انعام بٹ: پاکستان میں ریسلنگ کا سلطان حکومتی سرپرستی کا منتظر

پاکستان ریسلر، تصویر کے کاپی رائٹ Inam Butt/Twitter
Image caption ’ورلڈ رینکنگ میں میرا نام دھونڈنے پر بھی نہیں ملتا، حالانکہ میں کئی بین الاقوامی مقابلوں میں عالمی رینکنگ والے کھلاڑیوں کو شکست دے چکا ہوں‘

پاکستان کے دس برس سے ناقابل شکست ریسلر محمد انعام بٹ، جنھوں نے حال ہی میں برازیل میں منعقد ہونے والی بیچ ریسلنگ سیریز میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا، اس سال اکتوبر میں امریکہ میں ہونے والی ورلڈ بیچ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے پہلے کھلاڑی ہوں گے۔

ورلڈ بیچ گیمز میں 200 سے زائد ممالک کے کھلاڑی 17 مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں شریک ہوں گے۔ اس سے قبل کبھی بھی کسی پاکستانی کھلاڑی نے کوالیفائینگ راونڈ جیت کر یہ اعزازحاصل نہیں کیا ہے۔

تاہم پاکستان کی نمائندگی کے لیے ’وائلڈ کارڈ‘ کے ذریعے سے محدود پیمانے پر شرکت کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

’پتا نہیں کس میڈل کے بعد پرائیڈ آف پرفارمنس ملے گا‘

’ڈاکٹر، انجینیئر کیا بننا، بیٹا پہلوانی میں نام کرنا‘

’مٹی کے اکھاڑوں سے میٹ ریسلنگ کا سفر آسان نہیں‘

بیچ ریسلنگ سیریز میں سلور میڈل حاصل کرنے کے بعد محمد انعام بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مقابلوں کے لیے انھوں نے بہت سخت تربیت حاصل کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Inam Butt/Twitter
Image caption پاکستانی ریسلر محمد انعام بٹ نے برازیل میں منعقدہ بیچ ریسلنگ سیریز میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا

’گذشتہ برس کے آخر میں جب رستم پاکستان کا ٹائٹل جیتا تو اس وقت میرا وزن 100 کلو تھا، جب کہ بیچ ریسلنگ سیریز میں حصہ لینے کے لیے میں نے چند ہفتوں مجھے دس کلو وزن کم کرنا پڑا۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ ورلڈ بیچ گیمز میں اچھی کارگردگی کا مظاہرہ کریں گے، جس کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع ہو گئی ہیں وہ روزانہ چھ گھنٹے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

تاہم انھوں نے شکوہ کیا کہ متعدد بین الاقوامی مقابلوں میں فتح حاصل کرنے کے باوجود حکومتی سطح پر کوئی بھی سرپرستی نہیں کی گئی ہے۔

’واپڈا کی جانب سے کھیلتا ہوں، جس سے دال روٹی چل رہی ہے۔ میرے پاس وسائل نہیں، صرف جنون ہے جس کی وجہ سے صبح شام محنت کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ حالیہ مقابلے میں بھی شرکت کے لیے ایک کھلاڑی کا خرچہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے آتا ہے جبکہ بین الاقوامی مقابلوں میں کوچ کے بغیر شرکت کی اجازت نہیں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ اخراجات سات لاکھ تک پہنچ گیے تھے۔

Image caption انعام بٹ کہتے ہیں 'پاکستان میں صرف کرکٹ کے کھیل پر ہی توجہ دی جاتی ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ ان اخراجات کا ابتدائی طور پر کچھ انتظام انھوں نے خود کیا اور باقی پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے ادا کیے۔ تاہم پنجاب سپورٹس بورڈ نے ان کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ان مقابلوں میں شرکت کے بعد ان کی جانب سے بھی کچھ فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔

وہ امید کرتے ہیں کہ امریکہ میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کے لیے حکومتی سطح پر انتظامات کیے جائیں گے۔ پہلے بھی فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث وہ گذشتہ ماہ چین میں منعقدہ ایشین چیمپئن شپ سمیت کئی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت نہیں کر سکے۔

ان کے بقول ’یہی وجہ ہے کہ ورلڈ رینکنگ میں میرا نام دھونڈنے پر بھی نہیں ملتا، حالانکہ میں کئی بین الاقوامی مقابلوں میں عالمی رینکنگ والے کھلاڑیوں کو شکست دے چکا ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے!

