پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: پانچویں ایک روزہ میچ میں پاکستان کو 54 رنز سے شکست

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کپتان سرفراز احمد 80 گیندوں پر 97 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ہیں

انگلینڈ نے پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں کرس وؤکس کی تباہ کن بولنگ کی بدولت پاکستان کو 54 رنز سے شکست دے کر سیریز میں کلین سویپ کر دیا ہے۔

انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو جیتنے کے لیے 352 رنز کا ہدف دیا جس کے جواب میں پوری پاکستانی ٹیم 47ویں اوور میں 297 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

کپتان سرفراز احمد اور بابر اعظم کے علاوہ کوئی بھی پاکستانی بلے باز اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر پایا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا ٹاپ آرڈر مکمل ناکام رہا اور تیسرے اوور کے اختتام تک تین بلے باز، فخر زمان، عابد علی اور محمد حفیظ، چھ کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے۔

فخر زمان اور محمد حفیظ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

’میرا تو خیال تھا کہ بولنگ پاکستان کی طاقت ہے‘

ناٹنگھم: بین سٹوکس نے انگلینڈ کو میچ اور سیریز جتوا دی

’لیکن سرفراز احمد برا مان گئے‘

اس موقع پر بابر اعظم اور کپتان سرفراز احمد نے ٹیم کو سہارا دیا اور 146 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی۔

نو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 80 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر بابر اعظم 27ویں اوور میں 152 کے مجموعی سکور پر رن آؤٹ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرس وؤکس نے 10 اوورز میں 5.40 رنز فی اوور کی اوسط سے 54 رنز دیے اور پانچ بلے بازوں کو آؤٹ کیا

بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کا بعد سرفراز کا ساتھ دینے کے لیے شیعب ملک کریز پر آئے تاہم صرف چار رنز بنا کر وہ بھی پویلین لوٹ گئے۔

32ویں اوور میں کپتان سرفراز احمد، جو سنچری بنانے سے صرف تین رنز کی دوری پر تھے، 80 گیندوں پر 97 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو ئے۔

سرفراز کے آؤٹ ہونے کے بعد وکٹیں گرنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا۔ آؤٹ ہونے والے ساتویں بلے باز عماد وسیم تھے جو 232 کے مجموعی سکور پر 25 رنز بنا کر کرس وؤکس کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

آصف علی 22 جبکہ حسن علی 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اوپنر فخر زمان بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہونے کے بعد آسمان کو تکتے ہوئے

40ویں اوور کے اختتام تک پاکستان کے نو بلے باز پویلین لوٹ چکے تھے جبکہ ٹیم کا مجموعی سکور صرف 250 تھا۔

دسویں وکٹ کی شراکت میں شاہین شاہ آفریدی اور محمد حسنین نے 47 رنز کا اضافہ کیا۔ 47ویں اوور میں محمد حسنین 28 رنز بنا کر عادل رشید کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔

اس بارے میں

’ایسا ممکن نہیں کہ پاکستان ہار گیا ہو‘

’اس میں امام الحق کا تو کوئی قصور نہیں‘

انگلینڈ کی جانب سے کرس وؤکس سب سے نمایاں بولر رہے جنھوں نے 10 اوورز میں 5.40 رنز فی اوور کی اوسط سے 54 رنز دیے اور پانچ بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔

عادل رشید نے دو جبکہ ڈیوڈ ویلی ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

انگلینڈ کی اننگز

اس سے قبل انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور مقررہ 50 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 351 رنز بنائے تھے۔

اننگز کی ابتدا میں انگلینڈ کے بلے بازوں کی جانب سے دھواں دار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا گیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ انگلینڈ پاکستان کو 400 رنز سے زائد کا ہدف دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔

تاہم عماد وسیم اور شاہین شاہ آفریدی کی نپی تلی بولنگ کی بدولت اننگز کے آخری 15 اوورز میں پہ در پہ گرنے والی وکٹوں نے انگلینڈ کو محتاط بلے بازی پر مجبور کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انگلینڈ کی جانب سے جو روٹ اور آئن مورگن نمایاں بلے باز رہے۔ روٹ نے 84 جبکہ مورگن نے 76 رنز کی اننگز کھیلی۔

پاکستان کی جانب سے 10 اوورز میں چار وکٹوں کے عوض 82 رنز دے کر شاہین شاہ آفریدی نمایاں بولر رہے۔ جبکہ عماد وسیم نے 5.30 کی اوسط سے اپنے 10 اوورز میں 53 رنز دیے، انھوں نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

حسن علی اور محمد حسنین نے ایک، ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔

پاکستان کو پہلی کامیابی آٹھویں اوور میں ملی جب 63 کے مجموعی سکور پر اوپنر جیمز ونس 32 گیندوں پر 33 رنز بنا کر شاہین آفریدی کی گیند پر فخر زمان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عماد وسیم نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

دوسرے آؤٹ ہونے والے بلے باز جونی بئرسٹو تھے جنھوں نے 20 گیندوں پر 32 رنز بنائے۔ 12ویں اوور میں 105 کے مجموعی سکور پر وہ عماد وسیم کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

آئن مورگن 76 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر 30 ویں اوور میں شاہین آفریدی کی گیند پر عابد علی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

257 کے مجموعی سکور پر محمد حسنین جو روٹ کی وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ روٹ نے 73 گیندوں پر نو چوکوں کی مدد سے 84 رنز بنائے۔ وہ آؤٹ ہونے والے چوتھے بلے باز تھے۔

39ویں اوور میں عماد وسیم نے پاکستان کے لیے دو کامیابیاں سمیٹیں۔ جاس بٹلر 34 جبکہ معین علی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔

295 کے مجموعی سکور پر انگلینڈ کی ساتویں وکٹ گری جب کرس وؤکس 18 گیندوں پر 13 رنز بنا کر شاہیں آفریدی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ آؤٹ ہونے والے آٹھویں بلے باز بین سٹوکس تھے جنھوں نے 21 رنز بنائے، ان کی وکٹ حسن علی نے لی جبکہ ڈیوڈ ویلی صرف 14 رنز بنا پائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جونی بئرسٹو 20 گیندوں پر 32 رنز بنا کر عماد وسیم کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے

پاکستان یہ سیریز پہلے ہی ہار چکا ہے البتہ آج کے میچ میں پاکستان کے لیے اپنی ساکھ بچانے اور انگلینڈ کی جانب سے کلین سویپ سے بچنے کا آخری موقع ہے۔

اس میچ کے ساتھ ورلڈ کپ سے پہلے دونوں ٹیموں کی اہم تیاروں کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔

انگلینڈ کی ٹیم کے خیمے سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ لیڈز میں وہ اپنی مضبوط ترین ٹیم کے ساتھ اتریں گے جس کا مطلب ہے کہ انھیں کپتان آئن مورگن اور اوپنر جانی بیرسٹو کی خدمات حاصل ہوں گی۔

البتہ جیسن رائے کا کھیلنا مشکوک ہے جس کا مطلب ہے جیمس ونس کو پھر سے موقع ملے گا۔ پاکستان کی جانب سے اوپنر امام الحق کا کھیلنا بھی مشکوک ہے لیکن کپتان سرفراز کا کہنا ہے ک ٹرینٹ برج میں ان کی کہنی پہ بس ہلکی سی خراش آئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان کی ٹیم کپتان سرفراز احمد، عابد علی، آصف علی، بابر اعظم، فخر زمان، حسن علی، عماد وسیم، محمد حفیظ، محمد حسنین اور شاہین شاہ آفریدی پر مشتمل تھی۔

جبکہ انگلینڈ کی ٹیم آئن مورگن کی کپتانی میں عادل رشید، جیمز وینس بین سٹوکس، کرس وؤکس، ڈیوڈ ویلی، جو رُوٹ، جونی بئرسٹو، جاس بٹلر، ٹام کورین اور معین علی پر مشتمل تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں