریباً 20 رنز کی اوسط سے وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں اور اکنامی ریٹ چھ سے نیچے ہے۔

عماد وسیم نے انگلینڈ کے دورے کا آغاز پر اعتماد انداز میں کیا اور کینٹ کے خلاف ون ڈے میچ میں چار چھکوں اور 13 چوکوں کی مدد سے 117 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں