ورلڈ کپ 2019: کیا پاکستان کی بولنگ اب بھی سب سے موثر ہے، اعدادوشمار کیا بتاتے ہیں؟

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرکٹ ورلڈ کپ شروع ہونے والا ہے اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بولنگ کے شعبے میں تشویش کا سامنا ہے

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 سے قبل پاکستان آج اپنے آخری ایک روزہ میچ میں انگلینڈ کے مدمقابل ہو گا۔ ایک طرف جہاں ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے ممالک اپنی ٹیموں کو حتمی شکل دے رہے ہیں وہیں سیریز میں پاکستان ٹیم کی اب تک کی کارکردگی نے بولنگ کے حوالے سے بے شمار سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پاکستانی بولرز نے انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز میں اب تک 81.61 کی اوسط سے صرف 13 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس سیریز میں 359 کا بھی ہدف باآسانی انگلینڈ نے حاصل کیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ میں 350 رنز سے زائد کے ہدف کو دفاع کرنے میں ناکام رہا ہو۔

مزید پڑھیے

’اس میں امام الحق کا تو کوئی قصور نہیں‘

انگلینڈ نے پاکستان کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی

’ایسا ممکن نہیں کہ پاکستان ہار گیا ہو‘

اس سے قبل پاکستان نے اپنی ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں نو مرتبہ 350 یا اس سے زائد رنز کا ہدف دیا ہوا ہے مگر کسی میچ میں بھی انھیں شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

تاہم انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچوں کے نتیجے کو اگر یہ کہہ کر نظر انداز بھی کردیا دیا جائے کہ پچ بلے بازوں کے لیے مددگار تھی یا بولرز کا آج بُرا دن تھا، تب بھی گذشتہ دو برسوں کے پاکستانی بولنگ کے اعداد وشمار کو بالائے طاق نہیں رکھا جا سکتا۔

انگلینڈ کے خلاف سیریز کے میچوں میں بولرز کی ناقص کارکردگی کے پیش نظر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ 'میرا تو خیال تھا بولنگ پاکستان کی طاقت ہے۔'

ایک صارف نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بولنگ ایک وقت میں سب سے معیاری ہوتی تھی اور اب اس بولنگ لائن اپ میں نہ وہ تجربہ ہے اور نہ ہی اس میں اہل سپنرز موجود ہیں۔

پاکستان کرکٹ کا ماضی عظیم گیند بازوں سے بھرا ہوا ہے۔

چاہے وہ وسیم اکرم کی ریورس سوئنگ ہو، وقار یونس کا یارکر یا ثقلین مشتاق کا دوسرا، پاکستانی بولرز نے دنیائے کرکٹ کی بڑی بڑی ٹیموں کے بلے بازوں کے آگے اپنا لوہا منوایا ہے۔

پاکستانی بولرز کی اس سیریز میں کارکردگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو عمومی طور پر شائقین کے لیے پریشان کُن بات سب بولرز کو پڑنے والے ڈھیر سارے رنز ہونگے۔

البتہ بی بی سی نے وکٹس کے کالم پر اپنی نظریں جمائیں اور اعداد و شمار کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا ہماری ٹیم کی بولنگ اب بھی سب سے موثر ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چیمیئنز ٹرافی 2017 میں حسن علی پاکستان کے سب سے کامیاب بولر رہے

چیمیئنز ٹرافی 2017 کے بعد کے اعداد و شمار

چیمیئنز ٹرافی 2017 سے قبل بیشتر تجزیہ کار اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان کو ٹورنامنٹ میں اپنی بلے بازی سے متعلق فکرمند ہونا چاہیے نہ کہ اپنی گیند بازی کے حوالے سے۔

ٹورنامنٹ میں بھی یہ دیکھا گیا کہ انڈیا کہ ساتھ کھیلے گئے پہلے میچ کے علاوہ پاکستانی بولنگ نے تسلسل کے ساتھ کسی بھی ٹیم کو 300 سے زائد رنز نہیں بنانے دیے۔

اس میں سب سے نمایاں بات یہ رہی کہ پاکستان نے ان تمام ٹیموں کو آل آؤٹ کیا اور ایک اچھی اوسط کے ساتھ وکٹیں لیں۔

پاکستانی بولنگ کا جائزہ ہم نے چیمپیئنز ٹرافی کے بعد سے لیے گئے اعداد و شمار کی بنا پر کیا ہے اور اس میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے چوتھے ایک روزہ میچ کے بھی اعداد وشمار کو شامل کیا گیا ہے۔

ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ٹیموں کا بولنگ سٹرائک ریٹ چیمپیئنز ٹرافی 2017 کے بعد سے

ٹیمیں بولنگ سٹرائک ریٹ
افغانستان 34.0
جنوبی افریقہ 34.7
انڈیا 34.9
نیوزی لینڈ 35.0
انگلینڈ 38.0
سری لنکا 41.5
بنگلہ دیش 42.5
آسٹریلیا 42.5
پاکستان 43.7
ویسٹ انڈیز 46.5

بولنگ سٹرائک ریٹ کسی بھی بولر کی اوسط گیندوں کے عوض وکٹ لینے کی شرح ہے۔ اس لیے اگر اس ٹیبل کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی بولنگ سٹرائک ریٹ صرف ویسٹ انڈیز سے بہتر ہے۔

پاکستان نے اس دوران زمبابوے اور سری لنکا کے خلاف کھیلے گئے میچوں میں قدرے بہتر بولنگ کا مظاہرہ کیا جبکہ انگلینڈ، انڈیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے میچوں میں سٹرائک ریٹ خاصا مایوس کُن رہا۔

عالمی میگا ایونٹ میں تقریباً تمام معیاری ٹیمیں صرف ایک سپنر پر انحصار نہیں کررہیں۔ انڈیا اور افغانستان اسی بنیاد پر فہرست میں پہلے اور دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

البتہ پاکستان کے سپنرز میں شاداب خان کے علاوہ تمام سپنرز کی بولنگ اوسط 50 سے زائد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد عامر اور محمد حسنین

ہم نے ورلڈ کپ سکواڈ اور انگلینڈ سیریز میں شامل تمام پاکستانی بولرز کی گذشتہ دو سالوں کی ایک روزہ میچوں میں بولنگ اوسط کا جائزہ لیا۔

پاکستانی بولرز کھیلے گئے میچ وکٹیں بولنگ اوسط
شاداب خان 27 38 25.86
شاہین شاہ آفریدی 13 20 26.55
حسن علی 27 36 29.81
جنید خان 14 15 35.75
فہیم اشرف 22 18 39.27
شعیب ملک 31 4 57.50
محمد حسنین 4 4 59.00
یاسر شاہ 8 6 64.00
عماد وسیم 19 8 68.40
محمد حفیظ 19 4 73.00
حارث سہیل 12 2 84.50
محمد عامر 15 5 92.60

اس فہرست میں عثمان شنواری کا نام شامل نہیں جنھوں نے گذشتہ دو برس میں 15 میچوں میں 19.32 کی اوسط سے 28 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی لیکن وہ ورلڈ کپ کے سکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔

پاکستان کی بولنگ کا اس ٹیبل کی بنا پر جائزہ لیا جائے تو شاداب خان، شاہین آفریدی اور حسن علی کے علاوہ کوئی بھی بولر موثر کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہ رہا۔

گذشتہ دو برس سے یہ رحجان بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر بیٹسمین کو وکٹ پر زیادہ وقت گزارنے کا موقع مل جائے تو وہ سکورنگ کی رفتار کسی بھی لمحے بہت تیز کرسکتا ہے۔

اس کے پیش نظر شروع اور اختتامی اوورز میں وکٹیں حاصل کرنا انتہائی اہم ہوگیا ہے۔

ٹیبل میں دی گئی بولنگ اوسط اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اس شعبے میں پاکستانی بولرز نے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہین آفریدی کے علاوہ بولنگ کا آغاز کرنے والے کسی بھی بولر کی اوسط 30 سے کم نہیں

