کرکٹ ورلڈ کپ 2019: انضمام الحق کہتے ہیں ’کھیلنا آسان ہے، ٹیم منتخب کرنا زیادہ مشکل کام ہے‘

انضمام الحق تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انضمام الحق نے پاکستان کی جانب سے پانچ ورلڈ کپ کھیلے ہیں اور اب چھٹے ورلڈ کپ میں چیف سلیکٹر کی حیثیت سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا انتخاب کیا ہے۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انضمام الحق نے کہا کہ ان کے نزدیک کھیلنا زیادہ آسان ہے کیونکہ اس میں ہرچیز آپ کو خود کرنی ہے لیکن ٹیم منتخب کرنا مشکل اور زیادہ ذمہ داری کا کام ہے۔

انضمام الحق نے بتایا کہ پانچ ورلڈ کپ مقابلوں میں ملی جلی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا، انھوں نے جیت کا مزا بھی لیا اور شکست کی تلخیاں بھی محسوس کی ہیں۔

سنہ 1992 کے ورلڈ کپ میں عمران خان نے بہت حوصلہ دیا

انضمام الحق نے سنہ 1992 کے ورلڈ کپ کے حوالے سے بتایا ’اس وقت میں نوجوان تھا اور مجھ پر بہت زیادہ دباؤ تھا کیونکہ مجھ سے ابتدائی میچوں میں رنز نہیں ہو رہے تھے لیکن میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ کپتان کا رول بہت اہم ہوتا ہے اور اس عالمی کپ میں مجھے عمران خان کی حوصلہ افزائی حاصل رہی۔ انھیں مجھ پر اعتماد تھا اسی لیے انھوں نے مجھے کسی میچ میں ڈراپ نہیں کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے صحیح وقت پر کلک کیا اور میں نے سیمی فائنل اور فائنل میں سکور کیا۔'

یہ بھی پڑھیے

’زیادہ کرکٹ سے کہیں کھلاڑی ان فٹ نہ ہو جائیں‘

انضمام الحق کھلاڑیوں کے ان فٹ ہونے سے پریشان

’اِدھر اُدھر کی کرکٹ پر کنٹرول کرنا ہو گا‘

انضمام صاحب! آپ کا ’اینگری ینگ پاکستان‘ فلاپ ہو گیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ کپتان کی باڈی لنگویج بہت اہم ہوتی ہے جو پوری ٹیم کی عکاسی کرتی ہے۔ سنہ 1992 کے عالمی کپ میں میچ ہارنے کے باوجود عمران خان ہمیشہ مثبت رہے اور ٹیم میٹنگ میں بھی یہی مثبت سوچ کارفرما رہتی تھی۔

سنہ 1999 کا فائنل ہارنے کا دکھ

’جس طرح میں سنہ 1992 کا عالمی کپ جیتنے کی خوشی کی کیفیت بیان نہیں کرسکتا اسی طرح سنہ 1999 کے عالمی کپ کے فائنل میں شکست کا غم بھی بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ میں نے 16 سال پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے سنہ 1999 جیسی مضبوط اور متوازن ٹیم نہیں دیکھی تھی۔ وہ کامبینیشن کے اعتبار سے ایک مکمل ٹیم تھی۔ ہم نے گروپ میچ میں آسٹریلیا کو ہرایا بھی تھا لیکن فائنل میں ہم توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔‘

لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ نہیں کرنی چاہیے تھی۔ میں ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا۔ ہم ٹاس ہار کر بھی بیٹنگ کر سکتے تھے۔ جیت اور ہار کا فیصلہ ٹاس پر نہیں ہوتا، یہ ضرور تھا کہ ہم اس دن بہت ُبرا کھیلے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں یہی کہوں گا کہ سنہ 1992 کا عالمی کپ فائنل میری زندگی کا سب سے اچھا دن تھا اسی طرح سنہ 1999 کے عالمی کپ کا فائنل سب سے برا دن تھا۔

سنہ 2007 کا عالمی کپ اور باب وولمر کی موت

’میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکا تھا۔ میں نے باب وولمر کے ساتھ اس عالمی مقابلے کی بہت زیادہ تیاری کی تھی لیکن ٹیم دوسرے راؤنڈ میں بھی نہ پہنچ سکی اور باب وولمر کی موت نے سب کچھ بدل دیا۔ وہ ہم سب کے لیے بہت کٹھن وقت تھا۔ میں ایک طویل عرصے تک اس کے اثرات سے نہیں نکل سکا۔ اپنا آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے کے بعد میں نے کافی عرصے تک کرکٹ سے دوری اختیار کرلی تھی کیونکہ مجھ پر بہت زیادہ ذہنی دباؤ تھا۔‘

اسی بارے میں