سمیع چوہدری کا کالم: ’لیکن سرفراز احمد برا مان گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وکٹ بے جان ہے، گیند نیا ہے، بلے باز جمے ہوئے ہیں، نو وکٹیں باقی ہیں، مطلوبہ رن ریٹ چھ سے بھی کم ہے۔ فیلڈنگ ٹیم کے اعصاب شکست کے سائے سے خائف ہیں کہ اچانک ایک وکٹ گرتی ہے اورایک امید پیدا ہوتی ہے۔

اگلے اوور میں ایک نہایت دلیرانہ فیصلہ سامنے آتا ہے۔ اس آف سپنر کو گیند دیا جاتا ہے جس نے پورے میچ میں اب تک بولنگ نہیں کی۔

ایسے فیصلے بہت مشکل ہوتے ہیں۔ بہت کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔ ہاں اگر فیصلہ بہتر نتائج لے آئے تو اس کا مول بھی کوئی نہیں لیکن اگر بولنگ حسبِ منشا نہ ہو پائے تو پھر وہی ہوتا ہے جو جنوبی افریقہ کی ٹی ٹونٹی سیریز میں شعیب ملک کے ساتھ ہوا تھا۔

سمیع چوہدری کے مزید کالم پڑھیے

’اس میں امام الحق کا تو کوئی قصور نہیں‘

’یہ سورج انگلینڈ میں ہی ڈوب تو نہ جائے گا‘

کوئی ہے جو مورگن کو آؤٹ کر دے؟

ایک آدھ میچ فیلڈنگ بھی کر لیتے بھئی‘

مگر یہاں شعیب ملک کو سہولت یہ حاصل تھی کہ فیصلے کا بوجھ ان پر نہیں، سرفراز احمد پر تھا۔ سرفراز نے جرات بھرا فیصلہ کیا اور تین گیندوں میں ہی ایک اور وکٹ مل گئی۔

اس کے بعد عماد وسیم نے ایک ہی اوور میں دو قیمتی وکٹیں اڑا کر انگلش اننگز کی کمر توڑ دی۔ سرفراز جو کچھ ہی دیر پہلے اوسط سے کپتان نظر آ رہے تھے اچانک ذہین ترین انسان دکھائی دینے لگتے ہیں۔

اس سیریز میں یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان میچ کی رفتار میں انگلینڈ کے برابر پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ پہلی بار ’وِن وِز‘ کا پلڑا پاکستان کی طرف متوجہ ہوا۔

ان وکٹوں پر اب تک جتنی کرکٹ حالیہ سیریز میں ہوئی ہے اس کے تناظر میں یہ کہنا بجا ہے کہ یہاں بولرز کے لیے کچھ خاص موجود نہیں ہے۔ بالخصوص نئے گیند کے ساتھ تو جتنا بھی پرانا بولر آ جائے چوکوں کے سوا کچھ نہ پائے گا۔

ایسی صورتِ حال میں فیلڈنگ کپتان کی صرف اور صرف ایک ذمہ داری ہوتی ہے، پر سکون رہنا۔ صبر اور تحمل کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھنا تا کہ خود بھی مضطرب نہ ہو اور بولرز بھی پر اعتماد رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

ساتھ ہی یہ دقیقہ بھی سمجھنا لازم ٹھہرا کہ یہاں وکٹیں ڈھونڈے سے نہیں ملیں گی بلکہ نہ ڈھونڈنے سے ملیں گی۔

بولرز کو وکٹ کالم سے یوں بے نیاز ہونا پڑے گا کہ گویا وہ بولنگ وکٹوں کے حصول کے لیے نہیں رنز کو روکنے کے لیے کر رہے ہیں۔ وکٹ تبھی گرے گی جب بلے باز بور ہو گا۔

بلے باز ہر گیند پر رنز چاہتا ہے اسے ہر اوور میں ایک باؤنڈری بھی لازمی چاہیے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ چھ گیندوں میں اوسطاً دو گیندیں تو ایسی آ ہی جاتی ہیں جو خود باؤنڈری پار جانے کو بے تاب ہوتی ہیں۔

وہ دو گیندیں عموماً وہی ہوں گی جن پر بولر چانس لے گا۔ وہ چاہے گا کہ ایج نکلے، بلے باز بھی یہی چاہے گا کہ ایج ہی نکلے لیکن اس طرح سے نکلے کہ باؤنڈری تک پہنچ جائے۔

پاکستان کے لیے یہ بہت بڑی جیت ہوتی اگر یہ سمجھا جاتا کہ پریشر انگلینڈ پر ہے۔ جب ایسی وکٹ پر بین سٹوکس کا سٹرائیک ریٹ بھی 100 سے کم ہو جائے تو بولنگ لائن کا اعتماد بڑھ جانا چاہیے اور واقعتاً بولنگ لائن کا اعتماد بڑھ بھی گیا۔ پاکستان اس میچ کو آخری اوورز تک کھینچنے میں کامیاب بھی ہو گیا لیکن پھر 49 واں اوور آیا اور جنید خان بولنگ کرنے کے لیے آ گئے۔

بھلے سٹوکس کے اس چھکے کے بعد امیدیں مدھم پڑنے لگی تھیں مگر سپورٹس مین تو وہی ہے جو آخری دم تک ہار نہ مانے کیونکہ جتنی گیندیں باقی ہوں، اتنے ہی مواقع بھی تو باقی ہوتے ہیں۔

نجانے کیا سوچ کر اس فیلڈر نے اوور تھرو کر دیا اور بدقسمتی یہ کہ ایک اضافی رن بھی بن گیا۔ جبھی وہ ہوا جس کا ڈر تھا۔ سرفراز احمد شدید غصے میں آ گئے اور اس فیلڈر پر برس پڑے اور خوب برسے۔

مگر نہ تو سکور کارڈ بدلا، نہ ہی اس فیلڈر نے کچھ کہا، نہ ہی بولر نے برا منایا لیکن سرفراز تو شدید برا مان چکے تھے۔ اس قدر برا مانا کہ انھیں پتہ ہی نہ چل پایا کہ کب جنید خان نے اگلی گیند پھینکی، کب ایج ہوا، کب وہ کیچ مِس ہوا اور کب چوکا ہو گیا اور پتہ نہیں کب، انگلینڈ میچ جیت گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں