وراٹ کوہلی کے لیے انڈیا کو تیسرا ورلڈ کپ جتوانا کتنا مشکل ہے؟

کوہلی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پانچ جون سنہ 2019 وہ تاریخ ہے جس دن انڈین ٹیم کرکٹ ورلڈ کپ کے اپنے سفر کا آغاز کرے گی۔ انڈین ٹیم اپنا پہلا میچ جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گی۔

انڈین ٹیم کے پرستاروں کو ٹرافی کے سوا کوئی دوسری چیز خوش نہیں کر سکتی۔ ٹیم پر ان کے بھروسے اور فتح کے لیے ان کی بے قراری کی وجہ بھی ہے اور وہ وجہ وراٹ کوہلی ہے۔

'وراٹ کوہلی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں شعبوں میں دنیا کے نمبر ایک بیٹسمین ہیں'۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وون نے ان کی یہ تعریف اس وقت کی تھی جب انڈیا نے سنہ 2017 میں انگلینڈ کے خلاف ون ڈے میں 351 رنز کا ہدف کامیابی کے ساتھ حاصل کیا تھا۔

ابھی حال ہی میں انگلینڈ کے سابق آل راؤنڈر اور سنہ 2019 آئی سی سی ورلڈ کپ کے سفیر اینڈریو فلنٹوف نے کہا کہ وراٹ کوہلی سچن ٹینڈولکر سے بھی بہتر کھلاڑی ہیں، شاید آل ٹائم بیسٹ!

اس بہترین کھلاڑی اور کپتان سے کروڑوں پرستاروں کی توقعات وابستہ ہیں کہ ایک بار پھر ورلڈ کپ انڈیا کا ہوگا۔

لیکن ان بلندیوں تک پہنچنے کے لیے وراٹ کا سفر آسان نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیے

وراٹ کوہلی نے سچن کا ریکارڈ برابر کر دیا

’انڈیا 2019 کا عالمی کپ جیتنے کے لیے فیورٹ ہے‘

وراٹ کوہلی کے نئے ریکارڈز کا سلسلہ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بے مثال جذبہ

وراٹ کوہلی دہلی کے ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ والد پریم کوہلی کا خواب تھا کہ وراٹ ایک عظیم کرکٹر بنے اور انڈیا کی نمائندگی کرے۔ انھوں نے کوہلی کو دہلی میں کوچ راجکمار شرما کی اکیڈمی میں ڈال دیا۔

وراٹ کی لگن اور کوچ کی محنت رنگ لائی اور انھوں نے کامیابی کے زینے چڑھتے ہوئے دلی کی رنجی ٹیم میں جگہ حاصل کی۔ پھر جو ہوا اس نے راتوں رات ایک نوجوان کھلاڑی کو پختہ کار کھلاڑی بنا دیا۔

دلی کا رنجی میچ کرناٹک کی ٹیم کے ساتھ تھا۔ دلی کی ٹیم کی حالت خراب تھی اور میچ کو بچانا مشکل تھا۔ کرناٹک کے 446 رنز کے جواب میں، دلی نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 103 رنز بنا کر دن کا کھیل ختم کیا۔ وراٹ 40 رنز پر کھیل رہے تھے۔ لیکن گھر پر حالات درست نہیں تھے۔ دراصل والد پریم کوہلی کچھ دنوں سے بیمار تھے اور اس رات ان کا انتقال ہو گيا۔

کوچ راجکمار شرما نے 'وراٹ کوہلی: دی میکنگ آف اے چیمپیئن' نامی کتاب لکھتے وقت ہمیں ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ اس وقت آسٹریلیا میں تھے جب ان کے پاس وراٹ کا فون آیا۔

انھوں نے کہا: 'وراٹ فون پر رو رہا تھا، اس نے کہا کہ ایسا واقعہ ہو گیا ہے اور اسے کیا کرنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ تم کیا کرنا چاہتے ہو۔ اس نے کہا کہ وہ کھیلنا چاہتا ہے۔ میرا جواب تھا کہ پھر وہی کرو۔ پھر فون آیا اور وہ دوبارہ رو رہا تھا۔ اس نے کہا کہ امپائر نے اسے غلط آؤٹ قرار دیا ہے۔'

وراٹ نے دلی کے وکٹ کیپر بیٹسمین پونیت بشٹ کے ساتھ ایک بڑی شراکت داری کی اور دلی کو مشکل صورتحال سے باہر نکال لیا۔ وہ بھی اس صبح جب ان کے والد، مشیر اور گائیڈ کا اسی رات انتقال ہو گیا تھا۔

کرکٹ کے لیے ایسا جذبہ ہی وراٹ کوہلی جیسا چیمپئن بناتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رن چیز کا ماہر

وراٹ کو انڈیا انڈر 19 ٹیم کی کپتانی ملی اور انھوں نے اس ٹیم کے ساتھ انڈر-19 ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی۔

اب انڈین ٹیم میں ان کی شمولیت بہت طویل عرصے تک روکی نہیں جا سکتی تھی۔ سنہ 2008 میں انھوں نے سری لنکا کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا اور ایک شاندار بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا۔

ون ڈے میچوں میں وراٹ نے ایک کے بعد ایک ریکارڈ بنانا شروع کر دیا۔ خاص طور پر ہدف کا پیچھا کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔

ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے، کوہلی نے 84 میچز میں 21 سینچری کے ساتھ 5000 سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ ان میں سے 18 سنچریاں انڈیا کی جیت میں معاون رہیں۔

ون ڈے کرکٹ میں شاید ہی کوئی کھلاڑی ایسا ہو جس کا ریکارڈ وراٹ سے بہتر ہو۔

ون ڈے میں کوہلی

میچ 227
اننگز 219
رنز 10843
اوسط 57۔59
سٹرائک ریٹ 96۔92
نصف سنچری 49
سنچری 41

جس رفتار سے وراٹ رنز بنا رہے ہیں ماہرین کا خیال ہے کہ جب وہ کرکٹ کو خیرباد کہیں گے تو زیادہ تر بیٹنگ ریکارڈ ان کے نام ہوں گے۔

بطور خاص وہ جس طرح سنچریاں بنا رہے ہیں۔ انھوں نے اب تک 49 نصف سنچری اور 41 سنچری بنائی ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنی دیر وکٹ پر رکنتے ہیں اور تقریباً ہر دوسرے پچاس کو سنچری میں بدل دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تیسرا موقع

وراٹ کوہلی کا یہ تیسرا ورلڈ کپ ہوگا۔ انھوں نے سنہ 2011 میں پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کی اور 21 سال کی عمر میں عالمی چیمپئن بھی بن گئے۔

انھوں نے بنگلہ دیش کے خلاف سنچری سکور کی اور وریندر سہواگ کے ساتھ 200 رنز کی شراکت داری کی۔ فائنل میں کوہلی نے گوتم گمبھیر کے ساتھ 85 رنز کی اہم شراکت داری کی۔

سنہ 2015 کا ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا تھا۔ کوہلی نے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کے خلاف 126 گیندوں میں 107 رنز بنائے ہیں اور انڈیا کو 76 رنز سے کامیابی ملی۔

کوہلی نے اس ٹورنامنٹ میں کئی اہم اننگز کھیلی جس کی مدد سے انڈیا اپنے گروپ میں سرفہرست آیا۔ لیکن سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف کوہلی صرف ایک رنز ہی بنا سکے اور انڈیا کو شکست ہوئی۔

انگلینڈ کا ورلڈ کپ کوہلی کے تیسرا ورلڈ کپ ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Icc

کوہلی گذشتہ چند برسوں سے بہترین فارم میں ہیں اور ان کے بیٹ سے رنز کے انبار لگا رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ وہ اپنے کریئر کے بلند ترین مقام پر ہیں۔ اور ان کی ٹیم بھی متوازن نظر آ رہی ہے جس میں تجربہ کار اور نوجوان قوت کا اہم توازن ہے۔

ان کی ٹیم میں مہندر سنگھ دھونی بھی شامل ہیں جو شاید آخری ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں۔

کیا کوہلی کی ٹیم آئی سی سی ورلڈ کپ 2019 حاصل کر پائے گی؟ اگر آپ انڈین شائقین سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ ورلڈ کپ صرف کوہلی اور انڈیا کا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں