کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ کے دس یادگار میچ

ورلڈ کپ کی تمام کمزوریوں کے باوجود اس ٹورنامنٹ کے پچھلے 11 ایڈیشنز کے دوران ہمیں انتہائی دلچسپ میچ دیکھنے کو ملے ہیں۔

بی بی سی ورلڈ سروس پر سٹمپڈ نامی پروگرام پیش کرنے والے ایلیسن مچل، جم میکسویل اور چارو شرما نے دس ایسے ورلڈ کپ میچوں کی فہرست بنائی ہے جن میں ناقابلِ یقین اپ سیٹ، سنسنی خیز اختتام اور ایسے میچ جن کی اہمیت کرکٹ سے کہیں زیادہ تھی۔

آیئے ہم آپ کو سٹمپڈ ٹیم کی طرف سے بنائی گئی ورلڈ کپ کے دس عظیم میچوں کی فہرست بتاتے ہیں تاکہ آپ کی ان میچوں سے جڑی یادیں تازہ ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیے!

کرکٹ ورلڈ کپ ٹرافی کے بدلتے رنگ

وہ میچ جہاں سے کرکٹ ورلڈ کپ کا سلسلہ شروع ہوا

’پاک انڈیا میچ کا فیصلہ مودی نہیں، مرڈوک کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کلائیو لائیڈ کی شاندار سینچری اور ووین رچرڈز کی بہترین فیلڈنگ شاید اس میچ کے دو اہم لمحات تھے

1. آسٹریلیا بمقابلہ ویسٹ انڈیز

فائنل، کرکٹ ورلڈ کپ 1975

سب سے پہلے ورلڈ کپ فائنل میچ میں دنیائے کرکٹ کے چند عظیم ٹیسٹ کرکٹرز نے شرکت کی۔ یہ میچ انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز تھا اور کرکٹ کے کھیل کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔

کلائیو لائڈ کی شاندرار سینچری اور ووین رچرڈز کی بہترین فیلڈنگ شاید اس میچ کی دو اہم لمحات تھے لیکن آسٹریلوی ٹیم نے بھی اسے یاد گار بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

آسٹریلوی ٹیم کے کھلاڑی ڈینس للی اور جیف تھامسن کی آخری وکٹ کی غیر معمولی شراکت کی بدولت آخری دو اوورز میں بھی میچ آسٹریلیا کے ہاتھوں سے نکلا نہیں تھا لیکن ڈیرک مرے کی غلطی کی وجہ سے تھامسن رن آؤٹ ہو گئے اور ہزاروں ویسٹ انڈین شائقین نے خوشی کے مارے لارڈز کے میدان پر چڑھائی کر دی۔

آسٹریلوی کپتان این چیپل کا کہنا تھا ’یہ کرکٹ کے لیے بہت اچھا دن تھا۔ ٹورنامنٹ کی دو بہترین ٹیموں نے فائنل تک رسائی حاصل کی اور ایک دلچسپ میچ کھیلا گیا۔ میں نے اس وقت یہی سوچا تھا کہ کرکٹ ورلڈ کپ کا سلسلہ قائم رہے گا۔‘

کلائیو لائڈ کا اس میچ کے حوالے سے کہنا تھا ’ہم نے مداحوں کو خوش کیا۔ یہ ایک اچھا دن تھا، یقیناً ایک انتہائی دلچسپ میچ بھی اور ہم نے اس کا خوب لطف اٹھایا۔ ان دنوں عام افراد بھی ٹکٹ خرید کر میچ دیکھ سکتے تھے جس کے باعث بہت سارے ویسٹ انڈین شائقین اس دن گراؤنڈ میں موجود تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس جیت کی بدولت ہمارے روشن دور کا آغاز ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب تک ڈونلڈ کو بھاگنے کا خیال آیا، آسٹریلیا کے ڈیمین فلمنگ گیند وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ کی جانب پھینک چکے تھے

2. آسٹریلیا بمقابلہ جنوبی افریقہ

سیمی فائنل، کرکٹ ورلڈکپ 1999

20 سال بعد بھی کرکٹ کے مداح یہ میچ اور اس کا غیر معمولی اختتام دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کو یہ میچ جیتنے کے لیے آخری اوور میں صرف نو رنز درکار تھے۔ سنہ 1999 کے ورلڈ کپ کے بہترین کھلاڑی لانس کلوزنر اس وقت وکٹ پر موجود تھے جبکہ جنوبی افریقہ کے نو کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ لیکن جب کلوزنر نے اوور کی پہلی دو گیندوں پر دو چوکے مارے تو جنوبی افریقہ کی فتح یقینی نظر آ رہی تھی۔

لیکن اچانک جنوبی افریقہ کی ٹیم بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔ ایلن ڈونلڈ اوور کی تیسری گیند پر رن آؤٹ ہونے سے بال بال بچے لیکن اگلی گیند پر وہ ہوا جس کا کسی کو گمان بھی نہیں تھا۔ کلوزنر نے مڈ آن کی جانب شاٹ کھیلی اور وہ رن لینے کے لیے دوڑ پڑے۔ ایلن ڈونلڈ جو پچھلی گیند کے بعد سہم چکے تھے اپنی کریز میں ہی کھڑے رہے۔

جب تک انھیں بھاگنے کا خیال آیا، آسٹریلیا کے ڈیمین فلیمنگ گیند وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ کی جانب پھینک چکے تھے جنھوں نے شاید کرکٹ کی تاریخ کا سب سے یاد گار رن آؤٹ کیا تھا۔

فلیمنگ نے اس تاریخی میچ کو یاد کرتے ہوئے بتایا ’مجھے نہیں یاد کہ لانس نے بھاگنے سے پہلے (ڈونلڈ کو) آواز دی ہو لیکن وہ (گیند پھینکتے ہی) سرپٹ دوڑنے لگے۔ گیند میرے دائیں ہاتھ کے قریب تھی جس کی وجہ سے ڈونلڈ اپنی کریز میں ہی رکے رہے۔ پھر میں نے گیند ایڈم گلکرسٹ کی طرف 1 سینٹی میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اچھال دی۔‘

’گلی نے آخرکار اسے پکڑ کر سٹمپس پر مار دیا اس کے بعد تو ہم خوشی سے نہال ہو گئے، شاید ہم اس لیے یہ کھیل کھیلتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آئر لینڈ نے انگلینڈ کو 2011 کے ورلڈکپ میں اپ سیٹ شکست دی

3. انگلینڈ بمقابلہ آئرلینڈ

کرکٹ ورلڈکپ 2011

دو مارچ سنہ 2011 کو بنگلور کے وانکیڈے سٹیڈیم میں ایک گلابی بالوں والے آئرش مین نے ایک حیرت انگیز اننگز کھیلی جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں کھیلی جانے والی بہترین اننگز میں سے ایک ہے اور جس نے انگلینڈ کے خلاف انھیں مشہور کامیابی دلوائی۔

کیون او برائن کی 50 گیندوں کی مدد سے بنائی جانے والی سینچری کسی بھی صورت حال میں ایک بہترین اننگز سمجھی جاتی لیکن اس کی اہمیت میں مزید اضافہ تب ہوا جب آئرلینڈ کی ٹیم 111 رنز پر پانچ کھلاڑی کھو بیٹھی تھی۔

اس کے بعد جو ہوا اسے طاقت اور مہارت کی اعلیٰ مثال کہا جا سکتا ہے۔ او برائن نے ایک ایسی بولنگ کو پچھاڑا جس میں سٹورٹ براڈ، گریم سوان اور جیمز اینڈرسن شامل تھے۔ آئرلینڈ نے 328 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف مقررہ 50 اوورز کی آخری اوور کی پہلی ہی گیند پر حاصل کر لیا۔

او برائن نے اس میچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’یہ ان دنوں میں سے ایک تھا جب میں جو بھی شاٹ کھیلتا وہ بلے کے بیچ میں لگتی تھی اور جب ایسا نہ ہوتا تو گیند فیلڈر کے سر کے اوپر سے گزر جاتی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس اننگز کے دوران قسمت بھی مجھ پر کرم فرما تھی، انگلینڈ کے کپتان اینڈریو سٹراس نے میرا کیچ تب چھوڑا جب میں 91 رنز پر کھیل رہا تھا۔ آپ کو ایسے بڑے ٹورنامنٹس میں قسمت چاہیے ہوتی ہے اور اس دن قسمت میرے اور میری ٹیم کے ساتھ تھی۔`

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آخری اوور میں دو گیندوں پر پانچ رنز درکار تھے جب ایلیٹ نے ڈیل سٹین کو ایک لمبا چھکا مار کر نیوزی لینڈ کی فائنل تک رسائی یقینی بنا دی

4. نیوزی لینڈ بمقابلہ جنوبی افریقہ

سیمی فائنل، کرکٹ ورلڈ کپ 2015

یہ سیمی فائنل اپنے اتار چڑھاؤ اور میچ کی تیزی سے بدلتی صورت حال کے باعث یاد گار رہا اور اس میچ کا فیصلہ عین آخری اوور میں جا کر ہوا۔

بارش سے متاثرہ یہ میچ 43 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔ 298 رنز کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کے شائقین کو اس وقت یقینی شکست محسوس ہونے لگی جب ان کے چار کھلاڑی 22 ویں اوور میں 149 رنز پر پولین لوٹ چکے تھے۔ ایسے میں گرانٹ ایلیٹ اور کوری اینڈرسن کی شراکت کی بدولت نیوزی لینڈ کی اننگز کو استحکام ملا۔ ایڈن پارک کے گراؤنڈ میں ہونے والے میچ میں نیوزی لینڈ کو ہوم کراؤڈ کا فائدہ حاصل تھا جو ہر رن پر اپنی ٹیم کو داد دے رہے تھے۔

آخری اوور میں دو گیندوں پر پانچ رنز درکار تھے جب ایلیٹ نے ڈیل سٹین کو ایک لمبا چھکا مار کر نیوزی لینڈ کی فائنل تک رسائی یقینی بنا دی۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ نیوزی لینڈ نے ورلڈکپ کے فائنل میں جگہ بنائی۔

ایلیٹ نے آکلینڈ کی اس یادگار شام کو یاد کرتے ہوئے کہا ’اس وقت میں شدید دباؤ میں تھا، ایسا شاید میرے کریئر میں پہلے کبھی نہیں ہوا ہو۔ میں ایک ایسی صورت حال میں تھا جب میں ایک لمحے میں ہیرو یا زیرو بن سکتا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’میں اس میچ کو آخری گیند تک نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اس لیے مجھے جہاں بھی گیند ملتی میں اسے مارنے کی کوشش کرتا۔ میری خوش قسمتی کے مجھے یہ گیند اچھی جگہ پر ملی اور اس کے بعد جو بھی ہوا وہ میرے لیے تسکین کا باعث تھا۔‘

’یہ ایک بہت اچھا احساس تھا کہ ہم ایک ایسا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جو ٹورنامنٹ کے شروعات میں ناممکن لگ رہا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے!

بھلا کرکٹ کا سیاست سے کیا تعلق؟

’ویلکم بیک پاکستان کرکٹ‘

’پاکستان کرکٹ کی ستے خیراں‘

’شکریہ شاہد آفریدی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گوتھم گمبھیر کے 97 رنز کی اننگز دھونی کے اس چھکے کے سامنے مرجھا جاتی ہے جس کی بدولت انڈیا نے ورلڈ کپ اپنے نام کیا

5. سری لنکا بمقابلہ انڈیا

کرکٹ ورلڈ کپ 2011

اس ورلڈکپ فائنل میں انڈیا نے سری لنکا کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے کر اپنی کرکٹ کی دیوانی عوام کو اپنی سرزمین پر ورلڈ کپ کا تحفہ دیا۔

سری لنکا کے 274 رنز کے تعاقب میں انڈیا کی ٹیم سست روی اور مشکلات کا شکار تھی۔ ایسے موقع پر کپتان ایم ایس دھونی توقعات کے برعکس پانچویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے اور اپنی ٹیم کی پوزیشن مستحکم کی۔

گوتھم گمبھیر کے 97 رنز کی شاندار اننگز دھونی کے اس چھکے کے سامنے مرجھا گئی جس کی بدولت انڈیا نے ورلڈکپ اپنے نام کیا۔ اس چھکے کے بعد ممبئی کے وانکیڈے سٹیڈیم میں جشن کا سماں تھا۔

کوچ گیری کرسٹن کا کہنا تھا ’وہ ایک ناقابلِ یقین لمحہ تھا، اور میرے انڈین ٹیم کے ساتھ تین سال کے بہترین سفر کا شاندار اختتام ہوا۔’

ان کا مزید کہنا تھا ’انڈین کھلاڑی بہت باصلاحیت تھے اور ہمارا کام ان کو ایک منصوبہ دینا تھا۔ ورلڈکپ سے پہلے ہماری کارکردگی میں تسلسل نہیں تھا لیکن ورلڈ کپ کے دوران سب کچھ بہت خوش اصلوبی سے ہوا اور ہر کھلاڑی نے اپنا کردار ادا کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے کپتان کپل دیو میدان میں اترے اور میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ انھوں نے 138 گیندوں پر شاندار 175 رنز بنائے

6. انڈیا بمقابلہ زمبابوے

کرکٹ ورلڈ کپ 1983

اس میچ کو کپل دیو کا میچ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ میچ کبھی ٹیلی ویژن پر نشر نہیں کیا گیا لیکن ٹنبرج ویلز کے کنیر کے پودوں کے بیچ بیٹھے شائقین اسے کبھی بھول نہیں پائیں گے۔

ورلڈکپ مقابلوں میں زمبابوے کی ٹیم پہلی مرتبہ شرکت کر رہی تھی۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انڈیا کے 17 رنز پر پانچ کھلاڑی آؤٹ ہو گئے تھے۔

لیکن پھر انڈیا کے کپتان کپل دیو میدان میں اترے اور میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ ان کے 138 گیندوں پر 175 رنز کی شاندار اننگز کی بدولت انڈیا نے زمبابوے کو 266 رنز کا ایک بڑا ہدف دے دیا جس کے بعد انڈیا کی جیت یقینی ہو گئی۔

کپل دیو کے جارحانہ کھیل کو قریب سے دیکھنے والے زمبابوے کے وکٹ کیپر ڈیو ہوگٹن کا کہنا تھا ’جب ہم 40 اوورز کے بعد کھانے کے وقفے پر گئے تو انڈیا کے 100 رنز پر سات کھلاڑی آؤٹ تھے۔ تب تک میچ ہمارے قابو میں تھا لیکن پھر کپل دیو نے اچانک جارحانہ کھیل پیش کرنا شروع کر دیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ایسا نہیں ہے کہ ہم نے ان کا کوئی کیچ چھوڑا ہو یا وہ آؤٹ ہونے سے بال بال بچے ہوں، کپل نے ہمیں کوئی موقع ہی نہیں دیا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ انھوں نے کوئی غلط شاٹ کھیلی ہو۔ وہ جو شاٹ بھی کھیلتے وہ گولی کی مانند گھاس کو چیرتی ہوئی گزرتی یا میزائل کی طرح گراؤنڈ سے باہر چلی جاتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسٹریلیا نے سنہ 1987 میں پہلی بار ورلڈ کپ میں فتح حاصل کی

7. آسٹریلیا بمقابلہ انڈیا

کرکٹ ورلڈکپ 1987

انڈیا کے شہر چنائی نے ورلڈ کپ 1987 کے اس میچ میں ایسا سنسنی خیز اختتام دیکھا جو اس سے پہلے ورلڈ کپ مقابلوں میں دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ آسٹریلیا نے دفاعی چمیپیئن انڈیا کو اس ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں ایک رن سے شکست دی تھی۔

انڈیا کو میچ جیتنے کے لیے 271 رنز کا ہدف حاصل کرنے کے لیے دو گیندوں پر دو رن چاہیے تھے۔ ایسے میں نوجوان سٹیو وا نے مہندر سنگھ کو آؤٹ کر کے میچ جیت لیا۔

آسٹریلیا کو یہ جیت نصیب نہ ہوتی اگر ڈین جونز نے ایک غلطی کی تصحیح کرنے پر زور نہ دیا ہوتا۔

ڈین جونز بتاتے ہیں ’میں نے مہندر سنگھ کو سیدھا چھکا مارا اور روی شاستری باؤنڈری پر موجود تھے۔ دیکھنے سے صاف ظاہر تھا کہ گیند ان کے ہاتھ کے اوپر سے ہوتی ہوئی باؤنڈری پار کر گئی ہے لیکن روی نے کہا کہ نہیں یہ چار رنز ہیں۔‘

’میں نے امپائر ڈکی برڈ کی طرف دیکھا تو انھوں نے کہا کہ انھیں فیلڈر کی بات ماننی پڑے گی۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’اس کے کچھ ہی دیر بعد میں آؤٹ ہو گیا اور سیدھا میچ ریفری حنیف محمد کے پاس گیا۔ جب میں نے انھیں شکایت کی تو انھوں نے کہا کہ ہم یہ معاملہ اننگز کے اختتام پر دیکھیں گے۔‘

ڈکی برڈ اننگز کے وقفے میں انڈین ڈریسنگ روم میں داخل ہوئے اور روی ساشتری کو ایک اور موقع دیا۔ تب انھوں نے کہا کہ آپ انھیں چھ رنز دے دیں جس کے بعد سکور 268 سے تبدیل کر کے 270 کر دیا گیا۔

ڈین جونز نے کہا ’مجھے نہیں معلوم کہ ایسا پہلے کبھی ہوا ہے یا نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کپتان ارجنا راناٹنگا نے گلین مک گرا کی گیند کو تھرڈ مین کی طرف کھیل کر آخری رنز بنائے اور پھر جشن منانے لگے

8. آسٹریلیا بمقابلہ سری لنکا

کرکٹ ورلڈکپ 1996

ایک اور فائنل میچ کی روداد جس میں سری لنکا نے آسٹریلیا کو ہرا کر ایک بڑا اپ سیٹ کر دیا۔ آئی سی سی کے مستقل رکن بننے اور ٹیسٹ سٹیٹس ملنے کے 15 سال بعد قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے اس میچ میں سری لنکا ورلڈ چمپیئن بن گیا۔

اروندا ڈی سلوا بہترین بلے بازی اور بولنگ کی بدولت سری لنکا کی طرف سے بہترین کھلاڑی رہے۔ انھوں نے تین وکٹوں کے ساتھ 107 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

کپتان ارجنا راناٹنگا نے گلین مک گرا کی گیند کو تھرڈ مین کی طرف کھیل کر آخری رنز بنائے اور پھر جشن منانے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان نے اس ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کو ’دیوار سے لگے ہوئے چیتوں‘ کی طرح لڑنے کی تربیت دی تھی

9. انگلینڈ بمقابلہ پاکستان

فائنل، ورلڈ کپ 1992

یہ پاکستان کی ورلڈ کپ میں پہلی فتح تھی۔ عمران خان نے اس ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کو ’دیوار سے لگے ہوئے چیتوں‘ کی طرح لڑنے کی تربیت دی تھی اور اس فائنل میچ میں وسیم اکرم نے اسی بات سے متاثر ہو کر انگلینڈ پر کاری ضرب لگائی۔

پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو جیت کے لیے 249 رنز کا ہدف دیا۔ یہ مجموعی ہدف عمران خان، جاوید میانداد کی نصف سنچریوں اور انضمام الحق کی جارحانہ بیٹنگ کے باعث بنا۔

انگلینڈ نے اپنی اننگز شروع کی تو ان کا آغاز اچھا نہیں تھا اور 69 رنز پر ان کے چار کھلاڑی پولین لوٹ چکے تھے۔ پھر ایلن لیمب اور نیل فیئربردر کی 72 رن کی شراکت کی بدولت انگلینڈ ایک مستحکم پوزیشن میں آ گیا لیکن وسیم اکرم کی تباہ کن بولنگ کے نتیجے میں ایلن لیمب اور کرس لیوس آؤٹ ہو گئے اور انگلینڈ کو تیسری دفعہ ورلڈ کپ کے فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس شاندار جیت کو یاد کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا ’جب ہم لاہور پہنچے تو جہاں عام طور پر آپ 20 منٹ میں پہنچتے ہیں وہاں ہماری بس کو سات گھنٹے لگے۔‘

’گلیاں شائقین سے بھری ہوئی تھیں، یہ ایک خواب کی طرح تھا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی کچھ ایسا نہیں دیکھا اور شاید آئندہ بھی کبھی نہ دیکھوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ووین رچرڈز کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں لڑکھڑا گئی اور دو دفعہ عالمی چمپیئن رہنے والی ویسٹ انڈیز مسلسل تیسری مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام نہ کر سکی

10. انڈیا بمقابلہ ویسٹ انڈیز

فائنل، ورلڈ کپ 1983

کرکٹ کے کھیل میں سب سے دلچسپ میچ وہ ہوتا ہے جس میں ایک ٹیم کا مجموعی سکور کم ہوتا ہے اور اس ہدف کے تعاقب میں دوسری ٹیم بھی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ آج سے 36 برس قبل کرکٹ کے عالمی کپ میں ہوا۔

ویسٹ انڈیز کے تباہ کن بولنگ اٹیک نے انڈیا کے بلے بازوں کو سونگ، سیم اور تیز رفتار بولنگ کی مدد سے گھیر لیا۔ اینڈی رابرٹس نے تین، میلکم مارشل اور مائیکل ہولڈنگ نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ انڈین ٹیم صرف 184 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

ووین رچرڈز کی ٹیم اس ہدف کے تعاقب میں لڑکھڑا گئی اور دو مرتبہ عالمی چمپیئن رہنے والی ویسٹ انڈیز مسلسل تیسری مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام نہ کر سکی۔

مدن لال اور موہندر امرناتھ نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کی بہترین ٹیم کو لارڈز کے 30,000 شائقین کی موجودگی میں دھول چٹائی۔

اسی بارے میں