کرکٹ ورلڈ کپ 2019: کیا پاکستانی بیٹنگ آج کل کی کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل پاکستان اور انڈیا کے مابین کھیلا گیا۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم بھی گراونڈ میں موجود تھے

پاکستان کرکٹ ٹیم کی افغانستان کے ہاتھوں وارم اپ میچ میں شکست نے پاکستانی شائقین کو ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ تنقید کا رُخ بالخصوص ٹیم کے کس شعبے کی جانب کیا جائے؟

البتہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ببیٹنگ وہ شعبہ ہے جس میں پاکستان دوسری ٹیموں کے مقابلے میں گذشتہ دو دہائیوں سے خاصا پیچھے ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین جہاں فیلڈنگ اور بولنگ پر کڑی تنقید کرتے رہے وہیں پاکستان کی بیٹنگ بھی اُن کے باؤنسرز کا سامنا کرتی رہی۔

ایک ایسے ہی تذبذب کا شکار صارف نے کہا کہ یہ نا انصافی ہے، جب پاکستان بیٹنگ کرتا ہے تو پچ بولنگ کے لیے سازگار ہوجاتی ہے اور جب بولنگ کرتی ہے تو بلے بازوں کے لیے پچ جنت کی مانند ہوجاتی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے آخری 10 ایک روزہ میچوں میں مسلسل ناکامی کا سامنا کر چکی ہے جس میں آسٹریلیا کے ہاتھوں وائٹ واش بھی شامل ہے۔ انگلینڈ کے خلاف کھیلی گئی سیریز میں بھی حیران کُن طور پر پاکستان نے تین میچوں میں 340 سے زائد رنز بنائے مگر پھر بھی فتح یاب نہ ہوسکے۔

مزید پڑھیے

پہلے وارم اپ میچ میں پاکستان کو افغانستان سے شکست

امام الحق چچا کی طرح ورلڈ کپ جیتنے کے خواہشمند

ان ناکامیوں کی وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو بیشتر تجزیہ کاروں سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ بولرز نے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

البتہ بی بی سی نے گذشتہ تین ورلڈ کپس میں بیٹنگ کے اعداد و شمار سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ٹیم کی ورلڈ کپ سے قبل تیاری اتنی غیر معیاری کیوں ہوتی ہے؟

ایک روزہ کرکٹ یقیناً ایک ارتقائی عمل سے گزری ہے۔ 90 کی دہائی میں 220 سے زائد ٹیم کا مجموی سکور ایک بہت اچھا سکور مانا جاتا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب باؤنڈریاں بڑی ہوتی تھیں اور بلوں کی پیمائش چھوٹی۔ سنہ 2007 کے ورلڈ کپ میں یہ رجحان تبدیل ہوتا دکھائی دیا اور ٹیموں کی بیٹنگ اوسط میں واضح بہتری آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2007 کا عالمی کپ کھیلنے والی پاکستان ٹیم

اُس وقت دنیائے کرکٹ کی بہترین ٹیموں کے پاس کم سے کم چار ایسے بلے باز موجود تھے ورلڈ کپ میں جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد تھی۔

ہم نے سنہ 2005 سے 2007 تک پاکستان ٹیم میں شامل ان بلے بازوں کی بیٹنگ اوسط کا جائزہ لیا جن کی اوسط 40 سے زائد تھی۔

پاکستانی بلے باز بیٹنگ اوسط (2005 سے 2007 تک)
محمد یوسف 42.75
انضمام الحق 42.50

پاکستان کی ورلڈ کپ 2007 کی ٹیم میں صرف دو کھلاڑی ایسے تھے جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد تھی۔ اگر دیگر دوسری ٹیموں پر نظر دہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم میں پانچ ایسے بلے باز موجود تھے جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد تھی۔

آسٹریلوی بلے باز بیٹنگ اوسط (2005 سے 2007 تک)
مائیکل ہسی 66.23
مائیکل کلارک 44.34
میتھیو ہیڈن 44.03
رکی پونٹنگ 43.75
اینڈریو سائمنڈز 41.66

تاہم آسٹریلیا کی اس ٹیم نے ورلڈ کپ 2007 کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔ اس لیے شاید ان سے موازنہ کرنا درست نہ ہو مگر اگر انڈیا اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کو بھی دیکھا جائے تو اُس دوران ان کے پاس تین یا اس سے زائد بلے باز ایسے تھے جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زیادہ تھی۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2011

جنوبی ایشیا میں ہونے والے 2011 کے ورلڈ کپ میں سپنرز نے ٹیموں کی اگلے مراحل کی رسائی تک اہم کردار ادا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2011 میں پاکستانی ٹیم سیمی فائل تک پہنچی تھی

پاکستان بھی اس ٹورنامنٹ میں سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوا جس میں بولنگ نے ایک کلیدی کردار ادا کیا جبکہ حسب معمول پاکستانی بیٹنگ نے ’انپریڈیکٹیبل‘ ہونے کا لقب سینے سے لگا لیا تھا۔

اُس ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم میں کوئی ایک کھلاڑی بھی ایسا نہیں تھا جس کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد ہو۔ پاکستان کی جانب سے بہترین بلے باز مصباح الحق تھے جن کی بیٹنگ اوسط 2009 سے 2011 تک 38.14 تھی۔

البتہ 2011 کے ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم پر نظر ڈالی جائے تو انڈیا کے پاس پانچ ایسے بلے باز تھے جن کی اوسط 40 سے زیادہ تھی۔

انڈین بلے باز بیٹنگ اوسط (2009 سے 2011 تک)
سچن تندولکر 57.47
مہندر سنگھ دھونی 53.51
ویرات کوہلی 48.80
گوتم گھمبیر 46.00
ویرندرا سہواگ 43.31

اس ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کو بھی ہاشم آملہ اور اے بی ڈیویلیرز کی خدمات حاصل تھیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم میں پانچ ایسے بلے باز شامل تھے جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد تھی۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2015

اس وقت تک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نے کرکٹ میں اپنا ایک مقام بنا لیا تھا اور شائقین کے لیے یہ ایک دلچسپ انداز کی کرکٹ تھی۔

اس کے اثرات اب ایک روزہ کرکٹ میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے تھے۔ بلے بازوں نے منفرد انداز کی شاٹس ایجاد کر لی تھیں۔ بیٹنگ اوسط سے زیادہ ٹیمیں اب سٹرائیک ریٹ پر توجہ دے رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2015 کے عالمی کپ میں ٹیم کے کپتان مصباح الحق تھے

اس ارتقا کا مطلب تھا کہ ٹیم کا مجموی سکور اب 300 کے لگ بھگ ہو تو اسے اچھا سکور تصور کیا جاتا تھا۔ پاکستان کی بیٹنگ اوسط کے حوالے سے یقیناً بہتری نظر آئی۔

پاکستانی بلے باز بیٹنگ اوسط (2013 سے 2015 تک) سٹرائک ریٹ
مصباح الحق 45.15 72.88
محمد حفیظ 41.59 83.58

پاکستانی ٹیم میں 2011 کی نسبت دو بلے باز ایسے تھے جن کی اوسط 40 سے زائد تھی مگر اسی دوران ان کا مقابلہ دنیا کے ایسے بلے بازوں کے ساتھ تھا جن کی اوسط تو اچھی تھی ہی مگر سٹرائیک ریٹ بھی شاندار تھا۔

بلے باز بیٹنگ اوسط (2013 سے 2015 تک) سٹرائیک ریٹ
اے بی ڈیویلیرز 60.28 107.60
ویرات کوہلی 52.13 97.34

سنہ 2013 سے 2015 تک کے اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ معیاری بلے بازوں کی اوسط 45 سے زائد ہونا ضروری ہوگیا اور 85 سے کم کا سٹرائک ریٹ معیوب سمجھا جانے لگا۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2019

پاکستانی بلے باز اب 40 کیا 50 کی بیٹنگ اوسط سے کھیل رہے ہیں مگر پھر بھی تنقید ہورہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کرکٹ کا بدلتا رجحان ہے جس میں 350 جیسا ہدف بھی ٹیمیں باآسانی پورا کر رہی ہیں۔

تاہم اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس پہلے تین بلے باز بہت مستحکم ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط شاندار ہے مگر فخر زمان کے علاوہ کسی بھی بلے باز کا سٹرائیک ریٹ قابل ستائش نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرفراز کی قیادت میں پاکستان نے سنہ 2017 میں چیمپئنز ٹرافی جیتی تھی

عماد وسیم اور آصف علی کا سٹرائیک ریٹ بین الاقوامی کرکٹ کے معیار پر پورا اترتا ہے تاہم ان کی بیٹنگ اوسط گدشتہ دو برس میں 40 سے کم ہے اور مزید یہ کہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ان دونوں کی جگہ کھیلنے والے 11 کھلاڑیوں میں آتی ہے کہ نہیں۔

پاکستانی بلے باز بیٹنگ اوسط (2017 سے 2019 تک) سٹرائیک ریٹ
امام الحق 60.30 81.58
بابر اعظم 51.47 82.76
فخر زمان 51.31 98.14

اس ٹورنامنٹ کے فیورٹ تصور کیے جانے والی انگلینڈ کی ٹیم میں جوس بٹلر، جونی بئیرسٹو جیسے کھلاڑی ہیں جن کا بیٹنگ سٹرائیک ریٹ 110 سے بھی زائد ہے جبکہ تقریباً دیگر تمام بلے بازوں کا سٹرائیک ریٹ 95 سے زائد ہے۔

ان اعداد و شمار سے یقیناً یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستانی ٹیم سیکھ تو رہی ہے مگر موجودہ وقت کی کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اعداد و شمار کی بنا پر تو نہ صرف ٹیم کو بلکہ پاکستانی شائقین کو فکر مند ہونا چاہیے۔

البتہ کچھ خوش فہمی سے متاثر شائقین اب بھی ٹیم سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔

ایک ایسے ہی صارف نے افغانستان سے شکست کا حوالے دیتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا کہ فکر مت کرو 1992 ورلڈ کپ کا بھی پہلا وارم اپ میچ ہارے تھے۔

پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ سے قبل آج آخری موقع ملے گا کہ وہ اپنے دوسرے وارم اپ میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف بہتر کارکردگی دکھا کر ٹیم کا اور شائقین کا اعتماد بحال کرسکیں۔

تاہم اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو قسمت پر یقین رکھنے والوں کو اس بات میں یقیناً دلچسپی ہوگی کہ 1992 ورلڈ کپ سے قبل پاکستان ایک نہیں دو وارم اپ میچ ہارا تھا۔

اسی بارے میں