'بھارت میں کامیابی کا اپنا ہی مزا ہے'

2017: کامیابیاں، تنازعات اور احساسِ محرومی

صرف کرکٹ ہی کیوں؟

محمد انعام بٹ کا گِلا ہے کہ پاکستان میں صرف کرکٹ کے کھیل پر ہی توجہ دی جاتی ہے۔ اس کھیل کو حکومتی سرپرستی کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں کی سپانسرشپ حاصل ہے، جبکہ کشتی سمیت باقی کھیلوں کو مکمل طور پر نطر انداز کیا جاتا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستانی پہلوان محمد انعام بٹ کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے

ان کا کہنا تھا کہ اگر دیگر کھیلوں اور بالخصوص کھلاڑیوں کی طرف مناسب توجہ دی جائے اور نوجوان کھلاڑیوں کو سرپرستی اور تربیت حاصل ہو تو پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ شہر میں ان کے دادا اور والد کے قائم کردہ اکھاڑہ میں انھوں نے تربیت حاصل کی تھی اور اب اس اکھاڑے میں سو کے قریب نوجوان کھلاڑی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

’اس اکھاڑے میں بین الاقوامی معیار کی کوئی بھی سہولت دستیاب نہیں ہے مگر اس کے باوجود ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان کھلاڑی جب قومی اور صوبائی سطح کے مقابلوں اور تربیتی کیمپوں میں شرکت کرتے ہیں تو ان کو مناسب خوراک اور رہائش کی سہولیات نہیں ملتیں۔ نوجوان کھلاڑی محنت کرتے ہیں مگر انھیں روشن مستقبل نظر نہیں آتا اور وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے قومی سطح پر نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آ رہا۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایشین چمپین شپ میں شرکت نہ کرنے کے باعث اب پاکستان عالمی چمپئین شپ میں بھی نمائندگی کا حق بھی کھو بیٹھا ہے۔

ریسلر انعام بٹ کا کہنا تھا کہ بغیر مدد کے اگر وہ میڈل لاسکتے ہیں تو حکومتی سرپرستی میں کرکٹ سے زیادہ نام کمائیں گے۔

’میں سال میں اپنی مدد آپ یا کچھ لوگوں اور اداروں کی مدد سے دو، تین بین الاقوامی مقابلوں میں ہی حصہ لینے میں کامیاب ہو جاتا ہوں اور پاکستان کے لیے کوئی نہ کوئی میڈل ضرور جیت کر لاتا ہوں۔ اب اگر کرکٹ کے ساتھ تھوڑی سی توجہ ہمیں بھی مل جائے تو یقین کریں ہم عالمی مقابلوں میں کرکٹ سے زیادہ پاکستان کا نام روشن کریں گے۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت اور اسپانسر ادارے صرف کرکٹ پر ہی توجہ کیوں دیتے ہیں اور پھر خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں میڈیا کی کرکٹ پر بہت زیادہ توجہ ہے اور اس کھیل کو بہت زیادہ کوریج دی جاتی ہے۔

انعام بٹ کے اعزازات

پہلوانی کے لیے مشہور صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے محمد انعام بٹ پاکستان کے گذشتہ دس سالوں سے ناقابل شکست ریسلر ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انعام بٹ کا گولڈ میڈل والا داؤ

سنہ 2010 میں دلی میں ہونے والے کامن ویلتھ کھیلوں کے مقابلے میں پاکستان کے لیے دوسرا گولڈ میڈل جیتا تھا۔ سنہ 2014 میں ایشین بیچ گیمز میں کانسی کے حق دار، سنہ 2016 میں ساوتھ ایشین گیمز اور ایشین بیچ گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ سنہ 2016 میں ہی کامن ویلتھ ریسلنگ چمپئین شپ میں سلور میڈل جیتا تھا۔

سنہ 2017 میں کامن ویلتھ ریسلنگ چمپئین شپ میں سلور میڈل جبکہ اسی برس ورلڈ بیچ ریسلنگ چمپئین شپ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔

سنہ 2018 میں دوبارہ ترکی میں ہونے والے ورلڈ بیچ ریسلنگ چمپئین شپ مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔

اسی بارے میں