کرکٹ ورلڈ کپ 2019: عالمی کپ سے محروم رہنے والے بڑے کھلاڑی کون ہیں؟

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیا اس بار جو رووٹ اور انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ جیت پائے گی؟

ورلڈکپ جیتنا یقیناً آسان نہیں ہے۔ مایہ ناز انڈین بلے باز سچن تندولکر سے ہی پوچھ لیں۔ اس عظیم شخص کو ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھانے کے لیے چھ بار کوشش کرنا پڑی۔

سچن تندولکر نے 1989 میں ایک روزہ میچوں میں ڈیبیو کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بن گئے۔

لیکن اپنے 23 سالہ طویل کیریئر میں انھوں نے چھ ورلڈ کپ کھیلے جن میں سے پہلے پانچ میں وہ انڈیا کو عالمی کپ دلانے میں ناکام رہے۔ لیکن 2011 کے ورلڈ کپ میں یہ ٹائٹل انڈیا کے نام ہوا۔ یہ سچن کے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ تھا۔

مزید پڑھیں

کرکٹ ورلڈ کپ ٹرافی کے بدلتے رنگ

10 ملین ڈالر کا ورلڈ کپ

’شکریہ شاہد آفریدی‘

اگر ہم کرکٹ کے عالمی کپ کی مختصر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں مختلف ادوار میں کچھ ٹیمیں کرکٹ کی دنیا پر راج کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

ایک عرصے تک ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا نے دنیائے کرکٹ پر اپنی دھاک بٹھائے رکھی۔ ویسٹ انڈیز نے 70 کی دہائی میں پہلے دو ورلڈ کپ اپنے نام کیے جبکہ سنہ 1999 سے سنہ 2007 تک آسٹریلیا نے مسلسل تین دفعہ ورلڈکپ کی ٹرافی اٹھائی۔

اس پسِ منظر میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ان ادوار میں دوسری ٹیموں سے بہت سے ایسے عظیم کھلاڑی ہوں گے جنھیں یہ اعزاز نصیب نہیں ہوا۔ اس حوالے سے جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑی سب سے زیادہ بدقسمت رہے۔

آئی سی سی نے 10 ایسے عظیم کھلاڑیوں کی فہرست جاری کی ہے جو ورلڈکپ نہیں جیت سکے۔ ورلڈ کپ جیتنے کی مختصر فہرست میں ایسے بہت سے کھلاڑی شامل نہیں ہوسکے جن کا شمار دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔

جیسے جنوبی افریقہ کے بالر ایلن ڈونلڈ اور ویسٹ انڈیز کے کورٹنی واش اور کرٹلی ایمبروز۔ اسی طرح نیوزی لینڈ کے عظیم بلے باز مارٹن کرو اور پاکستان کے ظہیر عباس بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

اور انگلینڈ کی موجودہ ٹیم کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جو رووٹ، جوس بٹلر اور آئن مارگن نے پچھلے چار برسوں میں ایک روزہ کرکٹ میچوں میں انگلینڈ کا تسلط قائم رکھا ہے۔ کیا ان میں سے کسی کا نام اس فہرست میں آنے کے قابل ہے یا یہ بحث ابھی قبل از وقت ہے؟

ہر کسی کے اپنے پسندیدہ کھلاڑی ہوتے ہیں لیکن امید ہے کہ مندرجہ ذیل 10 ناموں کی قابلیت پر کسی کو شک نہیں ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انگلینڈ کے مایہ ناز بلے باز گراہم گووچ نے اپنے ایک روزہ کیریئر کا آغاز 1976 میں کیا

گراہم گوچ

انگلینڈ کے مایہ ناز بلے باز گراہم گوچ نے ورلڈ کپ جیتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انھوں نے تین ورلڈ کپ کے فائنل کھیلے اور سنہ 92 کے عالمی کپ میں اپنی ٹیم کی قیادت بھی کی لیکن ہر بار شکست ہی ان کا مقدر بنی۔

سنہ 1987 کے عالمی کپ میں گراہم گوچ نے ممبئی میں انڈیا کے خلاف سیمی فائنل میں عمدہ سنچری بنائی جس کی بدولت انگلینڈ کو فائنل تک رسائی حاصل ہوئی۔ یہ انگلینڈ کی طرف سے ورلڈ کپ میچوں میں کھیلی جانے والی بہترین اننگز میں سے ایک تھی۔

لسٹ اے میچوں میں گوچ نے 22,211 رنز بنائے ہیں جو کہ آج بھی ایک ریکارڈ ہے۔ گوچ نے اپنے ایک روزہ کیریئر کا آغاز 1976 میں کیا جبکہ اپنا آخری میچ سنہ 1995 میں کھیلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption این بوتھم انگلینڈ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک تھے

این بوتھم

بوتھم نے انگلینڈ کی طرف سے دو ورلڈ کپ کے فائنلز کھیلے۔ وہ انگلینڈ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک تھے اور اس پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ انھوں نے عالمی کپ کے دوران بھی کیا۔

بوتھم ہمیشہ سے ہی اچھی باؤلنگ کرتے تھے لیکن سنہ 1992 کے ورلڈکپ میں انھوں نے انتہائی عمدہ باولنگ کا مظاہرہ کیا۔

اس ٹورنامنٹ میں انھوں نے 10 میچوں میں 16 وکٹیں حاصل کیں جس کی بدولت انگلینڈ کی ٹیم فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کے علاوہ ان کی وجہ شہرت جارحانہ انداز سے بلے بازی کرنا بھی تھا۔ وہ بیٹنگ آرڈر میں شروع اور آخر میں تیز کھیلنے میں مہارت رکھتے تھے۔

بوتھم شاید ایک ایسے دور میں پیدا ہوئے جب کرکٹ میں عظیم کھلاڑیوں کی ریل پیل تھی جس کی وجہ سے وہ اتنی کامیابیاں نہیں سمیٹ سکے جس کے وہ شاید اصل حقدار تھے۔ شاید اگر وہ آج کے دور میں پیدا ہوتے تو نئے ریکارڈز بنا رہے ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وقار یونس کو پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کرانے کا موجد بھی کہا جاتا ہے

وقار یونس

ماضی کی ان تلخ یادوں کو دوبارہ سے تازہ کرنا آسان نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک تلخ یاد وقار یونس سے جڑی ہے جو بلاشبہ اپنے دور کے بہترین بولرز میں سے ایک تھے۔

وقار کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کا نام 1992 کی ورلڈ کپ ٹیم میں تو تھا اور وہ ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا بھی گئے لیکن زخمی ہونے کے باعث انھیں وطن واپس لوٹنا پڑا۔

پاکستان نے وہ ورلڈ کپ تو جیت لیا لیکن وقار کی یہ حسرت باقی رہی۔ انھوں نے اس کے بعد مزید تین ورلڈ کپس میں شرکت کی اور سنہ 1999 میں تو وہ اس ٹیم کا بھی حصہ تھے جو ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچی تھی لیکن جیت کا یہ خواب فقط ایک خواب ہی رہا۔

1992 کے ورلڈ کپ میں وسیم اکرم نے بہترین باؤلنگ کی اور ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن ان کے ساتھ باؤلنگ کروانے والے وقار یونس وہاں موجود نہیں تھے۔

وقار یونس کو پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کرانے کا موجد بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے خلاف اننگز کے آخری حصے میں جارحانہ انداز سے بلے بازی کرنا تقریباً ناممکن ہوتا تھا اور نئی گیند سے عمدہ باؤلنگ کرنے کی بدولت انھیں ’دی بورے والا ایکسپریس‘ بھی کہا جاتا تھا۔

وقار ایک روزہ میچوں کے بہترین بولر تھے۔ ان کے پاس اس فارمیٹ میں اننگز سب سے زیادہ پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سارو گنگولی نے اپنے مختصر کیریئر میں تین ورلڈ کپ کھیلے اور 2003 میں انڈیا کی اس ٹیم کی سربراہی کی جو ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی

سارو گنگولی

سارو گنگولی نے اپنے مختصر کیریئر کے دوران تین ورلڈ کپ کھیلے اور سنہ 2003 میں انڈیا کی اس ٹیم کی سربراہی کی جو ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی۔

ان کی انفرادی قابلیت پر تو کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ سنہ 2003 کے ورلڈ کپ کے دوران انھوں نے تین سنچریاں بنائیں۔ ان کی وجہ شہرت انڈیا کے نئے آنے والے کھلاڑیوں کی تربیت کرنا تھا۔

گنگولی ایک جارحانہ اور بے باک کپتان تھے جنھوں نے انڈیا کی ٹیم میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا۔ ان کی کپتانی میں انڈیا کی ٹیم ناصرف اپنے گھر میں بلکہ دنیا بھر میں ایک بہترین ٹیم بن کر سامنے آئی۔