محمد عامر کو پاکستان ٹیم کے ورلڈ کپ سکواڈ میں جب شامل نہ کیا گیا تو ملک بھر میں ایک بحث چھڑ گئی۔

ٹوئٹر پر کچھ صارفین کی رائے تھی کہ محمد عامر نے گذشتہ دو برسوں میں 14 اننگز میں صرف 5 وکٹیں حاصل کیں اور اس بنیاد پر انھیں ٹیم میں نہیں رکھا جاسکتا۔ البتہ انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے میچوں کے بعد دیگر صارفین کو محمد عامر کے حق میں بھی بیان دیتے دیکھا گیا۔

طارق خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ ٹیم کو محمد عامر کی ضرورت ہے اور انھیں ٹیم میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ نہ صرف ان کے پاس تجربہ ہے بلکہ وہ دباؤ میں بھی اچھی بولنگ کرتے ہیں۔

کیا مقابلہ اب بھی پاکستان کی بولنگ اور انڈیا کی بیٹنگ کا ہوگا؟

گذشتہ دو دہائیوں سے پاکستان اور انڈیا کے مابین کھیلے جانے والے تمام میچوں سے قبل سابق کرکٹرز اس کو پاکستان کی بولنگ اور انڈیا کی بیٹنگ کے درمیان ایک ٹاکرا تصور کیا کرتے تھے۔

البتہ اعداد و شمار یہ ضرور بتاتے ہیں کہ انڈیا کی بولنگ اب دنیا میں موثر ترین بولنگ لائن اپس میں سے ایک ہے۔

ہم نے پاکستان اور انڈیا کے ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل پانچ بہترین بولرز کا گذشتہ دو برس کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا۔

انڈیا بولنگ اوسط پاکستان بولنگ اوسط
جسپریت بمرا 20.27 شاداب خان 25.86
کلدیپ یادو 21.74 شاہین آفریدی 26.55
یوزویندرا چاہل 25.68 حسن علی 29.81
محمد شامی 30.19 جنید خان 35.75
بھونیشور کمار 31.90 فہیم اشرف 39.27

شاداب خان گذشتہ دو برسوں کی کارکردگی کی بنیاد پر اس ولڈ کپ میں دوسری ٹیموں کے لیے یقیناً ایک خطرناک بولر ثابت ہوسکتے ہیں اور پاکستانی ٹیم اس لیے پُر امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر ٹیم کو جوائن کرلیں گے۔

تاہم اگر دنیا بھر کے لیگ سپنرز کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو چیمپیئنز ٹرافی کے بعد سے راشد خان، عمران طاہر اور یوزویندرا چاہل کی بولنگ اوسط شاداب خان سے قدرے بہتر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاداب خان گذشتہ دو برسوں کی کارکردگی کی بنیاد پر اس ولڈ کپ میں دوسری ٹیموں کے لیے یقیناً ایک خطرناک بولر ثابت ہوسکتے ہیں

اس ٹیبل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی بولرز پر وکٹس کے لیے زیادہ انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ شاہین آفریدی کے علاوہ بولنگ کا آغاز کرنے والے کسی بھی بولر کی اوسط 30 سے کم نہیں۔

انڈیا کی بیٹنگ لائن اپ تو کافی عرصے سے مضبوط ترین تصور کی جاتی رہی ہے مگر اوپر دیے گئے اعداد و شمار ہمیں اب یہ بھی باور کراتے ہیں کہ انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی بولنگ اب اُتنی موثر نہیں رہی جتنا ماضی میں تھی۔

انڈیا کے پانچ بہترین بولرز کا نام ان کے کھیلنے والے 11 کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہونا متوقع ہے جبکہ اب تک یہ واضح نہیں کہ پاکستانی ٹیم بھی اپنے پانچ بہترین بولرز کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

تمام اعداد و شمار 19 جون 2017 سے لے کر 18 مئی 2019 تک کے ہیں۔

اسی بارے میں