حسن علی دنیا کو حیران کرنے کے لیے پھر تیار

حسن علی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دو سال قبل جب پاکستانی کرکٹ ٹیم نے چیمپیئنز ٹرافی جیت کر دنیا کو حیران کیا تھا تو اس میں حسن علی نے بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

حسن علی چیمپیئنز ٹرافی کے دوران بولنگ میں اپنی غیر معمولی کارکردگی کی وجہ سے مین آف دی ٹورنامنٹ قرار پائے تھے۔

حسن علی کی یہ کارکردگی انھیں آئی سی سی کی جانب سے ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر ایوارڈ دیے جانے کا سبب بھی بنی تھی۔

تاہم انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں حسن علی کچھ بجھے بجھے سے دکھائی دیے اور چار میچوں میں انھوں نے 87 رنز فی وکٹ کی اوسط سے صرف تین وکٹیں ہی حاصل کیں۔

اب جب پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر انگلینڈ کے میدانوں میں عالمی کپ کھیلنے کے لیے موجود ہے تو ہر کوئی حسن علی سے اس شاندار کارکردگی کی توقع کر رہا ہے جو انھوں نے چیمپیئنز ٹرافی میں دکھائی تھی۔

حسن علی پچھلے تین سال سے پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں۔ وہ میدان میں ایک ایسا جوش لے آئے ہیں جو ان کے وکٹ لینے سے لے کر اس وکٹ کی خوشی منانے تک موجود رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فخر زمان، ثنا میر اور حسن علی کے لیے ایوارڈز

آئی سی سی ایوارڈز: حسن علی ابھرتے ہوئے بہترین کھلاڑی

حسن علی ایک روزہ کرکٹ کے بہترین بولر بن گئے

بولنگ کا حساب دان حسن علی

حسن علی کی خواہش ہے کہ قوم نے جیت کا جو جشن چیمپیئنز ٹرافی کے موقع پر منایا تھا وہ اس بار بھی منائے۔

’چیمپیئنز ٹرافی کی جیت نے ہر پاکستانی کو خوشی دی اور اسی جیت کی وجہ سے ہمیں بھی لوگوں نے عزت اور پیار دیا۔ ظاہر ہے یہی کوشش ہو گی کہ دو سال پہلے جو ہوا تھا اس بار بھی ویسا ہی ہو اور پورا ملک جشن منائے۔ رہی بات میرے شہر میں بھنگڑے کی تو گوجرانوالہ کے لوگ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں، میری کامیابی کے لیے دعائیں کرتے ہیں، مجھے ان پر فخر ہے۔‘

حسن علی کہتے ہیں کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انھیں نئی گیند سے بولنگ دی جائے یا پرانی گیند سے کیونکہ کپتان اور کوچ انھیں جو بھی رول دیں گے وہ اسے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

حسن علی فٹ نہ ہونے کی وجہ سے نیوزی لینڈ کے دورے سے واپس آنے پر مجبور ہوئے تھے لیکن پی ایس ایل نے انھیں ایک بار پھر بھرپور اعتماد دیا۔

’پی ایس ایل میں میری کارکردگی اچھی رہی، میں نے اس کا اختتام سب سے زیادہ 25 وکٹوں پر کیا۔ ردھم میں ہوں، تیاری بھی اچھی ہے اور ورلڈ کپ کے لیے بہت پر امید ہوں۔‘

حسن علی کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم پچھلے تین سال سے انگلینڈ کا دورہ کرتی آ رہی ہے لہذا انھیں وہاں کی کنڈیشنز کا پتہ ہے اور تمام کھلاڑی ان کنڈیشنز سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

حسن علی کے خیال میں ورلڈ کپ صرف انڈیا پاکستان میچ کا نہیں ہے۔

’پہلے سے اس میچ کی پلاننگ کے بارے میں سوچ لینا صحیح نہیں ہے کیونکہ ورلڈ کپ میں آٹھ دیگر میچ بھی ہیں البتہ یہ درست ہے کہ انڈیا پاکستان میچ کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، دنیا اسے دیکھتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’ہمیشہ یہ ایک پریشر گیم ہوتا ہے جس میں وہی جیتے گا جو اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے بہترین کھیل کھیلے گا۔‘

اسی بارے میں