سنہ 2007 کے ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے میں ناکامی کے بعد گنگولی نے ایک روزہ میچوں کو خیرباد کہہ دیا۔ لیکن بدقسمتی سے سنہ 2011 میں جب انڈیا نے ورلڈ کپ جیتا تو گنگولی اس ٹیم میں شامل نہیں تھے۔

لیکن گنگولی کا ورلڈ کپ کی تاریخ میں ریکارڈ لاجواب تھا۔ انھوں نے 22 ورلڈ کپ میچوں 55.88 کی اوسط سے 1006 رنز بنائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برائن لارا آج بھی سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں دسویں نمبر پر ہیں

برائن لارا

برائن لارا کے ٹیسٹ میچوں میں ریکارڈ تو کرکٹ کے تمام شائقین کو معلوم ہی ہیں۔

لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ پورٹ آف سپین کا شہزادہ ایک روزہ میچوں میں بھی ویسے ہی رنز بناتا تھا جیسے ٹیسٹ میچوں میں۔

ان سے پہلے بہت کم کھلاڑیوں نے ایک روزہ میچوں میں 10 ہزار سے زائد رنز بنائے تھے۔ آج بھی وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں دسویں نمبر پر ہیں۔

لارا نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 299 میچ کھیلے لیکن ان کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے انفرادی اننگز میں تین دفعہ 150 سے زائد رنز بنائے۔

لارا کا شمار دنیا کہ پرجوش ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ لارا نے دنیائے کرکٹ میں اس وقت قدم رکھا جب ویسٹ انڈیز اس پر راج کے آخری ادوار سے گزر رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کلوزنر ٹیسٹ میچوں کے بہترین کھلاڑی تھے لیکن 1999 کے ورلڈ کپ میں انھوں نے ایک روزہ میچوں میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا

لانس کلوزنر

لانس کلوزنر ’زولو‘ کے لقب سے جانے جاتے تھے کیونکہ وہ زولو زبان روانی سے بولتے تھے۔ لانس کلوزنر ایک اعلیٰ پائے کے آل راؤنڈر تھے۔

کلوزنر ٹیسٹ میچوں کے بہترین کھلاڑی تھے لیکن سنہ 1999 کے ورلڈ کپ میں انھوں نے ایک روزہ میچوں میں اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔

لیکن بدقسمتی سے جنوبی افریقہ کی ٹیم ایک انتہائی سنسنی خیز سیمی فائنل مقابلے کے بعد میچ برابر کرنے میں ہی کامیاب ہو سکا، جو اس کی فائنل تک رسائی کے لیے کافی نہیں تھا۔

سنہ 1999 کے ورلڈ کپ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پانے والے کلوزنر اپنی جارحانہ بیٹنگ اور نپی تلی باؤلنگ کی وجہ سے ایک اہم کھلاڑی گردانے جاتے تھے۔ سنہ 2000 میں انھیں کرکٹ میگزین وزڈن کی طرف سے سال کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

بیس بال کھیلنے والے انداز میں بلے بازی کرنے والے کلوزنر نے اس ورلڈ کپ کے بعد بھی تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھائی۔ ریٹائرمنٹ کے وقت ان کی بیٹنگ اوسط 41 جبکہ باؤلنگ اوسط 29 تھی۔

جس کے باعث ان کا شمار ناصرف جنوبی افریقہ بلکہ دنیا کے عظیم آل راؤنڈرز میں بھی ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption افسوس کی بات ہے کے جیک کیلیز سمیت جنوبی افریقہ کے دیگر عظیم کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ جیتنے کا موقع نہیں مل سکا

جیک کیلس

لانس کلوزنر کے بعد جنوبی افریقہ کے عظیم آل راؤنڈر جیک کیلس کا نام لینا ضروری ہے۔ کیلس نے ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں رنز اور وکٹوں کے انبار لگائے۔

انھوں نے ایک روزہ میچوں میں 273 وکٹیں حاصل کیں اور 11 ہزار سے زائد رنز بنائے۔ سری لنکا کے سنتھ جے سوریا کیلس کے بعد دنیا کے دوسرے ایسے آل راونڈر ہیں جنھوں نے 10 ہزار سے زائد رنز اور 250 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

کیلس نے اپنے کیریئر میں 17 سنچریاں اور 85 نصف سنچریاں بنائیں۔ وہ ہر صورتحال میں کھیلنے والے کھلاڑی تھے۔ ٹیم کی ضرورت کے مطابق وہ محتاط اور جارحانہ دونوں انداز سے کھیلتے تھے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جیک کیلس سمیت جنوبی افریقہ کے دیگر عظیم کھلاڑیوں کو بھی ورلڈ کپ جیتنے کا موقع نہیں مل سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنگا کارا کے انٹرنیشنل کیریئر کے اختتام پر صرف سچن ٹنڈولکر کے رنز ہی ان سے زیادہ تھے

کمارسنگاکارا

کمار سنگاکار نے جس انداز سے 2015 کے ورلڈ کپ میں ساندار پرفارمنس کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہا وہ ایک روزہ میچوں میں ان کی عظمت کو ثابت کرتا ہے۔

انھوں نے اس ٹورنامنٹ میں یکے بعد دیگرے چار سنچریاں بنائیں۔

بہت عرصہ تک وہ بیٹنگ کے ساتھ وکٹ کیپنگ کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے لیکن اپنے کیریئر کے اختتام پر انھوں نے وکٹ کیپنگ چھوڑ دی جس کے باعث وہ تیزی سے رنز بنانے لگے۔

اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے اختتام پر صرف سچن ٹنڈولکر کے رنز ان سے زیادہ تھے۔

ایک افسوس جو شاید انھیں ہمیشہ رہے گا وہ یہ کہ انھوں نے کبھی کوئی ورلڈ کپ نہیں جیتا۔ ورلڈ کپ 2007 اور 2011 کے فائنلز میں آنے کے باوجود سری لنکا کی ٹیم فتح سے ہمکنار نہ ہو سکی حالانکہ ان دونوں ٹورنامنٹس میں ان کی بیٹنگ اوسط 50 سے زائد رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اے بی ڈی ویلیرز اپنے بلے کے ساتھ وہ کچھ کر سکتے تھے جس کہ بارے میں کوئی اور بلے باز سوچ بھی نہیں سکتا

اے بی ڈی ویلیرز

اے بی ڈی ویلیرز اپنے بلے کے ساتھ وہ کچھ کر سکتے تھے جس کے بارے میں کوئی اور بلے باز سوچ بھی نہیں سکتا۔

ان کے کیریئر کی بیٹنگ اوسط 53.50 تھی جو انھیں عظیم کھلاڑیوں کی فہرست میں ڈالنے کے لیے کافی ہے، اور ان کا 100 سے زائد کا سٹرائک ریٹ بھی انھیں منفرد بناتا ہے۔ اس سب میں ان کی 31 گیندوں پر بنائی گئی تیز ترین سنچری صرف اعداد و شمار کی بنا پر انھیں عظیم بنا دیتی ہے۔

لیکن جب وہ بیٹنگ کرنے آتے تھے تو اعداد و شمار کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔

وہ ایسی شاٹس مارتے تھے جو کوئی اور نہیں مار سکتا تھا۔ وہ اننگز کے آخری حصے میں باؤلرز کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوتے تھے اور سیکنڈز میں مخالف ٹیم کے ہاتھوں سے جیتا ہوا میچ چھین لیتے تھے۔

وہ ٹینس، ہاکی اور گالف میں بھی مہارت رکھتے تھے جس کی وجہ سے انھیں وہ قوت، ٹائمنگ اور نفاست حاصل تھی جس کی بدولت وہ گراونڈ کے ہر کونے میں کھیل سکتے تھے۔

ڈی ویلیرز نے 2015 کے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کو سیمی فائنل میں فتح کے دہانے پر لا کھڑا کیا لیکن ہمیشہ کی طرح ان کی ٹیم ’چوک‘ کر گئی اور ڈی ویلیرز بغیر کوئی ورلڈ کپ جیتے کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہد آفریدی نے سنہ 1996 میں اپنی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے خود کو دنیا میں متعارف کروایا

شاہد آفریدی

کسی کو ’بوم بوم‘ کا لقب ایسے ہی نہیں مل جاتا۔

شاہد آفریدی نے سنہ 1996 میں اپنی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے خود کو دنیا میں متعارف کروایا۔ لیکن ان کا کیریئر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بطور کھلاڑی تبدیل ہوئے ہیں۔

ہاں وہ لمبے چھکے مارتے تھے اور سنہ 1996 میں 37 گیندوں پر تیز ترین سنچری بنانے کا ریکارڈ بہت عرصے تک ان کے نام رہا لیکن ساتھ ہی وہ اپنی لیگ سپن کی بدولت سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر بھی ہیں۔

اس سب میں آفریدی کی کپتانی بھی ملا دی جائے تو ان کا شمار ان عظیم کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے کرکٹ کے کھیل میں جدت ڈالی اور جس سے شائقین کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔

اسی بارے میں